وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کرنے کا فیصلہ

وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بابت سمری صدر پاکستان کو ارسال کردی گئی ہے۔

اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوائس صدر عارف علوی کے پاس چلی گئی ہے، اب عمران خان کا امتحان ہے کہ وہ دفاع وطن کے ادارے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں یا متنازع۔

انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی کی بھی آزمائش ہے کہ وہ سیاسی ایڈوائس پہ عمل کریں گے یا آئینی وقانونی ایڈوائس پر، افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے ادارے کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنا ان کا فرض ہے۔

دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سمری آنے کے بعد میں اور صدر پاکستان آئین و قانون کے مطابق کام کریں گے۔

گزشتہ روز چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی سے میرا رابطہ ہے اور آرمی چیف کی تعیناتی کے بارے میں سمری جاتی ہے تو وہ مجھ سے مشورہ کریں گے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری کے حوالے سے سوال پر کہا تھا کہ میں صدر سے رابطے میں ہوں اور وہ مجھ سے مشورہ کریں گے کیونکہ یہاں تو آرمی چیف کے بارے میں پوچھنے کے لیے وزیراعظم ایک مفرور کے پاس چلا جاتا ہے میں تو پارٹی کا سربراہ ہوں، وہ مجھ سے بالکل بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت والے کہتے ہیں کہ میں جنرل فیض حمید کو لانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ستمبر میں جب سے یہ ڈرامہ شروع ہوا ہے میں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ آرمی چیف کون بنے گا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا مگر صدر عارف علوی اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قانون کے اندر رہ کر کھیلیں گے۔

اس سے قبل سنیارٹی لسٹ کے مطابق قیاس کیا جارہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر میں سے کوئی بھی چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

جنرل ندیم رضا کی صدر، وزیر اعظم سے الوداعی ملاقات

وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے الوداعی ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے جنرل ندیم رضا کی دفاع وطن کو مزید مضبوط بنانے اور آرمی کے ادارے کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیر اعظم نے جنرل ندیم رضا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے آپ کی خدمات پر فخر ہے اور آپ جیسے باوقار اور باصلاحیت افسر نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے منصب پر نہایت شاندار خدمات انجام دیں۔

ادھر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بھی الوداعی ملاقات کی۔

جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ملکی دفاع کے لیے جنرل ندیم رضا کی خدمات کو سراہا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

نئے آرمی چیف کے تقرر کا معاملہ

یاد رہے کہ سبکدوش ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دراصل 2019 میں ریٹائر ہونا تھا تاہم ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے اگست 2019 میں ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی تھی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے قیاس آرائیاں زیر گردش تھیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر توسیع لینے جارہے ہیں لیکن چند ماہ قبل خود آرمی چیف نے ان تمام تر افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس سال ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بعد میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کم از کم دو مواقع پر ان کے ریٹائرمنٹ کے منصوبوں کی تصدیق کی تھی جبکہ گزشتہ چند مہینوں میں خود آرمی چیف نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ان کا ملازمت جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اگلے آرمی چیف کی تقرری کو موجودہ سیاسی منظرنامے میں انتہائی اہم تصور کیا جارہا ہے جہاں رواں سال کامیاب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک مسلسل سیاسی بحران اور افواہوں کی زد میں ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے ریٹائرمنٹ پلان کے بارے میں شکوک و شبہات اتنے زیادہ تھے کہ جب عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے خلاف سیاسی اقدام جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے منسلک ہے اور آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسی وجہ سے عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی تھی۔

جنرل باجوہ نے بالآخر یکم نومبر کو آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کے دورے کے ساتھ فارمیشنز کے اپنے الوداعی دوروں کا آغاز کیا تھا اور اگلے دن مسلح افواج کی اسٹریٹیجک فورسز کمانڈ کا دورہ کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *