ملتان، راولپنڈی میں کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ

لاہور: کورونا وائرس ملتان اور راولپنڈی میں تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں وائرس کی مثبت کیسز کی شرح بالترتیب 7 اور 6 فیصد تک بڑھ گئی ہے جو گزشتہ تین مہینوں کے دوران دونوں شہروں میں پہلی بار خطرناک حد تک اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق لاہور میں مثبت کیسز کی شرح بڑھ کر 3 فیصد ہوگئی جس پر صحت کے حکام نے تشویش ظاہر کی جنہوں نے حال ہی میں اس وائرس کی 'دوسری لہر' کا اعلان کیا تھا۔

کابینہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں وائرس کی مثبت کیسز کی مجموعی تعداد 2 فیصد بڑھ گئی ہے جو چند ماہ قبل صوبے میں تقریباً 0.1 فیصد تھا۔

جمعرات کو محکمہ صحت کے جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین اپڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 338 مزید افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جو 23 جولائی کے بعد سے ریکارڈ تعداد ہے جب یہاں کورونا وائرس کے 313 نئے کیسز سامنے آئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وائرس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورے صوبے میں 5 مریضوں کی جانیں لیں۔

محکمہ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ’حالیہ سرکاری اطلاعات نے تصدیق کی ہے کہ وائرس کی دوسری لہر کا آغاز ہوگیا ہے، خاص طور پر صوبے کے بڑے شہروں میں جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مثبت کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26 ستمبر کو پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی شرح ایک فیصد تھی جو نومبر کے پہلے ہفتے میں دوگنی ہوگئی ہے، اسی طرح یکم اکتوبر کو لاہور میں وائرس کی منتقلی کی شرح 0.1 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 3 فیصد ہوگئی ہے۔

یکم اکتوبر کو ملتان اور راولپنڈی میں وائرس کے مثبت آنے کی شرح 2 فیصد تھی جو نومبر کے پہلے ہفتے میں بالترتیب ان شہروں میں 7 فیصد اور 6 فیصد ہوگئی ہے۔

کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے تعلیمی اداروں میں مثبت کیسز کی شرح 0.17 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کے لیے نامزد نجی لیبارٹریز میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں عوامی سمیت نجی ہسپتالوں میں کام کرنے والے صحت کے پیشہ ور افراد میں بھی کیسز کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پورے صوبے میں مجموعی طور پر 25 صحت کے پیشہ ور افراد، جن میں 13 ڈاکٹرز اور 6 نرسز بھی شامل ہیں میں وائرس کا مثبت تجربہ کیا گیا۔