غزل

چند اشعار کہے اور خفا ہو گئے تمیار کیا بات ہوئی ہم سے جدا ہوگئے تم ایک دنیا تمہیں شیطان

غزل

بیٹھا ہوا اداس ہوں اپنے مکان میں  یارب پناہ دے مجھے اپنی امان  میں  فاقہ کشی کرادے نہ سودا ضمیر کا  یارب حیات بخش مرے جسم و جان میں  اےمیرےدوست اتنی صفائی نہ پیش کر کردار دِکھ رہاہے مری داستان میں تیرے بغیر حال  بَھلا کیا سناؤں  میں ہرپل گزررہا ہے مرا امتحان میں کیسے بھلاؤں  اسکو دل وجان سے فہیم مدت سے ہے مقیم وہ جو میرےدھیان میں

غزل

منافق سے شکستہ خاطری دیکھی نہیں جاتی پریشاں دیکھ لیتے ہیں خوشی دیکھی نہیں جاتی چمن یہ جان لو رہتی