فٹبال ورلڈ کپ: وہ تاریخی میچ جب سیٹیاں خواتین ریفری بجائیں گی

قطر میں کھیلے جا رہے فٹبال کے عالمی مقابلوں میں آج جب کوسٹاریکا اور جرمنی کے درمیان میچ ہوگا تو یہ فٹبال کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہوگا جب ریفری کی سیٹیاں خواتین کے پاس ہوں گی۔

تاریخ رقم کرنے والی ان خواتین ریفریز میں فرانس کی سٹیفنی فریپارٹ، برازیل کی نویزا بیک اور میکسکو سے تعلق رکھنی والی کیرن  ڈیاز مڈینا شامل ہیں۔

فریپارٹ نے چند روز پہلے ہی یہ انہونا کارنامہ انجام دے دیا تھا جب انھیں منگل کے روز میکسیکو اور پولینڈ کے میچ میں چوتھا ریفری مقرر کیا گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فریپارٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتی ہیں کہ ہم پر کتنا دباؤ ہے، لیکن ہمیں بڑے تحمل سے کام کرنا ہے اور نظریں کھیل پر ہی مرکوز رکھنی ہیں اور یہ نہیں سوچنا کہ میڈیا کیا کہہ رہا ہے۔ ہمیں بس اس پر نظر رکھنی ہے کہ کھیل کے میدان میں کیا ہو رہا ہے۔‘

ہر کام میں اوّل

38 سالہ فرانسیسی ریفری ورلڈ کپ سے پہلے ہی یورپی فٹبال کے مقابلوں میں تاریخ رقم کر چکی ہیں۔ انھیں پہلی خاتون ریفری بننے کا اعزاز  اس وقت حاصل ہوا تھا جب سنہ 2019  میں انھوں نے یورپ کے سُپر کپ کے میچ میں یہ ذمہ داری نبھائی تھی۔ اور پھر سنہ 2020 میں وہ چیمیئن لیگ کے میچوں میں بھی ریفری تھیں۔

سٹیفنی فریپارٹ
،تصویر کا کیپشنسٹیفنی فریپارٹ میکسیکو اور پولینڈ کے میچ میں بھی ریفری تھیں

خاتون ریفری کا تجربہ کیسے رہا؟

بی بی سی نے جب پوچھا کہ آیا انھیں کبھی کھلاڑیوں، مینیجرز یا شائقین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، فریپارٹ کا کہنا تھا ’میں نے جب سے یہ کام شروع کیا ہے مجھے فٹبال ٹیموں، کلبوں اور خود کھلاڑیوں کی طرف سے ہمیشہ تعاون اور حوصلہ افزائی ملی ہے۔ اسی لیے میں خود کو ایک عام ریفری ہی سمجھتی ہوں۔ مجھے ہمیشہ بخوشی قبول کیا گیا ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ پہلے کی طرح آج بھی مجھے خوش آمدید کہا جائے گا۔‘   

کیرن ڈیاز مڈینا
،تصویر کا کیپشنکیرن ڈیاز مڈینا کی خواہش ہے کہ وہ نوجوان لڑکیوں کے لیے بھی ایک مثال بنیں

دوسری جانب نویزا بیک یہ بات تسلیم کرتی ہیں کہ ان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا اور انھیں تلخ لمحات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ اب انھوں نے تنقید کرنے والوں سے نمٹنے کا گُر سیکھ لیا ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے جب لوگ ڈھکے چھپے انداز میں تعصب کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں، گھٹیا مذاق کرتے ہیں یا محض ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں، تو میں خود کو یہی بتاتی ہوں کہ لوگ جو سمجھتے ہیں یا میرے بارے میں جو کہتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ میں وہ نہیں ہوں۔‘

38 سالہ نویزا بیک کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ پروفیشنل فٹبال کی سطح پر خواتین کے خلاف تعصب میں مسلسل کمی آ رہی ہے، لیکن نچلی سطح پر اس حوالے سے ابھی ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔

’ایمیچئور یا (نچلی سطح) پر تعصب زیادہ ہے۔ ہم (خواتین ریفریز) کو چاہیے کہ ہم اپنا کام بہت اچھے انداز میں کریں، میدان میں ٹھیک فیصلےکریں، تو ہر چیز ٹھیک ہوتی جائے گی۔‘

آج کے میچ کی تیسری خاتون ریفری، ڈیاز مڈینا بتاتی ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ دوسری لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بنیں ’اور انھیں دکھاؤں کہ اگر آپ محنت کرتے ہیں اور اپنے کام سے پیار کرتے ہیں تو آپ کے خواب پورے ہو جاتے ہیں۔‘

یاد رہے  کہ اس ورلڈ کپ کے لیے فیفا نے کل 36 ریفریوں کا انتخاب کیا ہے جن میں سے چھ خواتین ہیں۔