سندھ میں اب کیا ہو گا ؟

naeem-baloch1سندھ میں ایک ’شاہ ‘گیا اور دوسرے ’شاہ ‘کے آنے کی خبریں گرم ہیں ۔ تین نسلوں سے بھٹو خاندان کے وفادار اور وزارت اعلیٰ کی ہیٹ ٹرک کرنے والے 86سالہ قائم علی شا ہ کراچی میں تین دنوں میں صفائی تو نہ کرا سکے البتہ اپنی کرسی ضائع کرالی ۔ اس سے پہلے وہ جنید جمشید اوہ ،معاف کیجیے گاامجد صابری کے قاتلوں کو بہت جلد بے نقاب کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکے تھے ۔ان کے علاوہ ان کے ادھورے ایڈونچر کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جن کی تعداد ان کی عمر کو اگر مہینوں یا منٹوں میں تبدیل کیا جائے تو ان کے برابر ہونے یا بڑھ جانے کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ لیکن آپ یقین جانیے شاہ جی کواس وجہ سے فارغ نہیں کیا گیا ۔ وہ بے چارے تو رینجرز کی ان ’’ سختیوں ‘‘ کا شکار ہوئے ہیں ،جس کی زک زرداری اور لندن میں موجود الطاف بھائی کی نہ دِکھنے والی’’انڈر سٹینڈنگ ‘‘ کو پہنچ رہا ہے۔ ہمارے ’’ مظلوم ‘‘ الطاف بھائی کی ’آکسیجن‘ زرداری صاحب کی سندھ حکومت کی مدد سے کسی نہ کسی شکل بحال تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ انتہائی فیصلہ کر چکی ہے کہ Enough is Enough ۔ چنانچہ ڈاکٹر عاصم اور اس کے بعد اسد کھرل کی گرفتاریاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ زرداری صاحب نے بہتری کوشش کی تھی کہ ان کے انتہائی بھروسے کے سراج درانی اس کی جگہ لیں لیکن ’’برا ہو‘‘ آزاد کشمیر کے انتخابات کا ، جنھوں نے بلاول کو اس قدر جذباتی کر دیا کہ خم ٹھونک کر مراد علی شاہ کی حمایت میں آگئے ۔ لہٰذا لگتا یہی ہے کہ مراد علی شاہ ہی کی’ مراد‘ بر آئے گی۔ کاش ہماری یہ موہوم سی امید ٹھیک نکل آئے کہ بلاول میں زرداری کے بجائے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے’ جین‘ زیادہ ہیں۔ ورنہ مراد علی شاہ لاکھ پڑھے لکھے ہوں، یا کوئی اور ہو ، پی پی کا کلچر زرداری کے زیر اثر اب قارون کی نفسیات کے کلچر میں بدل چکا ہے ۔ دنیا میں آج تک کوئی ایسا محاورہ کسی بھی زبان میں غالباً ایجاد نہیں ہوا ہو گا جوزر داری صاحب کی زرپرستی کو بیان کر سکے ۔ کاش بلاول بھٹو یہ راز پالیں کہ اس وقت سندھ اور کراچی میں گڈ گورنس کا گھپ اندھیرا ہے ، اس میں وہ کارکردگی کی معمولی سی موم بتی ہی جلا لیں گے تو نظروں میں آسکتے ہیں۔ ورنہ امن وامان میں بہتری اگر چہ اسٹیلشمنٹ کی شدید خواہش کا نتیجہ ہے لیکن اس کا کریڈٹ ان لوگوں کو جا نے والا ہے جن کا ذکر ان کے مخالفوں میں ہوتا ہے ۔ اس لیے یہ ان کے لیے آخری موقع ہے ۔ سنا ہے کہ تبدیلی صرف وزیراعلیٰ تک محدود نہیں، کابینہ میں بھی بڑی اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔ لیکن پی پی کا ٹریک ریکارڈ ہماری تمام امیدوں پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے ۔ورنہ ان کے پاس سندھ کارڈ نہیں رہے گا۔ اس کے بعد ان کا خاندان اقتدار کے کھیل میں یقینی طور پر ہار جائے گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *