پنجابی، پٹھان اور اردو!

qasmi

مجھے دو شخصیتوں نے زندگی میں حیران کیا ہے۔ ان میں سے ایک کے ساتھ میرا بہت محبت کا رشتہ تھا اور دوسرے کے ساتھ یہ رشتہ اس سے ملے بغیر صرف ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو اوراس کی کتاب کے حوالے سے استوار ہونے کے قریب ہے۔ اول الذکر شخصیت صلاح الدین محمود کی تھی جن کی شاعری بالکل منفرد نوعیت کی اوران کی گفتگو کا اسلوب بھی بالکل نرالا تھا۔ ان کے والد فیروز پور پنجاب کے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو علی گڑھ یونیورسٹی میں تعلیم دلائی اور اس کے بعد موصوف نے زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں گزارا مگر علی گڑھ ان کے جسم و جان کا حصہ بن چکا تھا۔ نہایت نفیس لباس پہنتے جس کا ایک لازمی جزو علی گڑھ کٹ پاجامہ ہوتا اوراتنے نستعلیق کہ ان سے بات کرتے ہوئے دھڑکا ہی لگا رہتا کہ کہیں زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکل جائے جو شرفاء نہ بولتے ہوں۔ یہ ساری تمہید میں نے ان کی صرف اس کمٹمنٹ کے لیے باندھی ہے جو کمٹمنٹ ان کے تہذیبی رویوں اور شاعری کے ساتھ تھی۔ میں ایک دن ان کی قیام گاہ پر حاضر ہوا، کہنے لگے آپ اچھے وقت پر آئے۔ آج ہی ایک نظم اتری ہے جو شاید آپ جیسے کسی صاحب ذوق ہی کے لیے تھی۔ میری فرمائش پر انہوں نے اپنی بیاض منگوائی اور قالین پر دو زانو ہو کر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے برابر میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے بیاض رحل نما ایک چوکی پر رکھی اور پوری وارفتگی کے ساتھ اس نظم کی قرات شروع کردی۔ ابھی آدھی نظم ہی سنائی تھی کہ انہیں ہلکی سی کھانسی آئی۔ اس پر انہوں نے کہا معاف کیجئے، لحن خراب ہوگیا ہے۔دوبارہ عرض کرتا ہوں۔ دوسری بار انہوں نے بغیر کھانسے پوری نظم سنائی۔ جب سنا چکے تو میں نے محسوس کیا کہ ان کے چہرے پہ کچھ بے اطمینانی سی ہے اور میرا یہ اندازہ صحیح نکلا۔ کیونکہ انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور کہا، معذرت چاہتا ہوں کہ میں آپ کو نظم اس طرح نہیں سنا سکا جس طرح میں نے ’’سنی‘‘ تھی۔ چنانچہ ایک بار پھر عرض کرتا ہوں۔
دوسری شخصیت افتخار علی خان صاحب کی ہے۔ صلاح الدین محمود اور افتخار علی خان میں مجھے بہت سی قدریں مشترک لگی ہیں۔ مثلاً یہ دونوں اہل زبان نہیں ہیں لیکن اپنے رکھ رکھائو، وضع داری اور زبان و بیان میں کئی اہل زبان سے بڑھ کر ہیں۔ خان صاحب کا تعلق پشاور کے ایک گائوں سے ہے۔ پشتوان کی مادری اور پدری زبان ہے۔ پیدائش امرتسر کی ہے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی اور بقیہ تعلیم اور بقیہ عمر کا تعلق کراچی سے ہے۔ یعنی ’’چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری‘‘۔ میرے اور امجد کے یار غار اشرف شاہین کی وساطت سے ان سے فون پر بات ہوئی اور ان کی اردو سن کر جی نہال ہوگیا۔ صحت زبان کا اتنا خیال کہ میں تو گونگا سا ہو کر رہ گیا اور جب ان کے سفر ناموں کی کتاب ’’سات سمندر سات سفر‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا اور ان کی اردوئے معلّیٰ کی جولانیاں دیکھیں تومیں نے سوچا کہ میری اردوئے ’’محلّہ‘‘ پڑھتے ہوئے ان کے دل پر جانے کیا گزرتی ہوگی۔ خان صاحب نے تو کمال یہ کیا ہے کہ پوری کتاب میں انگریزی کے ایک لفظ کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی اور ان سائنسی ایجادات مثلاً کمپیوٹر، ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن کو بھی مشرف بہ اردو کردیا ہے جو انگریزی میں ہوتے ہوئے بھی اب اردو ہی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن قبلہ خان صاحب یہ ایک نہ ختم ہونے والا کام ہے کیونکہ گوروں نے نت نئی ایجادات سے باز نہیں آنا۔ وہ اس کام سے تھکیں گے نہیں۔البتہ ہم ترجمہ کرتے کرتے ہانپنا شروع ہو جائیں گے۔ چنانچہ میری تجویز یہ ہے کہ ہم اردو سے محبت کرنے والوں میں سے کوئی شخص آگے آئے اور ایجادات کا سہرا بھی اپنے سر باندھے۔ اس کے بعد وہ انہیں اردو میں کوئی نام دے۔ آخر ہم کب تک کسی گورے جارج کو عبدالرحمٰن کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرتے رہیں گے۔ تاہم افتخار علی خان صاحب کے اس کام سے جہاں اردو کو نت نئے الفاظ ملے وہاں ان کے ترجمے نے ان چیزوں کا رعب بھی دل سے ختم کردیا۔ مثلاً بیرونی سفر کے دوران ڈیوٹی فری شاپ مجھے اپنی طرف بہت کھینچا کرتی تھی لیکن جب سے میں نے خان صاحب کی کتاب میں اس کا ترجمہ ’’محصول معاف بازار‘‘ پڑھا ہے میرے دل میں اس کی ٹکے کی عزت نہیں رہی۔ دراصل انگریزی کے بہت سارے الفاظ اردو میں اس طرح جذب ہو چکے ہیں کہ اب انہیں گرم چمٹے ہی سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر یونس بٹ کراچی آیا اور رکشے والے سے کہا مجھے ادارہ ترقیات کراچی لے چلو۔ اس نے اس ادارے کے محل وقوع سے بے خبری کااظہار کیا تو یونس نے مختلف طریقوں سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کا اشارہ کس ادارے کی طرف ہے۔ لیکن جب وہ مسلسل انکار میں سر ہلاتا رہا تو یونس بٹ نے آخری کوشش کے طور پر کہا کہ بھائی مجھے ’’کے ڈی اے‘‘ لے چلو تو اس پر وہ رکشے والا بولا ’’یوں اردو میں بولو نا صاحب‘‘۔
معافی چاہتا ہوں میری تمہید خاصی لمبی ہوگئی ہے حالانکہ میں صرف خان صاحب کو ان کی خوبصورت اردو جو وہ بولتے اور لکھتے ہیں کی داد دینا چاہتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ میری طرح میرے کراچی کے بہت سارے دوست بھی ان پر رشک کرتے ہوں گے۔ انہیں دوسری داد میں نے شگفتگی بیان کی دینا ہے۔ اس کتاب میں ایک نہیں بیسیوں ایسے مقامات آتے ہیں جن سے گزرتے ہوئے سڑیل سے سڑیل قاری بھی اپنی مسکراہٹ ضبط نہیں کرسکتا۔ میں نے بھی اپنے سفر ناموں میں کوشش کی ہے کہ کھینچے ہوئے چہروں کوواپس ان کی جگہ پر لاسکوں لیکن کہاں وہ بات مولوی مدن کی سی۔ ان کے سفر ناموں کی تیسری خوبی یہ محسوس ہوئی کہ جن مقامات کو میں بیسیوں دفعہ دیکھ چکا ہوں خان صاحب ان کی جزئیات کے بیان سے ان مقامات کو میرے لئے ’’زیرومیٹر‘‘ بنا دیتے ہیں
اور مجھے میر صاحب کا ؎
’’سرسری تم جہان سے گزرے ورنہ ہر جہان جہان دیگر تھا‘‘
والا شعر یاد آجاتا ہے۔میں تھائی لینڈ میں بطور سفیر پاکستان کچھ عرصہ رہا ہوں۔ ہیوسٹن بھی جاتا رہا ہوں اور ان بہت سے دوسرے شہروں میں جن سے خان صاحب کا گزر ہوا میرا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ لیکن خان صاحب اپنے قاری کو یہ مقامات محدب شیشے سے دکھاتے ہیں اور قاری ان کے بارے میں اتنا کچھ جان لیتاہے کہ اپنے آپ کو وہاں کا باسی سمجھنے لگتا ہے۔ چوتھی خوبی خان صاحب کی اسلام اور پاکستان سے محبت ہے۔ جو اس کتاب کے حرف حرف سے ٹپکتی ہے۔ کہیں کہیں مجھے ان کی تشریحات سے اختلاف بھی ہے لیکن میں تو ایسے شخص کے سات خون معاف کردیا کرتا ہوں جبکہ خان صاحب نے تو کبھی کسی چڑیا کا بھی خون نہیں بہایا۔ خان صاحب تھائی لینڈ میں اپنے رفیق کار چوہدری صاحب کے ساتھ سارے بنکاک میں حلال مرغ تلاش کرتے رہے اور اس ضمن میں خاصے خجل ہوئے۔ حالانکہ بنکاک کے کسی بھی ریستوران سے کھانا بغیر کسی تردد کے کھا سکتے تھے۔ وہاں گوشت کا سارا کاروبار پٹھانوں کے پاس ہے جو پورے تھائی لینڈ میں حلال گوشت سپلائی کرتے ہیں۔
میں ایک دن لندن سے امریکہ کے لیے سفر کررہا تھا جب ایئر ہوسٹس نے میرے ہم نشست پاکستانی کے سامنے کھانے کی ٹرے رکھی تو اس نے کھانا واپس کردیا اور کہا کہ اس کے لیے مسلم فوڈ لایا جائے اورپھر ایک وقفے کے بعد فرمایا ’’ود ڈبل اسکاچ‘‘۔ مگر اپنے خان صاحب تو پانچوں شرعی عیبوں سے پاک ہیں۔ انہوں نے تو اپنے سفر نامے میں نہ میری تقلید کی اورنہ مستنصر حسین تارڑ کی۔ جانتے ہیں کہ دنیا کی حوریں جنت کی حوروں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں بس سارے سفر نامے میں چند ایک مقامات ایسے آتے ہیں جنہیں مقامات آہ و فغاں قرار دیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً سوئس ایئر لائن کی ایک نیلی آنکھوں والی قتالہ کے ذکر میں جس سے اپنے خان صاحب بار بار ہمکلام ہوتے ہیں وہ غالباً اس شعر پر عمل پیرا تھے؎
جی چاہتا ہے چھیڑ کر، ہوں ان سے ہمکلام
کچھ تو لگے گی دیر سوال و جواب میں
آخر میں آپ سب سے معذرت کہ اتنی شگفتہ کتاب پر اس قدر ثقیل تحریر آپ کو سننا پڑی دراصل میں خان صاحب کے زہد و تقوی کے رعب میں آگیا تھا۔ مانا کہ وہ بہت مہذب، بہت نستعلیق اور بہت بھلے مانس انسان ہیں۔ میں اگر تھوڑی بہت لبرٹی لے بھی لیتا تو وہ مائنڈ نہ کرتے۔ لیکن پروفیسر پریشان خٹک نے مجھے پٹھان صوفی کا واقعہ سنایا تھا۔ جس کے مطابق ایک شخص اس پٹھان صوفی کے زہد و تقویٰ اور کرامات کا ذکر سن کر ان کی زیارت کے لیے گیا۔ لیکن صوفی صاحب ان کی کسی بات پر ناراض ہوگئے اور انہوں نے اپنی واسکٹ کی جیب سے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ پریشان خٹک نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ اگر کوئی پٹھان صوفی بھی ہو جائے تو بس اتنا فرق پڑتا ہے کہ ڈائریکٹ فائرنگ کی بجائے وہ ہوائی فائرنگ پر اکتفا کرنے لگتا ہے۔ نیلی آنکھوں والی قتالہ کے ذکر میں افتخار علی خان صاحب بھی صرف ہوائی فائرنگ کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ دوسری طرف سے مسلسل ڈائریکٹ فائرنگ ہورہی تھی۔ یقین نہ آئے تو کتاب کا وہ حصہ خود پڑھ کر دیکھ لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *