بھٹو صاحب کے جانشین اول – معراج محمد خان!

ضیا شاہدZia Shahid
پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے ساتھ ہی کراچی کے حوالے سے معراج محمد خان کا نام سامنے آیا جو بائیں بازو کے دانشور‘ مزدور دوست اور غریبوں کے حامی کے طور پر پہلے ہی سے مقامی طور پر شہرت پا چکے تھے۔ جوں جوں پاکستان پیپلز پارٹی آگے بڑھتی گئی خود بھٹو صاحب نے یہ اعلان کیا کہ سیاسی طور پر ان کے دوجانشین ہیں۔ کراچی سے معراج محمد خان اور پنجاب سے ملک غلام مصطفی کھر۔ معراج محمد خان چوٹی کے مقرر رہے ہیں۔ چند روز پہلے میری ان سے فون پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ آج کل خاصے بیمار ہیں۔ میں نے ان کی صحت یابی کی دعا کی اور دیر تک ان سے تبادلہ خیال کرتا رہا۔
معراج محمد خان 20 اکتوبر 1938ءکو فرخ آباد اترپردیش میں پیدا ہوئے تاہم ان کا خاندان بنیادی طور پر پختون تھا جو آفریدی قبیلے کی شاخ زکاخیل سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ انہوں نے کوئٹہ سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ والد کا نام حکیم مولوی تاج محمد خان تھا جو ہومیو پیتھک معالج تھے۔ 1956ءمیں کوئٹہ سے ہائی سکول کی تعلیم مکمل کی اور کراچی منتقل ہو گئے۔ ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا۔ 1957ءمیں کراچی یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ 1960ءمیں فلسفہ اور انسانیات میں بی اے کیا۔ 1962ءمیں فلسفے میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ 4 جولائی 1963ءسے 30 نومبر 1967ءتک وہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر رہے۔ یہ عہدہ جو میرحسن نے خالی کیا تھا اور معراج محمد خان کے بعد رشید حسن خان نے یہ عہدہ سنبھالا۔ پیپلز پارٹی میں آنے سے پہلے وہ پاکستان کمیونسٹ پارٹی سے متعلق رہے۔ انہیں اپنی انقلابی جدوجہد پر حبیب جالب ایوارڈ بھی دیا گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور غریب اور مزدور تحریک کے حق میں انہوں نے عمر بھر کام کیا۔ پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد بھی انہوں نے مزدور تحریک کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ 1960ءمیں کراچی یونیورسٹی میں تقریری مقابلہ ہوا جس میں سندھ کے بے شمار تعلیمی اداروں سے مقررین نے حصہ لیا۔ معراج محمد خان اس مقابلے میں اول آئے اور 1963ءمیں کمیونسٹ پارٹی ہی کے حوالے سے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بنے۔ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ہی انہوں نے الیکشن لڑا۔ دسمبر 1971ءمیں معراج محمد خان کو مرکزی وزیر صحت بنایا گیا۔ 1972ءمیں ان کی وزارت کے دوران کراچی میں مزدور یونینوں نے ہڑتال کی۔ معراج محمد خان نے مزدور لیڈروں سے مذاکرات کر کے ہڑتال ختم کروائی تاہم بھٹو صاحب کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کی طرف سے ان کے دائرہ کار میں مداخلت شروع ہوئی تو سندھ میں دو بڑے واضح گروپ بن گئے۔ وزیر قانون حفیظ پیرزادہ ایک گروپ کی سربراہی کر رہے تھے جبکہ وزیر صحت کی حیثیت سے معراج محمد خان کی ہمدردیاں مزدور تحریک کے ساتھ تھیں۔ معراج محمد خان سوشلسٹ ایجنڈے سے انتہائی مخلص تھے اور جوں جوں پیپلز پارٹی اپنے ایجنڈ ے سے ہٹتی گئی معراج محمد خان سے بھٹو حکومت کے اختلافات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بالآخر 1973ءہی میں معراج محمد خان نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر دوبارہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کو منظم کر کے اپنی سیاسی جماعت بنانے پر غور شروع کیا۔ اسی سال انہوں نے ایک تقریر میں اعلان کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم سیاسی رہنما ہیں لیکن افسوس کہ سرمایہ داروں کے گھیرے میں آ گئے ہیں اور مزدور تحریک کو وہ کچلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے قومی محاذ کے نام سے اپنا ایک الگ پلیٹ فارم بھی بنایا۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں بھی انہوں نے فوجی حکومت کی شدید مخالفت کی۔ 1998ءمیں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی جو ان کے خیال میں بائیں بازو سے قریب ترین سیاسی جماعت بن سکتی تھی‘ لیکن 2003ءمیں عمران خان سے اصولی اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرلی۔ بعدازاں معراج محمد خان مزدور کسان پارٹی میں شامل ہو گئے اور جب اس پارٹی کا کمیونسٹ پارٹی سے ادغام ہوا تو معراج محمد خان نے اس کا نام کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بجائے کمیونسٹ مزدور پارٹی تجویز کیا۔
بھٹو صاحب کا دور تھا جب میرے ہفت روزہ اخبار میں ”جھوٹے روپ کے درشن“ اور ”دہشت گرد شہزادہ“ کے مصنف اور بائیں بازو کے نوجوان دانشور راجہ انور نے بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کام شروع کیا۔ ان کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے اکثر ”باغیوں“ سے میرے مراسم استوار ہوئے۔ رشید حسن خان کراچی سے آئے تو کئی روز ان سے ملاقاتیں رہیں۔ معراج محمد خان لاہور آئے تو ان کی ہر تقریب میں ہم شامل ہوئے۔ طارق عزیز بھی کوثر نیازی گروپ کے ڈسے ہوئے تھے اور سمن آباد میں ایسی کوٹھی میں رہتے تھے جس کے ایک حصے میں فلم ایکٹرس صابرہ سلطانہ کی رہائش تھی۔ راجہ انور ہی کے حوالے سے میرے تعلقات تین باغی ایم این اے حضرات سے بنے۔ فیصل آباد سے مختار رانا ‘ ساہیوال سے راﺅ خورشید علی خان اور مردان سے عبدالخالق خان سرفہرست ہیں۔ طارق عزیزکو مولانا کوثر نیازی پر شدید غصہ تھا۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو پر ایک فلم بنانا چاہتے تھے اور انہوں نے وزارت اطلاعات کے ذریعے بھٹو صاحب سے فنڈز مانگے تھے۔ فائل پر ”نو“ کے الفاظ کے ساتھ انہیں آگاہ کیا گیا تو طارق عزیز بھڑک اٹھے اور کوثر نیازی کے خلاف ایک مہم شروع کر دی۔ راجہ انور نے میرے ہفت روزہ اخبار میں اپنے مستقل کالم ”ہٹ کے آ“ میں کوثر نیازی کے خلاف شدید مخالفانہ تحریریں چھاپنا شروع کیں۔ کوثر نیازی میرے گھر آئے اور راجہ انور کو میرے سامنے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ طارق عزیز کی درخواست پر ”نو“ کے الفاظ میں نے نہیں بھٹو صاحب نے خود لکھے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس مضمون کی پندرہ بیس درخواستیں اور تھیں اور ہر دوسرا دانشور بھٹو صاحب پر فلم بنانے کے لیے حکومت سے کروڑوں روپے مانگ رہا تھا۔ وقتی طور پر میں نے دونوں فریقوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تاہم پیپلز پارٹی کے اندر شامل بائیں بازو کے لوگ کوثر نیازی کے سخت خلاف تھے۔ مختار رانا کو قومی اسمبلی سے نکالا گیا اور ان کی سیٹ خالی ہوئی تو ان کی بہن زرینہ رانا نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے باغیوں نے اس الیکشن کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا۔ راجہ انور مجھے بھی ساتھ لے کر فیصل آباد گئے اور ہم نے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے زرینہ رانا کے 20ہزار پوسٹرز چھاپے اور 50 ہزار چھوٹے سائز کے پمفلٹ بھی چھپوائے۔ ہم نے اس ہفتے زرینہ رانا کا ٹائٹل بھی اپنے اخبار پر چھاپا۔ پاک چین دوستی والے ممتاز احمد خان ہاری رپورٹ والے مسعود کھدرپوش میں اور راجہ انور ایک ہی گاڑی پر فیصل آباد پہنچے۔ زرینہ رانا نے ہمارا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہوٹل تو چھوٹا سا ہے لیکن آپ لوگوں کے لیے میں نے کچھ کمرے بک کروا رکھے ہیں‘ لیکن ہم پر انقلاب کا بھوت سوار تھا ہم نے کہا ہم گھنٹہ گھر چوک میں گھاس پر سوئیں گے اور آپ پر ہر گز کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ بہرحال نصرت بھٹو بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار اور پنجابی کے شاعر اور دانشور افضل احسن رندھاوا کی انتخابی مہم میں شرکت کے لیے پہنچیں تو راجہ انور نے ایس ایف ایس کے پرانے دوستوں سے مل کر جن میں بدر الدین کا نام مجھے اب تک یاد ہے نصرت بھٹو کے جلوس پر انڈے اور ٹماٹر بھی پھینکے۔ بہرحال رندھاوا جیت گئے اور کچھ عرصہ بعد راجہ انور بیگم نصرت بھٹو سے ملنے اسلام آباد پہنچے اور پہلے ان کے پی آر او بنے تو بعدازاں بھٹو صاحب کے قریب ہو کر مزدوروں اور طلباءکے مشیر بن گئے۔ بدرالدین بھی بعدازاں بینظیر بھٹو کے دوسرے دور وزارت عظمیٰ کے دوران صوبائی وزیر صحت بنائے گئے۔ یوں آہستہ آہستہ بھٹو کے باغیوں نے معافی تلافی کے بعد کچھ نہ کچھ حاصل کر لیا لیکن معراج محمد خان ڈٹے رہے‘ ان کی جنگ نظریاتی جنگ تھی۔ وہ پکے سوشلسٹ اور ان کا موقف تھا کہ بھٹو صاحب اپنے وعدوں سے انحراف کرتے جا رہے ہیں اور ان کی پارٹی بھی دائیں بازو کی ”متعفن“ جماعت بن رہی ہے۔ رفتہ رفتہ ایسے لوگ پیپلز پارٹی سے نکلتے رہے جن کا نعرہ یہ تھا کہ جن جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف بھٹو صاحب نے سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا تھا انہوں نے چن چن کر انہی طبقوں کو اپنے گرد جمع کر لیا ہے اور نظریاتی کارکن ایک ایک کر کے ان سے الگ ہو گئے۔ خورشید حسن پھر معراج محمد خان‘ حنیف رامے اور بہت سے دوسرے نام لیے جاتے تھے۔ دوسری طرف بھٹو صاحب نے جاگیرداری اور زمینداری نظام کی علامت مسعود ٹمن کو اپنا مشیر خاص بنا لیا تھا۔ نواب صادق حسن قریشی کو پنجاب میں‘ نواب صادق خان عباسی جو ریاست بہاولپور کے شاہی خاندان سے تھے کو پنجاب کا گورنر مقرر کر دیا تھا۔ سندھ کی گورنری جونا گڑھ کے نواب کو دے دی تھی اور سرحد کی گورنری زمیندار نصراللہ خٹک کو سونپ دی تھی۔ بعدازاں ڈاکٹر مبشر حسن نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک کے آغاز میں پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔
انہی دنوں معراج محمد خان لاہور آئے اور مزنگ روڈ پر مزدور کسان ہال میں مجھے ان کا خطاب سننے کا موقع ملا۔ وہ غضب کے مقرر تھے۔ جب وہ بھٹو صاحب کے لیے غریبوں کی والہانہ محبت اور مزدوروں کی بے انتہا عقیدت کے بعد کراچی میں ان کے جلوس پر بھٹو شاہی کے حکم پر فائرنگ کا تذکرہ کر رہے تھے تو شدت جذبات سے ان کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے اور سننے والے بھی رو رہے تھے۔ ان کے الفاظ میں جادو تھا۔ تقریر کے دوران ان کا پورا جسم ان کی زبان سے ادا ہونے والے ہر لفظ کا ساتھ دے رہا تھا۔ میں نے اور راجہ انور نے انہیں تقریر کے بعد اپنے دفتر میں مدعو کیا اور اس شام دیر تک ان سے گفتگو جاری رہی۔
اور پھر چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ کراچی میں خواتین کا ایک جلوس نکل رہا تھا کہ معراج محمد خان راستے میں آ گئے۔ عورتوں نے انہیں مجبور کیا کہ ہمارے ساتھ چلو اور بھٹو شاہی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرو۔ گزشتہ دنوں معراج محمد خان نے اپنی زبان سے یہ واقعہ ٹیلی فون پر سنایا تو ماضی کی تلخ یادیں تازہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تو اتفاقاً جلوس نکالنے والی خواتین کے ہتھے چڑھ گیا۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا جو اتنا وحشیانہ تھا کہ بے اندازہ خواتین زخمی ہوئیں۔ ایک لاٹھی میرے سر پر بھی لگی بعدازاں مجھے ہسپتال لے جایا گیا تو معلوم ہوا کہ آنکھ ضائع ہو چکی ہے۔ محنت کشوں کے لیے محبت کا یہ نشان آج تک میرے چہرے پر موجود ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھی بیسیوں بار میں نے جلوسوں کی قیادت کی۔ صوبائی حکومت نے مجھ پر بے شمار مقدمات قائم کئے اور ایسے ہی ایک جھوٹے مقدمے میں مجھے ساڑھے چار سال قید بامشقت جیل میں رہنا پڑا۔
