پلاننگ کا یہ انداز کیا ہے ؟

khalid mehmood rasool

رات بھیگ رہی تھی لیکن یہ چند کاروباری دوست باری باری ٹیکس اتھارٹی کے بارے میں اپنے تجربات سنانے میں ایسے ا لجھے کہ وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ پنجاب کی نو زائیدہ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے اپنے ریونیو بڑھانے کے لیے سر و سز سیکٹر پر بارہ فی صد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ کئی شعبے ایسے ہیں کہ ایف بی آر بھی وہیں سیلز ٹیکس عائد کیے ہوئے ہے۔ اس تضاد میں کاروباری نقصان بھی ہو رہا ہے اور دستاویزی نظام سے لوگوں کو بیزاری بھی ہو رہی ہے۔ بڑی ایسوسی ایشنز تو حکومت کو مذاکرات کی میز پر لے آتی ہیں لیکن سمال اور میڈیم کاروباری اداروں کی شنوائی کم کم ہوتی ہے۔ کوئی عدالتوں کا دروازہ کھٹکا کر داد رسی کی کوشش میں ہے اور کوئی اسلام آباد میں تعلق واسطہ ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے ۔ سمال اینڈ میڈیم کاروباری دنیا بھر اور پاکستان میں انڈسٹری اور کاروبار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیکن کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ پورا سسٹم اس ہڈی کو چٹخانے کی کوشش میں ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بر وقت مل بیٹھ کر ان اقدامات اور ان کے دوہرے اثرات کا جائزہ کیوں نہیں لے سکتیں؟ ہمارے ایک ماہر معیشت دوست کا خیال ہے کہ پاکستان کی معیشت میں سے مربوط پلاننگ کا اہتمام ہی مفقود ہو چکا۔ اب وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف رواں سال کے ریونیو کے لیے ڈنگ ٹپاؤ اقدامات سے آگے دیکھنے کو تیار ہی نہیں۔ ایک زمانہ تھا پاکستان کی معیشت کی تعمیر پانچ سالہ پروگرام تحت پلا ن کی جاتی تھی۔ ساٹھ کی دِہائی میں اس پانچ سالہ پروگرام کے دیکھنے اور سمجھنے کوریا کے ماہرین پاکستان آئے۔ ستّراور اسّی کی دِہائی میں وہ پانچ سالہ پروگرام داخل دفتر ہو گیا اور سالانہ پروگرام پر انحصار شروع ہو گیا۔ البتہ کوریا، چین، بھارت، ترکی سمیت کئی ممالک اپنے وسائل کے بہترین استعمال اور ترقی کی اینٹ سے اینٹ جوڑنے کے ترقیاتی عمل میں پانچ سالہ پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں پلاننگ کمیشن بنیادی طور پر حکومتی ترجیحات کے مطابق پروجیکٹس کی جھٹ منصوبہ بندی کے لیے ہاتھ پیر مارنے کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کا وہ درخشاں دور جس کے تحت پانچ سالانہ منصونہ بندی ہوتی تھی اب کتابی حوالے کے لیے رہ گیا ہے۔ ایف بی آر کی اپنے ماہانہ اور سالانہ ریوینیو ٹارگٹس سے ہی جان نہیں چھوٹتی۔ صوبائی حکومت کی ریونیو اتھارٹی ابھی پاؤں چلنا سیکھ رہی ہے۔ سو لے دے کے چھوٹے اور درمیانے کاروباری ادارے تختہ ء مشق بنے ہوئے ہیں۔
سالہا سال کی ہماری ایسی ہی بداعمالیوں نے معیشت کو گہرے گھاؤ لگائے ہیں۔ پاکستان کی معیشت گذشتہ کئی سالوں کے دوران مختلف النوع مسائل کا شکار رہی۔ ان میں نمایاں اور سنگین ترین معیشت کی مایوس کن بڑھوتری یعنی low economic growth ، مالیاتی خسارہ، بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ، زرمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر، ٹیکس نیٹ میں عدم اضافہ، حکومت کا اندرونی و بیرونی قرضوں پر بڑھتا انحصار اور برآمدات میں جمود جیسے بنیادی مسائل تھے۔ یہ مسائل نہ تو راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں پیدا ہوئے اور نہ ہی راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں حل ہو ں گے۔ ان میں سے بیشتر مسائل معیشت کے بنیادی ڈھانچے ( structure ) سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اصلاح کے لیے دور رس اور تسلسل پر مبنی پالیسی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب زیادہ تر شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں جن سے عام آدمی کو صبح شام واسطہ پڑتا ہے۔ ان شعبوں کی کارکردگی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس کا بالواسطہ اثر قومی پیداوار اور شرح نمو پر پڑتا ہے۔ ان شعبوں میں زراعت، تعلیم، صحت، امن و امان اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کے پاس پالیسی اقدامات کا میدان جبکہ صوبوں کے پاس عملی کارگذاری کا زیادہ بڑا میدان ہے لہذا اب ضروری ہے کہ ٹیکس و دیگر معاشی معاملات میں مشاورت کے ذریعے ٹیکسوں کا نفاذ کریں نہ کہ اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا پنا راگ الاپنے کا رویہ اپنائے رکھیں۔
گذشتہ کئی سالوں میں معیشت کو امن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بے حال کیے رکھا۔ قومی پیداوار میں اضافہ مایوس کن حد تک کم رہا۔ برآمدات بھی انہی مسائل کا شکار ہوئیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ ہر نئے بجٹ نے روایتی ٹیکس گذار صنعتی شعبے کو مزید زیر بار کیا۔صنعت کا کل معیشت میں حصہ سکڑتے سکڑتے اب فقط اکیس فی صد رہ گیا ہے۔ سروسز کا حصہ بڑھ کر ساٹھ فی صد ہونے کو ہے۔ بلیک اکونومی اور غیر روایتی شعبے میں منافع کی شرح بدستور روایتی اور صنعتی شعبے سے کہیں زیادہ ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ صنعت میں اضافہ بہت واجبی سا ہے لیکن پراپرٹی، اسٹاک ایکسچینج سمیت کئی شعبے ہر آن پھل پھول رہے ہیں اور ٹیکس کی جھک جھک سے بھی آزاد ہیں۔ ایسے میں بلیک اکونومی کے مقا بلے پر صنعت اور کاروبار میں سرمایہ کاری خاصا دل گردے کا کام ہے ۔ دوسری طرف ٹیکس کے بڑھتے ہوئے بوجھ ، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، سیلز ٹیکس ریفنڈ سمیت کئی اقدامات نے صنعتوں اور کاروبار کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے میں حیرت نہیں ہوتی کہ نجی بچتوں اور سرمایہ کاری میں کمی کیوں آ رہی ہے۔ جب ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کھل کر نہیں ہوگا تو براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں سال بھر میں فقط ایک ارب ڈالر پر افسوس کیسا !
ملک میں یکساں معاشی ترقی ایک اہم معاشی مقصد ہوتا ہے تاکہ علاقائی تفاوت کم سے کم ہو ۔ گذشتہ کئی دِہایوں سے جاری معاشی پایسیوں کے نتیجے میں معاشی ، تجاری اور صنعتی سرگرمیاں چند بڑے شہروں میں محدود ہو رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک کثیر سیلاب ہر سال بڑے شہروں کا رخ کرتا ہے۔ بڑے شہروں کا انفراسٹرکچر پہلے ہی ناکافی ہے۔ مسلسل انتقالِ آبادی نے شہروں کے انفراسٹرکچر کو مزید ناکافی بنا دیا ہے۔ شہروں میں محروم طبقات کی بستیاں پھیل رہی ہیں۔ بڑھتی آبادی نے پراپرٹی کے کاروبار کو پَر لگا دیے ہیں کہ یہ شعبہ ٹیکس کی جھک جھک سے بے نیاز ہے۔ حکومتی ڈویلپمنٹ ادارے سرخ فیتے اور کرپشن کی زد میں ہیں۔ سو، شہروں کے آس پاس پرائیویٹ رہاشی آبادیوں کے بے ترتیب جنگل اگ رہے ہیں۔ پراپرٹی سر مایہ کاروں کا سرمایہ دو تین سالوں میں ڈبل ہو رہا ہے جبکہ متوسط اور غریب طبقات کے لیے ہاوسنگ ہر گذرتے سال دسترس سے باہر ہو رہی ہے۔ تقریباٌ جمود کا شکار صنعتی شعبہ اور low value سروسز کا شعبہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ملازمتیں اور خاطر خواہ معاشی بڑھوتری کہاں سے لائے؟ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ہاں علاقائی تفاوت دور کرنے کے اقدامات کسی بھی صوبائی حکومت کی ترجیح ہے نہ وفاقی حکومت کا۔ ایسے میں سمال اینڈ میڈیم کاروبار اور اینڈسٹریز کا فروغ بے روزگاری میں کمی لا سکتا ہے اور اپنے اپنے علاقے میں معاشی ترقی کے امکانات پیدا کر سکتا ہے لیکن ایسی بے تکی ٹیکس پالیسیوں سے ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی ہو رہی ہے
ملک کی معیشت میں کاروباری اداروں کا تناسب دیکھا جائے تو سمیڈا کی اپنی تحقیق کے مطابق اٹھانوے فی صد سے زائد کاروباری سمال اینڈ میڈیم کیٹیگری میںّ آتے ہیں۔ ان میں بے شمار ادارے زراعت، برآمدات اور مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں ہیں لیکن ملک کے معاشی ڈھانچے میں پالیسی فیصلے اور ٹیکس اقدات کرتے ہوئے اکثر ان کے مسائل اور وسائل کا صیح ادراک نہیں کیا جاتا۔ حال ہی میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے اندھا دھند ہر ممکنہ شعبے پر ٹیکس لگانے اور کئی صورتوں میں دوہرے ٹیکس سمیت بہت بلند شرح ٹیکس نے سمال اور میڈیم کاروبار کو اچھا خاصا زیر بار بھی کر رکھا ہے اور پریشا ن بھی۔ ایف بی آر پراپرٹی اشرافیہ سے تو مذاکرات کر رہا ہے لیکن ان چھوٹے کاروباری اداروں کی شنوائی کے آثار نہیں۔ نوکر شاہی اور ڈنگ ٹپاؤ اندازِ معیشت نے پہلے ہی معاشی میدان میں مایوسی اور بیزاری کی فصل بو رکھی ہے۔ یہی رویہ برقرار رہا تو سمال اینڈ میڈیم کاروباری ادارے مزید نظر انداز ہوں گے جو یقیناًمعیشت کے لیے نیک شگون نہیں۔ بہتر ہوگا کہ پانچ سالہ اور مربوط پلاننگ کے ایک نئے دور کا پھر سے آغاز کیا جائے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *