وہ وقت جو ہمارا منتظر ہے

Ayaz Amir

(ایاز امیر)

کچھ بیج ہم نے بوئے ہیں جبکہ کچھ ہواؤں نے ادھر اُدھر زمین میں بکھیر دیے ہیں؟ اس سے کیا فصل تیار ہونی تھی؟ استعماری طاقتوں کے لیے قبرستان ثابت ہونے والی افغانستان کی سرزمین سے ایک اور غیر ملکی فوج شکست کی ہزیمت اٹھا کرفرار ہورہی ہے۔ جوشیلے مجاہدوں کو تو اس بات کا علم ہو گا لیکن اپنے آرام دہ صوفوں پر بیٹھے انسانوں سے ایسی غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں کہ وہ اس صورتِ حال کی پیش بینی میں ناکام رہے۔
افغان شورش پسندی پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں میرے زیرِ مطالعہ ہیں۔ ان کوپڑھنے کے بعد مجھے اپنی افغانستان کے حوالے سے ناواقفیت پر ندامت محسوس ہونے لگی ہے۔ ہم جس رٹے رٹائے جملے کو دہراتے رہے ہیں کہ ’’ یہ ہماری جنگ ہے‘‘وہ ہماری کج فہمی کی دلالت کرتا ہے ۔ آج احساس ہوتا ہے کہ یہ ہماری جنگ ہر گز نہیں بلکہ امریکہ کی جنگ تھی۔ وہ یہاں آئے، اُنھوں نے اسے شروع کیا اور یہ جنگ ہماری اس صرف اس حوالے سے تھی کہ مشرف اور پھر پی پی پی کی نااہل حکومت اوردفاعی اداروں کے فیصلوں کی وجہ سے ہم اس میں بری طرح الجھ گئے۔
دفاعی اداروں کے افسران ، جو ہماری عارضی قسمت کے نگران بن چکے تھے، نے اس جہادی کلچر کے بیج بوئے۔ جب اس کلچر کے لیے کھیت تیار کیا گیا تو کچھ کانٹے دار جھاڑیں خود ہی اُگ جاتی ہیں۔ اس سے پہلے ، جب ہم نے پہلے افغان جہاد میں نہایت دلجمعی سے شرکت کی تھی تو اس منفی کے نتائج ہماری سرزمین سے دور رہے۔ اسے شہ پا کر جب ہم نے دوسری افغان جنگ میں قدم رکھاتو ہمار ا خیال تھا کہ ہم پھر اس کے مضمرات سے بچ جائیں گے لیکن اس مرتبہ حالات بدل چکے تھے، چناچہ ہم خود اس کا نشانہ بن گئے۔ اس وقت واحد اچھی بات یہ ہوئی تھی کہ فوج نے اس راہ میں آنے والی دلدل کو بھانپ کر اس میں قدم نہ رکھا اور اس کا کریڈٹ اس کو جاتا ہے۔ حتی کہ مشرف کی کمان تلے اس نے امریکی ترغیبات اور احکامات کو ماننے سے انکار کردیا۔ اگرچہ اس نے کچھ ہدایات پر عمل کیا لیکن تمام پر نہیں۔
یہ بات درست ہے کہ فوج کی ہائی کمان پر الزامات لگے کہ وہ دہرا کھیل کھیل رہی ہے، یعنی وہ امریکیوں اور طالبان، دونوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ اُس وقت تو یہ الزامات واقعی بہت افسوس ناک لگ رہے تھے ، لیکن آج احساس ہوتا ہے کہ فوج نے دانائی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے مکمل طور پر امریکہ کا ساتھ دے کر خود کو طالبان دشمنی کے جہنم میں نہیں دھکیل لیا۔اسی دوران امریکی بھی اپنے نقصانات کے حوالے سے بہت محتاط تھے ۔ اُن کے افغانستان میں لڑنے والے فوجیوں نے تلوار سے دست بدست لڑنے والے قرونِ وسطیٰ کے جنگجووں سے کہیں زیادہ زرہ بکتر پہن رکھی تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی حفاظت تو ہر قیمت پر یقینی بنا رہے تھے لیکن چاہتے تھے کہ پاک فوج اس جہنم میں اتر جائے۔ عام طور پر پاکستان کے کچھ دفاعی افسران (اور اکثر صحافی بھی ان سے پیچھے نہیں ہوتے)غیر ملکی طاقتوں کے آل�ۂ کار ہوتے ہیں لیکن اس ضمن میں اُنھوں نے قابلِ ستائش حد تک امریکی دباؤ برداشت کیا۔
آج دیکھیں صورتِ حال کیا رخ اختیار کر رہی ہے؟امریکی افغانستان سے بوریا بستر باندھ کر واپسی کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ اب دنیا کی کوئی طاقت ان کو یہاں نہیں روک سکتی۔ ذرا سوچیں ، اگر جنرل کیانی ان کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے شمالی وزیرستان چلے گئے ہوتے تو کیا ہوتا؟یقیناًپاک فوج کی شمالی وزیرستان میں کاروائی سے جنگ کے نتائج تبدیل نہیں ہونے تھے ، اس لیے امریکہ نے یہاں سے ضرور واپس جانا تھا، لیکن ہماری فوج ایک دلدل میں دھنس جاتی اور امریکہ کی طرف سے اس مرتبہ بھی کوئی مدد نہ ملتی ، بالکل جس طرح سابقہ افغان جنگ کے بعد اُس نے ہم سے آنکھیں پھیر لی تھیں۔ اس مرتبہ اُنھوں نے پکا وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اس پر جنرل ڈی گال یا د آتے ہیں۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ معاہدے ’’نوجوان لڑکیوں اور گلاب کے پھولوں جیسے ہوتے ہیں۔ وہ جب تک کام دیں، اُس وقت تک ہی اُن کی پاسداری کی جاتی ہے‘‘
آج کے پاکستان میں فوج پر تنقید کرنا فیشن بن چکا ہے اور جب تک ہم دفاعی اداروں کے خلاف بیانات نہ داغیں،ہماری جمہور پسندی کی سند ’’ جعلی‘‘ معلوم ہوتی ہے۔تاہم یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ فوج نے افغان مسلے پر نہایت کمال سے اپنے پتے کھیلے ہیں۔ اُنھوں نے امریکیوں سے بگاڑ پیدا کرنے کی بھی حماقت نہیں کی ، لیکن اُن کی بہت سی باتیں نہیں بھی مانیں۔ چونکہ حالات یہ پیدا ہورہے تھے کہ امریکیوں کا یہاں سے جانا ٹھہر گیا تھا ، اس لیے ایبٹ آباد میں بن لادن کے ٹھکانے پر حملے سے ان کو جواز مل گیا کہ وہ توہین محسوس کرتے ہوئے تاثر دیں کہ وہ امریکہ سے ناراض ہیں۔ اب جبکہ افغانستان کی لہو رنگ تاریخ کا ایک اور باب بند ہورہاہے تو بہت سے معاملات پر سے غیر یقینی پن کی دھند چھٹنی شروع ہوگئی ہے۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ امریکی یہ جنگ ہار چکے ہیں تو دوسری طرف طالبا ن میں کچھ سمجھداررویے کے آثار نمایاں ہیں۔ وہ جنگ تو جیت رہے ہیں لیکن اس پر دھڑلے سے بیان بازی نہیں کررہے ہیں ۔ دوسری طرف کرزئی حکومت بھی یہی تاثر دے رہی ہے کہ وہ امریکیوں کے جانے کے بعد اپنے قدموں پر کھڑی نہیں رہ سکے گی۔ اس ضمن میں کرزئی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ حالات کی ستم ظریفی نے اُن کو ان کی اوقات سے بڑھ کر کردار سونپ دیا تھا۔ ایک کٹھ پتلی چاہے کتنا عمدہ رقص کیوں نہ کرتی دکھائی دے، اس کی ڈور کسی اورکے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے۔ اس سے پہلے سوویت یونین نے بھی یکے بعددیگر مختلف کٹھ پتلیوں کی حکومت قائم کرنا شروع کی لیکن وہ حالات کے سیلاب میں خس و خاشاک ثابت ہوئیں۔ اسی طرح امریکہ نے بھی جنوبی ویت نام میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی اور اس مقصد کے لیے اُنھوں نے جنوبی ویت نام کی فوج کو تقویت دی، لیکن جب دوسال بعد اشتراکی فوج نے شمالی کی طرف سے حملہ کیا تو امریکی حمایت یافتہ حکومت کے پرزے بکھر گئے۔
تاریخ خود کو ہمیشہ نہیں دہراتی ہے ، لیکن ایک جیسے افعال ایک جیسے نتائج ہی پیش کرتے ہیں۔ افغانستان میں جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہی ہے ۔ اب امریکی خود کو اور دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے کہ وہ اپنے پیچھے افغانستان میں استحکام چھوڑ کر جار ہے ہیں اور ان کی تربیت یافتہ افواج طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے کیونکہ حقائق ان دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کابل میں تشویش کی لہر چھائی ہوئی ہے۔ تاہم ہمیں مسٹر کرزئی کی پریشانی پر محظوظ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے بھی اپنی راہوں سے بہت سے کانٹوں کو چننا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کابل میں جوبھی حکومت قائم ہو جائے، اس سے ہمارا طالبان کا مسل�ۂ حل نہیں ہوگا۔ہمارے مسائل انتہائی گھمبیر ہیں... شمالی وزیرستان میں جنگجو دستے، خود کش حملہ آوورں کی کھیپ، انتہا پسندوں کا ملک بھر میں پھیلا ہوا نیٹ ورک ، امریکیوں کی واپسی سے طالبان کے اعتماد میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں ان کی کاروائیوں میں شدت...اور کیا ہم اس مسائل سے عہدہ برا ہونے کے لیے تیار ہیں؟
امریکی افواج کی واپسی سے طالبان کو پاک فوج سے ایک شکایت دور ہوجائے گی کہ یہ غیر ملکی مفا د کے لیے کام کرتی ہے اور اس سے کچھ ماحول بہتر ہوجائے گا لیکن بنیادی مسل�ۂ حل نہیں ہوگا۔ دوسرے ممالک کو بھی ایسے ہی مسائل درپیش رہے ہیں، جیسا کہ روس کے سامنے چیچینا اور سری لنکا کے سامنے تامل ٹائیگرز۔ تاہم وہ دوٹوک معاملات تھے، لیکن ان کے برعکس، ہمارے سامنے صورتِ حال واضح نہیں ہے کہ اگر ہم طالبان سے بات کریں تو کس نکتے پر اور اگر اُن سے لڑیں تو کس عزم کے تحت؟ان سوالات کا ہمارے پاس ہنوز کوئی جواب نہیں ہے۔ اس دوران ہماری قومی قیادت کچھ اور مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ وہ ہر معاملے کو اپنے مفاد کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایمانداری ایک بے کیف لفظ ہولیکن اخلاقی رویے بھی کوئی چیز ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ زرداری صاحب ایسی چیزوں سے عاری تھے لیکن ان کے جانشیں کیا کررہے ہیں؟ چین کے دورے میں شامل کاروباری افراد اور لاتعداد صاحبزادگان کا اپنے اپنے والد کی ہمرکابی میں سفر کرنے کی ضرورت پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ تاہم عملی طور پر جب آپ زیرِ گردشی قرضوں کی بات کریں تو یہی نام دوبارہ سامنے آئیں گے۔ مشہورروسی مصنف ٹالسٹائی نے سوال اٹھایا تھا...’’ایک آدمی کو کتنی زمین درکار ہوتی ہے‘‘۔ اسلام کے اس قلعے میں یہ سوال ہنوز جواب مانگتا ہے کہ ایک آدمی کو کتنی دولت چاہیے ہوتی ہے؟
پسِ تحریر:ایسے سوال بر محل ہوں یا نہ ہوں، یہاں ہم مذہبی فرائض سے غفلت برتنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سامنے پی ایم ایل (ن) نے چھے اگست (جس دن ستائیس رمضان المبارک ہے)کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی تاریخ تبدیل کرانے کے لیے درخواست دائر کرتے ہوئے یہ جواز پیش کیا کہ اُس دن اراکینِ پارلیمنٹ عبادت میں اس قدر مشغول ہوں گے کہ ووٹ ڈالنے نہیں آئیں گے۔ گویا ستائیس رمضان کو یہ ملک وجود میں آسکتاہے لیکن صدر کے لیے انتخابی عمل انجام نہیں پا سکتا، اور اس جواز پر جج صاحبان متفق ہوگئے۔’’ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ‘‘ کہ اس ریاست کی ہر چیز بگڑی ہوئی ہے، صرف مذہبی فرائض میں بال برابر فرق نہیں آسکتا۔ کون کہتا ہے کہ ہماری ترجیحات غلط ہیں!

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *