جرمنی: اسٹالین دور میں یوکرین میں بھوک سے ہونے والی ہلاکتیں ’نسل کشی‘ قرار دینے کی قرارداد

جرمنی کے اراکین اسمبلی جوزف اسٹالین کے دور میں 1930 کی دہائی میں شدید بھوک سے لاکھوں یوکرینوں کی ہلاکت کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کی قرارداد منظور کرنے کے لیے تیار ہیں، ایسی زبان کیف کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ’اے ایف پی‘ کے مطابق جرمنی کے حکمراں اتحاد اور قدامت پسند اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ متن کا مقصد روس کو تنبیہ کرنا ہے کیونکہ ماسکو کی جانب سے مسلط جنگ کی وجہ سے یوکرین کو سردیوں میں ممکنہ طور پر بھوک کے بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اراکین اسمبلی کی جانب سے اگلے ہفتے قرار داد پر ووٹ ڈالنے کا منصوبہ ہے، جس دوران یوکرین میں قحط کا یادگاری دن ہوتا ہے جو ہر سال نومبر کے آخری ہفتے میں آتا ہے۔

متن میں لکھا ہے کہ ’ہولودومور‘ یوکرین میں قحط کے طور پر جانا جاتا ہے، 20 صدی کے پہلے پچاس سال میں یہ جابرانہ اور غیر انسانی جرائم کی فہرست میں شامل ہے جس میں لاکھوں لوگ دنیا سے چلے گئے تھے۔

اس میں مزید بتایا گیا کہ صرف یوکرین کے لوگ یا اناج پیدا کرنے والے خطے ہی اس بھوک اور جبر کا شکار نہیں ہوئے، آج کے نقطہ نظر سے یہ نسل کشی تاریخی سیاسی تعریف پر پورا اترتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 33-1932 میں ’ہولودومور‘ جس میں یوکرین میں ہلاکتیں غذائی قلت کی وجہ سے ہوئی تھیں، جسے کیف اسٹالین حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر نسل کشی کو قرار دیتا ہے اور اسے کسانوں کو ختم کرنے کا ارادہ بتاتا ہے۔

جوزف اسٹالین کی مہم اجتماعی طور پر اناج اور دیگر خوراک پر زبردستی قبضہ کرنے کی مہم تھی جس کی وجہ سے لاکھوں افراد شدید بھوک کا شکار ہو گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ہولودومور طویل عرصے سے روس اور یوکرین کے تعلقات میں اہم رکارٹ رہا ہے۔

ماسکو کی جانب سے کیف کے بیان کو مسترد کیا جاتا ہے، وہ اس واقعے کو قحط کے وسیع تناظر میں دیکھتا ہے کہ اس سے وسطی ایشیا اور روس متاثر ہوئے تھے۔

موجودہ تنازع سے خدشات جنم لیتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس اناج کے ذخیروں کی سہولت کو ٹارگٹ کررہی ہے اور ماسکو کی جانب سے یوکرین کی برآمدات کو بحیرہ اسود پر راستے کو روکنے سے الزامات لگائے گئے ہیں کہ روس دوبارہ خوراک کو جنگ میں بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔

قرارداد کو لانے والوں میں سے ایک جرمنی کی گرین پارٹی کے روبن ویگنر نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جوزف اسٹالین دور کی مجرمانہ اور ظالمانہ روایت پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے روزنامہ فرینک فرٹر کو بتایا کہ ایک بار پھر تشدد اور دہشت کے ذریعے یوکرین میں زندگی کو بنیادی چیزیوں سے دور کیا جارہا ہے، اور اس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

روبن ویگنر کا کہنا تھا کہ ہولودومو کو نسل کشی قرار دینے کا مقصد ماسکو کو تنبیہ کا پیغام دینا ہے۔