غزل

میں اگر تیری محبت کے بھی قابل ہوتامیرے سینے میں دھڑکتا ہوا اک دل ہوتا رات دن تجھ کو ہی

غزل‎‎

میں تجھکو دیکھ کے بے اختیار ہوتا ہوںتری اداؤں پہ ہر پل نثار ہوتا ہوں نظر اُٹھاؤں جِدھر ،تو دِکھائی

غزل

بھلا کس بات کی خاطر مجھے اب آزمائے گافریب اور جھوٹ، مکاری سے کوئی کیا ڈرائے گا وہ دعوی کرتا