میرے ایک سوال کے جواب میں معراج محمد خان نے کہا بھٹو بہت بڑا لیڈر تھا کاش وہ اپنے منشور کے مطابق غریبوں کی زندگی بدلتا۔ دوبارہ جاگیرداروں‘ سرمایہ داروں‘ نوابوں‘ دولت مندوں اور عوام دشمن اور غریب دشمن طبقات میں نہ گھر جاتا۔ اگر آپ پیپلز پارٹی کے منشور کو دیکھیں تو میں آج بھی اس کا شیدائی ہوں یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کے سلسلے میں کھل کر یہ کہا ہے کہ میں نے انہیں معاف کر دیا کیونکہ ان کا انجام دیکھ کر دوسرے بہت سے نظریاتی کارکنوں کی طرح میں بھی رویا لیکن ایک ایک کر کے مخلص لوگ انہیں چھوڑ چکے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی پھانسی پر وہ طبقات جن کی سرپرستی انہوں نے کی احتجاج کے لیے گھروں سے نہیں نکلے۔ آپ کو حیدرآباد میں رسول بخش تالپور صاحب کا پیپلز پارٹی کی سامراج دوستی کے خلاف کنونشن یاد ہو گا‘ آپ کو سرحد میں حیات محمد خان شیرپاﺅ کا سامراجیوں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل بھی نہیں بھولا ہو گا۔ یہاں تک پہنچ کر معراج محمد خان اچانک رک گئے۔ انہوں نے کہا اصل میں بھٹو صاحب کا بچپن کچھ اچھا نہیںگزرا تھا اس لیے وہ متضاد خیالات کے حامل بن کر سامنے آئے۔ میں نے کہا معراج محمد خان صاحب! بچپن کے حوالے سے وہ کیا مسئلہ تھا جس نے بھٹو صاحب کو ”ڈسٹرب“ کر دیا تھا معراج محمد خان نے کہا میں اس موضوع پر مزید کچھ نہیں بولوں گا‘ کاش بھٹو صاحب اپنے اصل راستے پر چلتے۔ پھر انہوں نے کراچی کینٹ اسٹیشن پر بھٹو صاحب کے استقبال کا ایک واقعہ سنایا اور 68 اور 69 میں اینٹی ایوب تحریک کے واقعات سناتے رہے۔ انہوں نے کہا سامراجی طاقتوں نے ہی بھٹو صاحب کو پھانسی دلوائی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان سے پیار کرنے والے کروڑوں لوگ ان سے الگ کر دیئے گئے تھے‘ لیکن وہ بڑے آدمی تھے۔ کاش ان کی صلاحیتیں غریبوں کے لیے استعمال ہو سکتیں۔ کاش وہ غریبوں کے لیے کام کرتے‘ محنت کشوں کو ساتھ ملاتے تو کوئی مائی کا لال انہیں پھانسی نہیں دے سکتا تھا۔ معراج محمد خان نے کہا میں نے اپنی زندگی کے 13 سال جیلوں میں گزارے۔ بھٹو صاحب سے بھی پہلے میں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا اور ایوبی آمریت کی مخالفت کی۔ میں نے زندگی بھر مزدوروں‘ کسانوں‘ خواتین اور طلباءکے لیے کام کیا اور سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی حامی حکومتوں سے ماریں کھائیں‘ جب میں نے پوچھا معراج صاحب آپ کی موجودہ پیپلز پارٹی کے بارے میں کیا رائے ہے تو کہنے لگے بھائی! یہ تو وہ پیپلز پارٹی نہیں ہے جو ہم نے بنائی تھی اور جس کے لیے بھٹو کی سربراہی میں ہم ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک محلے سے دوسرے محلے میں خود عوام کے پاس جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا میں نے اپنی زندگی میں عوام سے رابطہ کرنے کے سلسلے میں بھٹو سے بڑا کوئی لیڈر نہیں دیکھا۔ پھر وہ ہنسے اور کہا کہ بابا! روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ ہمارا نہیں تھا یہ تو ہندوستان کی ایک مزدور تحریک کا نعرہ تھا‘ آپ کو پتا ہو گا وہاں ایک فلم بھی اسی نعرے پر بن چکی ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمارے دور میں اس نعرے کو اپنا لیا تھا۔ بھٹو صاحب مجھے وزیر بنانا چاہتے تھے لیکن میں نے کہا مجھے کراچی میں رہ کر غریبوں‘ مزدوروں ‘ کسانوں اور طلباءکے لیے کام کرنے دیں۔ معراج محمد خان نے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ میں کابینہ میں ہوتے ہوئے بھی سچ بات کہنے سے باز نہیں آﺅں گا اور حکمران طبقات کے لیے سچ سننا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا میں نے ساری زندگی وڈیروں‘ جاگیرداروں اور محنت کشوں کے دشمنوں سے لڑتے گزاری میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کاش ہم مذہب کے اجارہ داروں کو خود پراتنا سوار نہ کرتے تو آج اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد سامنے نہ آتے۔ پیپلز پارٹی کا منشور آج بھی کاغذوں میں موجود ہے اس میں جہاں اسلام ہمارا دین ہے کے الفاظ درج ہیں وہاں سوشلزم ہماری معیشت بھی لکھا گیا ہے‘ جمہوریت ہماری سیاست ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ کیا بھٹو کے بعد ان چاروں نعروں پر عمل ہوا‘ میں بیمار بھی ہوں اور معمر بھی لیکن آج بھی میری پختہ رائے ہے کہ یہ منشور ایک متوازن معاشرہ قائم کر سکتا ہے جو عوام کے مسائل کو حل کرنے کی ضمانت فراہم کرے گا۔ یہ نعرے سچے تھے اور
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا
غریب اور محروم کی یہ جدوجہد ہمیشہ جاری رہے گی اور کسی کے آنے یا جانے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ معراج محمد خان بہرحال ایک بڑے آدمی ہیں کیونکہ جو سلوک بھٹو شاہی میں ان کے ساتھ ہوا‘ جو سنگدلانہ طرزعمل عام آدمی سے روا رکھا گیا اس کا تقاضا تھا کہ وہ بھٹو صاحب پر برستے ‘ گرجتے اور غصے کا اظہار کرتے لیکن وہ انتہائی نفیس انسان ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے جملے میں وہ بھٹو صاحب کی تعریف کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی افسوس کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ وہ دل سے یقین رکھتے ہیں کہ اگر بھٹو صاحب کسی ایک طرف لڑھک نہ جاتے اور وہ توازن برقرار رکھتے جسے پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت چار نعروں کی شکل میں سمویا گیا تھا تو ان کا ذاتی انجام بھی یہ نہ ہوتا اور پاکستان کے حالات بھی بہت بہتر ہو جاتے۔ ان کے خیال میں سوشلزم ایک معاشی نظام ہے اور اس کا کوئی تعلق مذہبی مخالفت سے نہیں۔ ایک اچھا مسلمان اپنے طرزعمل میں ایک اچھا سوشلسٹ ہو سکتا ہے۔ اچھا جمہوریت پسند ہو سکتا ہے اور طاقت کا سرچشمہ بالآخر عوام ہیں اور عوام ہی کو ہونا چاہئے۔ فوجی حکمران ہوں یا سرمایہ داروں‘ صنعت کاروں‘ بڑے تاجروں‘ وڈیروں‘ زمینداروں اور جاگیرداروں پر مبنی حکومتیں خواہ وہ خود کو جمہوریت ہی کیوں نہ کہیں ہرگز عوامی مسائل کو حل نہیں کر سکتیں۔ میں نے ٹیلی فون پر انہیں قومی شاعر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد دلایا
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہرخوشہ ¿ گندم کو جلا دو
تو انہوں نے مجھ سے اتفاق کیا کہ یہی ہماری بنیادی سوچ تھی اور حیرت ہے کہ ایک طرف پاکستان میں علامہ صاحب کو مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ علامہ صاحب نے ہمیں پاکستان کا تصور دیا لیکن علامہ کی سوچ کو اپنانے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔ دفتروں میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر لگانے سے آپ ان کی سوچ اور ہدایت پر عمل نہیں کر سکتے۔ معراج محمد خان کو اللہ پاک صحت اور تندرستی دے۔ انہوں نے زندگی بھر اپنے نظریات کے مطابق بے انتہا قربانیاں دی ہیں پھر بھی وہ نظام کے خلاف ہیں اور ان افراد کے بھی خلاف نہیں جنہوں نے ان پر زیادتیاں کیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *