صحافی صدف نعیم کے شوہر کا واقعے پر قانونی کارروائی کرنے سے انکار

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے دوران خاتون رپورٹر کے عمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکر جاں بحق ہونے کے معاملے پر صدف نعیم کے شوہرمحمد نعیم نے کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کردیا، ان کا کہنا تھا کہ اہلیہ کی موت حادثاتی تھی۔

یاد رہے کہ 30 اکتوبر کی رات کو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران خاتون صحافی مبینہ طور پرعمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئی تھیں۔

صحافی کے شوہر محمد نعیم نے کامونکی کے تھانہ صدر میں جمع کرائے گئے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ میری اہلیہ لانگ مارچ میں ڈیوٹی کے دوران ڈیوائیڈر پر کھڑی تھیں، ڈیوائیڈر سے گرنے کے باعث میری اہلیہ کنٹینر کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئیں۔

پولیس کو تحریری بیان میں انہوں نے بتایا کہ وہ واقعے پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی لاش کا پوسٹ مارٹم کروانا چاہتے ہیں، یہ واقعہ حادثاتی طور پر پیش آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’لاش کو فوری طور پر لواحقین کے حوالے کیا جائے تاکہ وقت پر تدفین کی جاسکے‘۔

عمران خان کی متوفی کے گھر آمد

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی متوفی صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

عمران خان نے مرحومہ صدر نعیم کی والدہ اور ان کے بچوں سے بھی ملاقات کی۔

عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شفقت محمود، سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال، وزیر بلدیات میاں محمود الرشید، ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ، جنرل سیکریٹری لاہور زبیر خان نیازی سمیت دیگررہنما موجود تھے۔

اس کے علاوہ اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان بھی صحافی صدف نعیم کے گھر پہنچے، انہوں نے مرحومہ کے شوہر اور بچوں سے اظہار تعزیت اور مغفرت کی دعا کی

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدف نعیم اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئیں، مرحومہ نے ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ صدف نعیم ایک باہمت اور باصلاحیت پیشہ ورانہ صحافی تھیں، صحافی اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد بھی متوفیہ کے گھر تعزیت کے لیے پہنچیں اور مغفرت کے لیے دعا کی۔

اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اور عندلیب عباس بھی تعزیت کے لیے مرحومہ کے گھر پہنچے تھے۔

خیال رہے کہ 30 اکتوبر کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کوریج کے دوران کنیٹنر کے نیچے آنے سے نجی چینل ’چینل 5‘ کی رپورٹر صدف نعیم جاں بحق ہوگئی تھیں۔

چینل 5 کے مطابق صحافی صدف نعیم پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے کنٹینر سے گر کر اس کے نیچے آگئیں۔

عمران خان نے صدف نعیم کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کے بعد فوری طور پر مارچ کو روک دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ پنجاب اور صحافی برادری کی جانب سے صدف نعیم کی موت پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