پاکستان غیر ملکی فوٹو گرافر کی نظر میں

تصاویر: رائٹرز

پاکستان میں عدم استحکام ختم ہونے میں نہیں آرہا اور بیشتر شعبوں میں سماجی قدامت پسندی نظر آتی ہے تاہم اس ملک میں خواتین fatmaکو ہر شعبۂ زندگی میں آگے آنے کا موقع ملا ہے اور یہ پاکستان کے چہرے کا وہ رخ ہے جو اکثر خبروں یا میڈیا کی نظر سے غائب رہتا ہے۔

اپنے ایک فوٹو فیچر میں الجزائر سے تعلق رکھنے والی فوٹو گرافر زہرہ بینسمرہ کا کہنا ہے "پاکستان میں خوش آمدید، اٹھارہ کروڑ افراد کا ایسا ملک جہاں کے مختلف طبقات میں بہت زیادہ تضاد موجود ہے، یہاں کروڑ پتی افراد بھی ہیں، بھکاری بھی، بچیاں دلہنیں بن جاتی ہیں اور خواتین ایگزیکٹو بھی یہاں کام کرتی ہیں، طالبان اور انتہائی آزاد خیال افراد کی بھی کوئی کمی نہیں۔

بیشتر پاکستانی اپنے پیارے وطن کے بارے میں تشدد اور انتہا پسندی سے بھرپور خبروں کو دیکھ کر اشتعال محسوس کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مشکلات پیدا کرنے والے افراد کو ملکی چہرہ بگاڑنے کی اجازت دی جا رہی ہے"۔

زہرہ آفریدیInterior designer Zahra Afridi kicks a punching bag during a kickboxing training session at her home in Islamabad

        زہرہ آفریدی اپنی انٹرئیر ڈیزائن کمپنی چلا رہی ہیں جس کا ایک حالیہ پراجیکٹ اسلام آباد کا کلاسیک راک کافی کیفے تھا۔

ثناء میرMir, captain of Pakistan's women's cricket team, sits with a physical therapist and a team-mate during a training session in preparation for 2014 ICC World Twenty20 competition in Muridkay

پاکستان ویمین کرکٹ ٹیم کی کپتان ثناء میر نے نیشنل یونیورسٹی میں انجینئرنگ ڈگری کیلئے داخلہ لیا تھا مگر کرکٹ کے لیے انھوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔

فاطمہ قصوریEducationalist and model Fatima walks past the swimming pool after working out in her gym at her house in Lahore

تعلیم کی حامی ماڈل فاطمہ قصوری بیکن ہاﺅس پی دی ایل سی کی سی او او ہیں جبکہ ان کی ساس نے بیکن ہاﺅس سکول سسٹم کی بنیاد رکھی تھی۔

نادیہ منظورNaadiya Manzur, director of Treehouse Nursery and Kindergarten school, watches television with her husband Omar and son Zidaan at her house in Islamabad

نادیہ منظور اسلام آباد میں ٹری ہاﺅس نرسری اور کنڈر گارٹن سکول کی ڈائریکٹر ہیں۔

ارم احمد اور علینا رضاAleena Raza gets ready for a party in her dressing room in Lahore

ارم احمد ٹیکسٹائل برانڈ سو کمال کی چیف ایگزیکٹو ہیں، انھوں نے یہ برانڈ تین سال قبل متعارف کرایا تھا اور وہ فیصل آباد میں کام کرنے والی اپنی کمپنی میں خواتین کو ملازمتیں دینے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

ان کی بیٹی علینا رضا بھی اس برانڈ کو چلانے میں ان کی مدد کرتی ہے۔

زینب عباس

Pilates instructor Zainab Abbas smokes a cigarette as she sits with a friend after lunch in Lahore

زینیب عباس نے اپنا فٹنس سٹوڈیو روٹ ٹو پائلیٹس بینکاک میں تربیت حاصل کرنے کے بعد لاہور میں کھولا تھا، وہ گھٹنوں کے مسائل سے دوچار افراد کی حالت میں بہتری

کے لیے ورزش یا ورک آﺅٹ پلان پر کام کرتی ہیں، جبکہ حاملہ خواتین کے ورک آﺅٹ میں بھی انہیں مہارت حاصل ہے۔

انسہ حسن

انسہ حسن پورش پاکستان کی مارکیٹنگ منیجر ہیں

Ansa Hasan, a marketing manager at Porsche Pakistan, gestures as she prepares for an upcoming event, outside the Porsche showroom in Lahore

نازیہ پروین

Rock climber Nazia Parveen jokes with her trainer Imran Junaidi during their practice in Islamabad

کوہ پیما نازیہ پروین فاٹا کے علاقے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں خواتین کے بارے میں پائی جانے والی ذہنیت کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں اور اگر کوئی ہدف ذہن میں ہو تو خواتین بھی ہر کام کر سکتی ہیں۔

دیگر

Sarah smokes a water pipe as she sits with friends at her house in Islamabad

گیٹارسٹ اور سانگ رائٹر خرم وقار گلوکار عمیر جیسوال اور راحیل صدیقی  اور ڈرمر اسفندیار احمد ایک راک بینڈ قیاس سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اسلام آباد کے ایک نجی سٹوڈیو میں ریہرسلکررہے ہیں۔ اس بینڈ کو محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال موسیقی کے لیے زیادہ سازگار نہیں، اسی وجہ سے انہیں اکثر سکولوں، کالجوں یا نجی تقریبات تک ہی محدود رہنا پڑتا ہے۔


اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *