اے سی کا بل زیادہ آنے سے چھٹکارہ پائیں

لاہور -اے سی کا خیال نہ رکھا جائے، تو یہ جراثیم سے بھی بھر جاتا ہے، جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔خاص طور پر دمہ اور الرجی جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہاں کچھ ایسی غلطیاں دی جارہی ہیں ،جو لوگ اپنے گھروں میں نصب اے سی کے ساتھ کرتے ہیں، جن پر قابو پاکر آپ اپنے پھیپھڑوں اور جیب دونوں کو بچا سکتے ہیں۔

فلٹرز کی تبدیلی و صفائی: کم از کم ہر تین ماہ میں ایک بار اے سی کے فلٹرز کو بدلنا چاہئے جبکہ مہینے میں ایک بار اسے صاف کرنا چاہئے۔ اس کام میں غفلت کے نتیجے میں فلٹرز گندے ہوجاتے ہیں اور ناقص ہوا خارج کرنے لگتے ہیں یا کوائل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک گندا فلٹر اے سی کے بل میں 5 سے 15 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے جبکہ پورے سسٹم کی زندگی بھی کم کرسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اے سی فلٹرز کافی سستے ہوتے ہیں ،جنہیں بدلا جاسکتا ہے۔ پنکھوں کا فائدہ نہیں اٹھاتے کسی بھی قسم کے پنکھے خاص طور پر سیلنگ فین، ٹھنڈی ہوا کو گھر بھر میں پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، اس سے اے سی سسٹم پر بوجھ کافی کم ہوجاتا ہے۔

تھرمو سٹیٹ بہت کم رکھنا : ایک تحقیق کے مطابق انسانی جسم سرد یا گرم درجہ حرارت سے بہت جلد مطابقت پیدا کرلیتا ہے، یعنی ایک سے دو ہفتے میں، جب آپ اے سی بل میں کمی لانے کی کوشش کرتے ہیں ،تو اس کا درجہ حرارت بڑھا کر تین فیصد تک بل کم کیا جاسکتا ہے جبکہ اے سی کا کم استعمال ماحولیاتی بہتری کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

وینٹس کی غلط پوزیشن: اے سی وینٹس کو فرنیچر یا پردوں سے بلاک کردینا ہوا کی گردش کو محدود کردیتا ہے، تو اے سی کو کسی جگہ کو ٹھنڈا کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور بجلی کا بل بھی بڑھتا ہے۔

سسٹم کی سروس نہ کرانا: ہر سال کم از کم ایک بار اے سی سسٹم کی سروس کی ضرورتی ہوتی ہے۔ اس کے لیے آپ آن لائن ویڈیوز کے ذریعے جان سکتے ہیں کہ کیسے اے سی یونٹ کے کوائل اور فنز کی صفائی کی جاسکتی ہے۔ یہ ضروری مرمت آپ کے اے سی کو زیادہ بہتر بنا دیتی ہے۔

خالی کمروں کو ٹھنڈا کرنا: اے سی وینٹس ہر کمرے میں ہوں ،تو ایسے کمروں میں وینٹس کو بند کردیں ،جہاں کوئی بھی نہ ہو جبکہ قریبی دروازوں کو بھی بند کردیں تاکہ ٹھنڈی ہوا باہر ضائع نہ ہو۔ پردے یا بلائنڈز نہ ہونا: سورج کی تیز روشنی آپ کے اے سی سسٹم کی دشمن ہوتی ہے۔ اس پر سورج کی روشنی کو روکنے کے لیے پردے یا بلائنڈز مددگار ثابت ہوتے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *