لندن میں منعقدہ دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کےحقائق 

مبین رشید

mubeen rasheed

22 سے 24 جولائی 2016ء کو برطانیہ کے دو شہروں میں منعقد کی جانے والی کانفرنس کے متعلق برطانیہ اور پاکستان میں چند مٹھی بھر کالی بھیڑوں نے طوفان بدتمیزی بپا کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ حقائق کو براہ راست منظر عام پر لایا جائے۔
1۔ دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کا انعقاد ایونٹس ان لمٹیڈ اور بی ایم ڈی ایف(PMDF) کے تعاون سے ممکن بنایا گیا۔
2۔ پاکستان سے مہمانوں کی آمد اور رابطے کی ذمہ داری PMDF کی تھی جبکہ برطانیہ میں مہمانوں کی آمدورفت اور ہال کے انتظامات ایونٹس ان لمیٹڈ کے ذمے تھے۔
3۔ جن اینکرز اور سینئر صحافیوں کی تصاویر روزنامہ جنگ کے اخبار کے لندن اور پاکستان کے ایڈیشنز میں شائع ہوئیں۔ ان سب سے براہ راست کنفرمیشن کے بعد ان کی تصاویر جاری کی گئیں۔ ان تمام اینکرز اور سینئر صحافیوں کے تصدیقی پیغامات Whatsapp کے پیسنجر اور ای میل میں کی صورت میں موجود ہیں۔
4۔ ایونٹس ان لمیٹڈ اور PMDF کا ابتدائی رائے تھی کہ اس میڈیا کانفرنس میں کسی میڈیا گروپ کو میڈیا پارٹنرز لیاجائے اگرچہ بعد میں حالات تبدیل ہوئے اور جنگ میڈیا گروپ نے میڈیا پارٹنر بننے میں دلچسپی کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں پہلا اشتہار جنگ لندن کے فرنٹ پیج پر شائع کیا گیا۔
5 اشتہارشائع ہونے کے بعد ARY کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال صاحب اور برطانیہ میں ARY کے سربراہ فیاض غفور صاحب نے اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بھی دوسرا میڈیا گروپ میڈیا پارٹنر ہو گا تو ہم اس میں شریک نہیں ہوں گے۔

confreeeeeeeee

6۔ جب جنگ میڈیا گروپ کے میجنگ ڈائریکٹر سرمد علی صاحب کو یہ مسئلہ گوش گزار کیا گیا تو انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر آپ بغیر میڈیا پارٹنر شپ کے یہ پروگرام کریں تو زیادہ مناسب ہے باقی جس حد تک آپ کو ہمارے ادارے کی سپورٹ درکار ہے اس کے لیے ہم حاضر ہیں۔
7۔ اس سلسلے میں دنیا ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو میاں عامر محمود صاحب سے بھی رابطہ کیا گیا اور انہوں نے بتایا کہ وہ ان دنوں ملک سے باہر ہیں اور پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق مصروف ہیں جبکہ الفرڈ کے شنواری ریسٹورنٹ میں دنیا ٹی وی کے برطانیہ میں بیورو چیف اظہر جاوید صاحب سے بھی ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ میڈیا کانفرنس میں کوئی میڈیا پارٹنر نہیں ہونا چاہیے۔ اگلے دن انہیں کنفرم کہا گیا کہ کانفرنس میں اب کوئی میڈیا پارنٹر نہیں ہے۔
8۔ جن لوگوں نے ٹویٹ کیا ان کے متعلق بتانا ضروری ہے کہ ان سب کی اپنی ذاتی وجوہات تھیں جس کی وجہ سے وہ پروگرام میں شریک نہ ہو سکے۔
9 ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب نے سب سے پہلے اس کانفرنس کے لئے کنفرم کیا لیکن بعد میں کہا کہ وہ 15 جولائی کے بعد فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے آنا ہے کہ نہیں۔
10 وسیم بادامی صاحب کو یکدم امریکہ جانا پڑا اور ان کے پاس برطانیہ کا ویزہ نہیں تھا اس لیے انہیں میڈیا کانفرنس کا جو دعوت نامہ بھجوایا گیا وہ اس پر ویزہ اپلائی نہ کر سکے۔

