چلو اٹھو اس امید پر کہ دنیا ہماری ہے

محمد جواد خان

jawad khan

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دھراتی آئی ہے، اپنے اندر تبدیلی کی لہر پیدا کرتی آئی ہے، ہر دور میں اپنے گہر ے نقوش چھوڑتی آئی ہے، اپنی تلخ یادیں و تلخ حقائق سے ہم کو بارآور کرواتی آئی ہے، یہ وہ ہی تاریخ ہے جس کے پاس ہم مسلمانوں کی بھی کوئی یادیں ہیں کچھ حقائق ہیں، اگر ہم آج کے دور میں اپنی تاریخ سے پوچھیں کہ کیا اگر ہم تم کو دھرا پائیں گئے کہ نہیں۔۔۔؟ کیا ہم پھر سے امن کے داعی کے نام سے دنیا میں اپنا نام پھر سے پیدا کر پائیں گئے۔۔۔؟ کیا ہم اپنے نام کے ساتھٍ مخالفینِ اسلام کی طرف سے لگائے گے دہشت گر د جیسے لقب کو مٹا پائیں گئے۔۔۔؟کیا پھر لوگ ہمارے علم و ایجادات کے قصے سنائیں گئے۔۔۔؟ کیا دجلہ و فرات، خیبر و ہند ہمارے خوف سے گھبرائیں گئے۔۔۔؟ کیا پھر کوئی ایسا مردِ مجاہد پیدا ہو گا کہ جس کے نام سے شرق و غرب دونوں صلاح االدین ایوبی جسیے نام سن کر محلات میں سناٹا پیدا ہو جائے۔۔۔؟ یہ دنیا جو کل تک ہماری غلام تھی پھر سے ہماری غلام بن پائے گی۔۔۔؟ علم، طب، سائنس ، سامان جرائد، فلسفیات میں پھر سے کوئی نیا نام پیدا ہو گا۔۔۔؟
آج ہم صرف نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں، کوئی خوبی بھی ایسی نہیں کہ جس پر ہم فخر کر سکیں ، جس پرہم اپنا نام فخر کے ساتھ پیش کر سکیں۔ آج کا مسلمان صرف دجالی راستے پر چل نکلے ہیں۔ اگر جو کوئی سیدھے راستے کی دعوت دے ، برائی سے روکے، حق بات پر کھڑا ہو جائے، امن و تعلیم، نمازو روزہ، ادب و احترام،پردہ و حیا، لب و لہجہ، گفتگو و گفتار کی بات کرے تو ہم کھل کر اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں، بڑے بڑے نام اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں۔۔۔؟
آج ہم صرف ایک دوسرے کی برائی و خامیاں بیان کرتے ہیں ، ہر وقت کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی دوسرے کی کوئی چھوٹی سے خامی نظر آجائے ، کوئی اس کی کمزوری سامنے آجائے،کسی کا کوئی راز اس کا مل جائے تو اس کو بڑے شوق و جذبے کے ساتھ دوسروں پر عیا کر کے اس کی عزت و حرمت کے ساتھ کھیل کر خود کو بڑا سمجھنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہم سب چاہے وہ ملک کا وزیر اعظم ہو یا کسی محکمے میں کام کرنے والا گریڈ ۔۱ کا ملازم سب کے سب ایک دوسرے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، سب کے سب کرپٹ کے زمر ے میں آتے ہیں، کوئی کرسی کے پیچھے تو کوئی عہدے کے پیچھے، کوئی نام کے پیچھے تو کوئی جھوٹی شہرت کے پیچھے، کوئی پڑا ہے تو دوسرے کو نیچا دیکھا کر خود کو بلند کرنے میں تو کوئی لگا ہوا ہے خود کی انا کی کوشش میں۔
بڑی معذرت و افسوس کے ساتھ یہ بات بھی دیکھیں کہ آج کہ معاشرے کو ہم جیسے نام کے مسلمانوں نے کس قدر بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے آج کے معاشرے میں کس کی قدر رہ گئی ہے۔۔۔؟ اساتذہ کی۔۔۔؟ دالدین کی۔۔۔؟ پڑوسیوں کی۔۔۔؟ اہل محلہ و اہل گاؤں کی۔۔۔؟ بستی و شہر والوں کی۔۔۔؟ رشتہ داروں و دست احباب کی۔۔۔؟ کس کی قدر ہے ہم لوگوں کے دلوں میں۔۔۔؟ ارے اب تہ ہم میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ آئے روز اپنے اکابرین، بزرگانِ دین، اولیاء اکرام رضی اللہ اجمعین کی، اصحابِ رسول ﷺ کی، اہل بیت رضوان اللہ اجمعین کی، اور تو اور نبی پاک حضرت محمد ﷺ کی شان میں بھی آئے روزکستاخی کرتے پھر تے ہیں ، ہم کیا اور ہماری حقیقت کیا۔۔۔؟
کیا کوئی خاک ترقی کریگا اس زمانے میں کہ خود اپنے اکابرین کی عزت نہیں ہمارے گھرانے میں
ہم تو یہ نہ تھے کہ زمانہ مذاق اُڑاتا ہم مسلمانوں کا بڑی عظمت و شان تھی ہمای ہر اک زمانے میں
ترقی و کامیابی کے کچھ اصولوں کو اپناتے ہوئے آگے چلا جاتا ہے، یہ نہیں کہ لوگ تو لوگ اپنے اکابرین و بزرگوں کی شانوں میں گستاخی کر کے، ارے مسلمانو ں اب وقت نہیں ہے ہمارے سونے کا ، اب ہم کو ہماری تاریخ پکار پکار کر بلا رہی ہے کہ لوٹ کر آؤ اپنے دین کی طرف اور دنیا پر چھا جاؤ ۔ جتنا سونا تھا ہم نے سو لیا، جتنا سست ہو کر بیٹھنا تھا ہم نے بیٹھ لیا، جس قد ر ہم نے گستا خیاں و غلطیاں کرنی تھی کر لی ۔ آج ایک زمانہ ہو گیا ہے کہ ہم نے زندگی و سائنس، ایجادات و تجربات میں کوئی کام نہیں کیا، آج ہم مسلمانوں کے نام کے ساتھ دہشت گرد کا نام جوڑ دیا گیا ہے، مگر کیوں ۔۔۔؟ اس نام کو صاف کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ارے جن لوگوں کو ہمارے اکابرین نے منہ دھونے کا، اور کھانا کھانے کا طریقہ سکھایا تھا وہ ہی لوگ آج ہم پر ہنس رہے ہیں۔
ہمارے سامنے زندہ مثال چین کی موجود ہے کہ کس طرح انھوں نے ترقی کی، ہم کو اس دور میں کچھ انقلابی قدم اُٹھانے ہوں گئے، ہتھیاروں سے نہیں قلم و ہنر سے ، اور اپنے نام کچھ کر گزرنا ہو گا کہ اب ہم کو غیروں کی یونیورسٹیوں میں جا کر تعلیم حاصل نہ کرنی پڑے، اپنے ملک میں ایسے وسائل پیدا کرنے ہو نگے کہ نوکریاں ہم جا کر غیر ملکوں میں نہ کریں بلکہ غیر ملکی لو گ ادھر نوکری و سرمایا کاری کرنے کے لیے خوشی کے ساتھ آئیں، مگر یہ سب کیسے ممکن ہے۔۔۔؟ ہم سب کو چاہے وہ غریب ہو یا امیر، وزیر ہو یا چپڑاسی، عورت ہو یا مرد،ہر ایک کو شش کرنی ہے ، ہر ایک کے اندر انقالابی روح پھونکنی ہے، ہر ایک کو ترقی کی لگن رکھنی ہے، ہر ایک کے دل میں امنگ بیدار کرنی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *