نظم

"امتیاز گورکھپوری" پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے اِس قدر مصروفیت   آج کل تم کہکشاں سے    رنگ بدلتے بادلوں

غزل

"پروفیسرڈاکٹر محمد کامران" روز  قرآن  پڑھا  کر  کہ یہ  دن  کٹ جائیں ذکر  اذکار  کیا   کر  کہ یہ  

تبدیلی

کوئی چیزہمیشہ سی نہیں ہےتبدیلی لازم ہےتبدیلی آۓ گیممکن ہے ہم اسے نہ دیکھ سکیںوہ ہمارے وقتوں میں نہ آئےہمارے

ویلنٹائن ڈے

امتیاز گورکھپوریممبئی آج ویلنٹائن ڈے ہےآج پھر تیرا ملنے کا وعدہجو کہ آج تک پورا نہیں ہواآج کی شامکچھ غبارے،

نظم - سرد رات

"امتیاز گورکھپوری" تنہا میں اک موڑ پہ بیٹھا سوچ رہا ہوںاب تک اس کو آ جانا تھا!سردی میں یہ رات