6
11۔ اقرار الحسن صاحب اور ان کی فیملی کے اعزاز میں جولائی کے آخرمیں جرمنی میں ایک تقریب کااہتمام کیاگیا تھا ۔ ان کا پاسپورٹ تاخیر سے ملنے کی وجہ سے وہ پروگرام میں نہ آ سکے۔
12 طلعت حسین صاحب نے بھی سب سے پہلے اس کانفرنس میں آنے کے لئے کنفرم کیا اور ان کی وجہ سے ان کے قریبی دوست کاشف عباسی صاحب نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں ناگزیر وجوہات کی وجہ سے طلعت حسین صاحب نہ آ سکے البتہ کاشف عباسی صاحب نے اپنے وعدے کو پورا کیا۔
13۔ سلمان اقبال صاحب آخری وقت تک رابطے میں رہے اور وہ خاص طور پر لندن تشریف لائے لیکن 22 جولائی کو وہ ہسپتال میں داخل ہو گئے اور انہوں نے اپنی تصویر کاشف عباسی صاحب کو whats appکی جو انہوں نے منتظمین کو دکھائی۔
14۔ کاشف عباسی صاحب کو لندن آمد کے ساتھ ہی دائیں آنکھ میں شدید انفیکشن ہو گیا اور ڈاکٹروں نے انہیں سختی سے منع کیا کہ وہ کسی عوامی اجتماع میں نہ جائیں اور نہ ہی کسی سے ہاتھ ملائیں ، اس وجہ سے وہ کچھ دیر کے لیے لندن والے پروگرام میں تشریف لائے اور پھر ڈاکٹر سے اپوائٹمنٹ کے لیے چلے گئے۔
15۔ عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنا بورڈنگ پاس ایشو کروایا لیکن VIP الاؤنچ میں یکدم طبیعت خراب ہو جانے کی وجہ سے جہاز میں سوار نہ ہو سکے۔
16 کانفرنس کے مخالفین نے تمام تر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اپنی ذہنی پستی کے مطابق ہر قسم کے گھٹا الزامات لگائے، اللہ تعالیٰ بہت بڑا منصف ہے، امید وہ قیامت والے دن ان سے حساب لے گا۔ ان تمام جھوٹے الزامات کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
17 Human Trafficking کا انتہائی گھٹیا الزام لگایاگیا حالانکہ اس کانفرنس میں صرف سپیکرز کو ویزے اور Invitation جاری کئے گئے جن کی تعداد دس سے زیادہ نہیں۔

5

18۔ Sponsorship ، ٹیبلز اور ٹکٹس بیچنے کا گھٹیا الزام لگایا گیا حالانکہ پاکستان سے آنے والے معزز مہمان اس بات کے گواہ ہیں کہ کسی طرح نامساعد حالات میں بغیر کسی وسائل کے اس پروگرام کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا۔
19 ایک کریمنل ریکارڈ کے حامل شخص جس کا اصل نام محمد اکبر، نوید اکبر یا کچھ اور ہے، نے ہائی کورٹ میں جھوٹے Injuction آرڈر کے لئے اپلائی کیا جسے معزز عدالت نے یکسر مسترد کر دیا اور اس شخص کو عدالت کی فیس اور Defendent کی فیس ادا کرنے کا حکم دیا۔
20 برمنگھم میں جس ہوٹل میں مہمانوں کے ٹھہرنے اور پروگرام کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا وہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھا لیکن ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس کی Finishing نہ ہو سکی جس کی وجہ سے برمنگھم کا پروگرام ملتوی کرنا پڑا کیونکہ اتنے کم وقت میں متبادل انتظامات کرنا ممکن نہ تھا۔
21 مانچسٹر میں مقامی صحافتی تنظیم کی جانب سے عین وقت پر معذرت کے باوجود صنم ریسٹورنٹ میں پروگرام کے انعقاد کو یقینی بنایا گیا جس میں معروف قانون دان مخدوم سید طارق محمودالحسن صاحب اور اردوگلوبل کے نامور صحافی محمد اظہر صاحب نے کلیدی کردار ادا کیا۔
اس پروگرام میں جتنی بھی خوبیاں تھیں وہ خاص کر اس خدائے بزرگ و برتر کی رحمت و برکتوں کا نتیجہ ہیں اور جو خامیاں اور کمزوریاں رہی وہ خالصتاً ہماری بشری کمزوریاں ہیں۔ ہم نے پاکستان سے محبت کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ آپ دوستوں کی محبت اور تعاون سے جاری رہے گا اور اس سلسلے میں جتنے بھی مخالفین اور ملک دشمن عناصر ہمارے راستے کی دیوار بننے کی کوشش کریں گے انہیں انشاء اللہ منہ کی کھانی پڑے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *