’’PDMتباہ دے‘‘

ٹی وی میں دیکھتا نہیں۔’’تازہ ترین‘‘سے باخبررہنے کے لئے موبائل فون سے رجوع مگر ضروری ہے۔ منگل کی شام اس عادت کی بدولت تھوڑی دیر کو گماں یہ ہوا کہ پی ڈی ایم نامی اتحاد میں جمع ہوئی جماعتوں کے اہم ترین قائدین کے مابین اسلام آباد میں اندرونِ خانہ ’’مشاورت‘‘ نہیں ہورہی۔ کرکٹ کا T-20جیسا کوئی میچ بلکہ جاری ہے۔ ’’سب پہ بھاری‘‘ نے بلّا سنبھال رکھا ہے۔ لندن میں مقیم نواز شریف کی جانب سے آئے لوز گیندوں پرکریز کے درمیان آکر چھکے پہ چھکا لگارہے ہیں۔

ان کی جارحانہ بیٹنگ کی براہِ راست رپورٹنگ نے بالآخر وہ ’’خبر‘‘ لوگوں تک پہنچادی جس کا ذاتی طورپر میں گزشتہ برس کے دسمبر سے منتظر تھا۔ عمران حکومت کے بلند آہنگ وزیر جناب مراد سعید نے ’’PDMتباہ دے‘‘ والا ٹویٹ لکھ کر مذکورہ ’’خبر‘‘ کا خیر مقدم کیا۔ اسد عمر نے وفورِ جذبات میں ان کی تائید کی۔ بالآخر طویل اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کی قیادت میڈیا کے روبرو آئی۔ان کے پاس کوئی ’’خبر‘‘ موجود ہی نہیں تھی۔ پی ڈی ایم کے ’’انتقال پر ملال‘‘ کی اطلاع آصف علی زرداری صاحب کے خیالات کی ماہرانہ Leaksکی بدولت ٹی وی سکرینوں پر چیختے چنگھاڑتے Tickersکے ذریعے عوام کو پہلے ہی مل چکی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے 26مارچ کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی تصدیق کردی اورروسٹرم چھوڑ کر چلے گئے۔ مریم نواز نے مگر ہمت نہیں ہاری۔بردباری سے صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرتی رہیں۔

رات گئے تک کئی دوستوں،شناسائوں اور سوشل میڈیا پر حاوی ’’انقلابیوں‘‘ کے پیغامات میرے فون میں نصب سوشل میڈیا Appsکی بدولت ملتے رہے۔ ان میں سے کچھ لوگ واقعتا حیران تھے کہ میرے ’’دوست‘‘ یعنی آصف علی زرداری نے منگل کے روز منظرِ عام پر آیا رویہ کیوں برتا۔اجنبی افراد طنزیہ الفاظ سے اپنا رانجھا راضی کرتے رہے۔ میں اگرچہ لاتعلق ہی رہا۔

گزشتہ برس کے ستمبرمیں PDMکے قیام کے بعد سے اس کالم میں تسلسل سے اصرار کئے جارہا ہوں کہ عمران حکومت کو دھرنوں وغیرہ کے ذریعے گھر بھیجا نہیں جاسکتا۔اپنے دعویٰ کی حمایت میں تحریک انصاف کے اسلام آباد میں 126دنوں تک پھیلے دھرنے کا انجام یا ددلاتا رہا۔کئی بار یہ عرض بھی گزاری کہ عمران حکومت محض ایک حکومت نہیں بلکہ Project ہے۔’’موروثی سیاست‘‘ سے اُکتائے ہمارے معاشرے کے بے شمار طاقت ور گروہوں نے یکسو ہوکر اسے2011میں نہایت منصوبہ بندی سے لانچ کیاتھا۔ ہماری ذہن سازی کے اجارہ دار اینکر خواتین وحضرات نے عمران خان صاحب کو ’’باریاں‘‘ لینے والے ’’چور اور لٹیرے‘‘ سیاست دانوں کا ایمان دار اور نیک دل متبادل ثابت کرنے میں بھرپور توانائی کا مظاہرہ کیا۔اگست 2018میں بالآخر وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لئے منتخب ہوگئے۔اتنی کاوش سے متعارف کروائے Projectکو ’’فرسودہ،شکست خوردہ اور عدالتوں سے سزا یافتہ‘‘افراد کے مچائے شور شرابے کی وجہ سے Abandonنہیں کیا جاسکتا۔اقتدار سے جڑے کھیل کو خدارا T-20میچوں کی صورت نہ لیا جائے۔ سیاست ویسے بھی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔اسے محض سیاہ اور سفید میں تفریق دکھاتی منطق کے اطلاق سے سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔

عمران حکومت کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہوکر گھر بھیجنے کی بات چلی تب بھی اصرار کرتا رہا کہ 1985کے ’’غیر جماعتی انتخابات‘‘ کے بائیکاٹ کے تجربے سے گزرنے کے بعد پیپلز پارٹی اس کے لئے ہرگز آمادہ نہیں ہوگی۔ 2018کے انتخابات میں بھی اس کا ٹھوس نقصان نہیں ہوا۔ سندھ میں بلکہ وہ زیادہ اکثریت کے ساتھ تیسری بار برسراقتدار آئی ہے۔صوبائی حکومت کی ’’قربانی‘‘ اسے کوئی فائدہ پہنچاتی نظر نہیں آرہی۔ موجودہ حالات میں عمران حکومت کی ’’مڈٹرم‘‘ رخصتی کے بعد نئے انتخابات فقط نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کو ایک بار پھر اقتدار میں لانے کی راہ بنائیں گے۔ہر سیاست دان بنیادی طورپر خود غرض ہوتا ہے۔اسمبلیوں اور صوبائی حکومت سے فارغ ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اپنے ایک پرانے حریف کو اقتدار میں واپس لانے میں مددگار کا کردار کیوں ادا کرے؟

مذکورہ بالا سادہ مگر بنیادی نکات پر تاہم ہیجان کی علت میں مبتلا کرتے Digitalدور میں قارئین کی اکثریت نے غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اسی باعث منگل کے دن تاثر یہ پھیلا کہ جیسے پی ڈی ایم کے دیگر رہ نمائوں اور خاص طورپر نواز شریف سے آصف علی زرداری کی تندوتیز گفتگو نے گویا کوئی بم پھوڑدیا۔

آصف علی زرداری صاحب سے میری گزشتہ کئی مہینوں سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان کے مخصوص حالات میں تاہم موصوف سیاست دانوں کی محدودات یا Limitationsسے جبلی طورپر آگاہ ہیں۔ان سے ملے بغیر ہی مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ وہ پی ڈی ایم کے منگل کے روز ہوئے اجلاس میں ’’کیا لکھیں گے جواب میں‘‘۔ان کی مذکورہ اجلاس میں ہوئی گفتگو کی ٹی وی سکرینوں پر ٹکرز کی بوچھاڑ کے ذریعے براہِ راست رپورٹنگ نے لہٰذا مجھے حیران نہیںکیا۔اس سے قبل نہایت خاموشی مگر استقامت سے انہوں نے پی ڈی ایم کے دیگر رہ نمائوں کو قائل کردیا تھاکہ لانگ مارچ وغیرہ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جائے۔ سینٹ سے مستعفی ہونے کے بجائے اس کی مارچ میں خالی ہونے والی 48نشستوں پر ہوئے انتخابات میں بھی اپنے جثے کے مطابق حصہ لینے کی بھرپور مشق سے گزرا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کو اس مشق سے خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ نواز شریف کی مسلم لیگ کو مگر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کی رونق نصیب ہوئی۔اس کے نامزد کردہ امیدوار نے نوشہرہ سے خالی ہوئی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست بھی جیت لی۔پنجاب کے علاوہ دیگر صوبائی اسمبلیوں سے اس جماعت کو سینٹ میں طاقت ور حصہ ملنے کی امید ہی نہیں تھی۔ ’’انتہا پسند‘‘ پرویز رشید ان انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار پاگئے تو چودھری پرویز الٰہی کی فراست کی بدولت پنجاب اسمبلی میں سینٹ کے لئے انتخاب کی ضرورت ہی نہ رہی۔پولنگ کے مرحلے سے گزرے بغیر مسلم لیگ (نون) نے اپنے پانچ امیدوار ایوان بالا میں بھجوادئیے۔

سینٹ کی ایک نشست کے لئے حقیقی معرکہ اسلام آباد میں دیکھنے کو ملا۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو ڈاکٹر حفیظ شیخ کے خلاف کھڑاکرنے کی تجویز پیپلز پارٹی نے دل وجان سے مان لی۔ مسلم لیگ (نواز) نے قومی اسمبلی میںاپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود گیلانی صاحب کا نہایت خلوص سے ساتھ دیا۔تحریک انصا ف کے کم از کم چار اراکین قومی اسمبلی نے فقط اس وجہ سے گیلانی صاحب کی حمایت میں ووٹ ڈالا کیونکہ انہیں آئندہ انتخاب میں مسلم لیگ (نون) کا ٹکٹ دینے کا وعدہ ہوا ہے۔گیلانی صاحب نے بالآخر ڈاکٹر حفیظ شیخ کو شکست سے دو چار کیا تو عمران حکومت کو یقینا ’’وختہ‘‘ پڑگیا۔ وزیر اعظم کو انتہائی عجلت میں قومی اسمبلی سے اعتماد کا ازسرنو ووٹ لیناپڑا۔صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ کے عہدے پر براجمان رکھنے کے لئے بقول شبلی فراز ’’ہر حربہ‘‘ استعمال کرنا پڑا۔

پیپلز پارٹی کی اب یہ خواہش تھی کہ عمران حکومت کو مزید ’’وختہ‘‘ ڈالنے کے لئے 26مارچ کے لانگ مارچ کے بجائے عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے رخصت کرنے کے لئے پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے میں تحریک عدم اعتماد کی رونق لگائی جائے۔ نواز شریف مگر اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔عثمان بزدار کی ممکنہ فراغت کے بعد وہ چودھری پرویز الٰہی کو 2021کے ’’منظور وٹو‘‘ کی صورت اُبھرتادیکھنے کو آمادہ نہیں تھے۔ پارلیمان کی پچ پر ایک اور مقابلے میں نواز شریف کی عدم دلچسپی نے آصف علی زرداری کو بھی منگل کے دن اپنے دل میں جمع ہوئے غبار کے اظہار کے لئے مجبور کردیا۔ لانگ مارچ اس کے نتیجے میں مؤخر ہوگیا۔اب پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم سے باقاعدہ علیحدگی کا انتظار کرنا ہوگا۔

پی ڈی ایم کی ہانڈی کا منگل کے دن عین چوراہے میں پھٹ جانا عمران حکومت کے لئے یقینا نہایت ہی خوش گوار خبر ہے۔’’چوروںاور لٹیروں‘‘ کے مابین ہوئے ’’اتحاد‘‘ کی حقیقت کو اس نے عیاں کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر چھائے تحریک انصاف کے جذباتی حامی تاہم ٹویٹر پر چند Trend چلاتے ہوئے منگل کے دن کو مریم نواز شریف کے ذاتی ’’یوم شکست‘‘ کی صورت اجاگر کررہے ہیں۔مبینہ طورپر ’’فالودہ بیچنے والوں‘‘ کے نام پر بینکوں میں ’’منی لانڈرنگ‘‘ کے کھاتے کھولنے والے آصف علی زرداری کی فراست بھی وفورِ جذبات میں تسلیم کی جارہی ہے۔اقبالؔ نے مگر متنبہ کررکھا ہے کہ ’’ثبات‘‘ ہر زمانے میں فقط ’’تغیر‘‘ ہی کو میسر ہوتا ہے۔مجھے گماں ہے کہ چند ہی ہفتوں بعد ’’فراست‘‘ اب فی الوقت جیل میں بند ہوئے شہباز شریف کی جانب سے دکھائی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: