وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے لیے ’اعتماد کا ووٹ‘ اور تحریک ’عدم اعتماد‘ ایک ہی وقت میں کیوں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک مرتبہ پھر سیاسی جوڑ توڑ کا موسم ہے۔ آخری مرتبہ لگ بھگ تین ماہ قبل پاکستان مسلم لیگ ن، اس کی اتحادی جماعتوں اور پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی نظر آئی تھی۔

اس وقت پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت قائم رکھنے کی تگ و دو میں تھی اور ن لیگ اس سے حکومت چھیننے کی کوشش کر رہی تھی۔

ابتدائی ناکامی، عدالتی جنگوں اور ضمنی انتخابات کے بعد سابق وزیرِاعظم عمران خان کی جماعت سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں حکومت قائم رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان کے اتحادی ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی نے ان کا ساتھ دیا اور بدلے میں پنجاب کے وزیرِاعلیٰ بن گئے۔

تاہم اس مرتبہ پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی ہی حکومت ختم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ اس کو یوں بھی نہیں چاہتی کہ پنجاب کی باگ ڈور کسی دوسرے کے ہاتھ منتقل ہو۔ وہ موجودہ اسمبلی ہی ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ نئے انتخابات کروائے جائیں۔

صوبے میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کو اسمبلی تحلیل کرنے سے روکنا چاہتی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اعلان کر چکے ہیں کہ 23 دسمبر کو پنجاب اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔

اس تناظر میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیرِاعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ ساتھ ہی گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیرِاعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی ہے۔

اپنے ہدایت نامے میں گورنر نے بدھ کے روز چار بجے اسمبلی کا اجلاس بلا کر وزیراعلیٰ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے یعنی انھیں یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ انھیں اسمبلی کے 186 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے نزدیک گورنر کی ہدایت ’قانونی اور آئینی نہیں۔‘ اپنی رولنگ میں ان کا مؤقف ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی چل رہا ہے اس لیے ایک چلتے ہوئے اجلاس میں نیا اجلاس کیسے بلایا جا سکتا ہے۔

منگل کے روز بھی انھوں نے اجلاس کی کارروائی کو جمعے کے روز تک مؤخر کیا لیکن اجلاس کو ختم نہیں کیا۔

اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر گورنر کی ہدایت کے مطابق اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ نہیں لیا جاتا تو کیا ہو گا؟ اور اگر اجلاس نہیں ہوتا تو کیا وزیرِاعلیٰ اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا سکتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع ہو چکی ہے؟

دوسری صورت میں اگر گورنر کی ہدایت پر اعتماد کا ووٹ لیا جاتا ہے اور وزیرِاعلٰی ایوان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا تحریکِ عدم اعتماد ختم ہو جائے گی؟

اور اگر ایسا ہے تو حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے لگ بھگ ایک ہی نوعیت کی دو تحریکیں ایک وقت میں لانے کی حکمتِ عملی کیوں اپنائی؟

آئینی ماہرین کے مطابق ان میں سے چند معاملات بحث طلب ہیں۔

پنجاب اسمبلی

وزیراعلٰی کے اعتماد کا ووٹ لینے کا کیا مطلب ہے؟

گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے پیر کے روز وزیرِاعلی پنجاب کو اعتماد کو ووٹ لینے کے حوالے سے جاری کیے جانے والے اپنے ہدایت نامے میں گذشتہ چند روز میں سامنے آنے والے چند واقعات کو بنیاد بنایا ہے۔

حال ہی میں وزیرِاعلٰی پنجاب کی طرف کابینہ میں ایک رکن کا اضافہ اور اس کے حوالے سے چیئرمین عمران خان کا لا علمی کا بیان اور وزیراعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کے حالیہ ٹی وی انٹرویوز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے لکھا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے اتحاد میں دراڑیں نمودار ہو رہی ہیں اس لیے میں مطمئن ہوں کہ وزیراعلٰی ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔‘

اس لیے انھوں نے وزیراعلٰی سے اعتماد کا ووٹ لینا کا کہا ہے۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے چوہدری پرویز الہی کو 186 ممبرانِ اسمبلی کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کے اتحاد کے پاس 190 نشتیں ہیں جبکہ حزبِ اختلاف کو 180 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ یوں اگر کوئی جوڑ توڑ نہ ہو تو چوہدری پرویز الٰہی کے لیے 186 اراکین کی حمایت حاصل کرنا مشکل نہیں ہو گا۔

بلیغ
،تصویر کا کیپشنگورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے بدھ کے روز چار بجے اسمبلی کا اجلاس بلا کر وزیراعلیٰ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے

عدم اعتماد کی تحریک اعتماد کا ووٹ لینے سے کیسے مختلف ہے؟

آئینی ماہرین کے مطابق دونوں تحریکوں میں قدرے مشترک یہ ہے کہ دونوں کا نتیجہ لگ بھگ ایک ہی جیسا ہے یعنی دونوں میں وزیراعلٰی کو ایوان کا اعتماد جیتنا ہے یا ہارنا ہے۔

وکیل اور آئینی ماہر حافظ احسن احمد کھوکھر کے مطابق گورنر کی ہدایت پر وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی صورت میں یہ حکومتی جماعت یا وزیرِاعلٰی کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ 186 ممبران کی حمایت ثابت کریں۔

’جبکہ حزبِ اختلاف کی طرف سے لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کی صورت میں یہ حزبِ اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وزیراعلٰی کو 186 اراکین کی حمایت حاصل نہیں۔‘

اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایوان میں حکومتی جماعت کو بظاہر عددی برتری حاصل ہے لیکن تحریکِ عدم لانے والی حزبِ اختلاف یہ سمجھتی ہے کہ حکومتی جماعت کے چند اراکین یا اتحادی اب ان کے ساتھ نہیں۔

تو بیک وقت ایک جیسی دونوں تحریکیں کیوں لائی گئیں؟

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور آئینی ماہر حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ دونوں تحریکیں بیک وقت نہیں لائی جا سکتیں کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔

’حزبِ اختلاف کی طرف سے یہ دونوں تحریکیں بیک وقت لانا ان کی میلافائیڈی یعنی نیت میں بے ایمانی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ سمجھتے تھے کہ وزیراعلٰی ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں تو صرف گورنر ان کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیتے، ساتھ ہی عدم اعتماد لانے کی کیا ضرورت تھی۔‘

حامد خان کے خیال میں اعتماد کے ووٹ ہی میں پتا چل جاتا کہ وزیراعلٰی کے پاس اکثریت کی حمایت ہے یا نہیں رہی۔

حامد خان خود بھی پاکستان تحریک انصاف کے بانی ممبران میں شامل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلٰی پنجاب کے خلاف دونوں تحریکیں بیک وقت لانے میں ’حزبِ اختلاف کا واحد مقصد یہ ہے کہ 23 تاریخ کو متوقع اسمبلی تحلیل کو روکا جا سکے اور انھیں جوڑ توڑ کا وقت مل جائے۔‘

آئینی ماہر حامد خان کے مطابق حزبِ اختلاف ’جوڑ توڑ‘ کرنے کے لیے گورنر کے ذریعے اعتماد کے ووٹ کی تحریک سامنے لائی ’کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک میں انھیں کامیابی ملنا مشکل ہے۔‘

پرویز الہی

تو عدم اعتماد کی تحریک لانے سے حزب اختلاف کو کیا فائدہ ہو گا؟

آئین کے مطابق اگر وزیرِاعلٰی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا دی جاتی ہے تو اس کے بعد وہ اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے۔

تحریک جمع ہونے کے تین دن بعد اور پھر سات دن کے اندر عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ قانونی و آئینی ماہر حامد خان کے مطابق ’عدم اعتماد کی تحریک لانے سے حزب اختلاف کا مقصد یہی ہے کہ وزیرِاعلٰی اسمبلی تحلیل نہ کر پائیں۔‘

اس کے علاوہ اس تحریک کے ذریعے ان کے لیے یہ ثابت کرنا انتہائی مشکل ہو گا کہ وزیرِاعلٰی کے پاس اکثریت کی حمایت نہیں کیونکہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے پاس درکار نمبرز پورے ہیں اور ان میں جوڑ توڑ ممکن نہیں۔

ماضی میں پاکستان میں جو عدم اعتماد کی تحریکیں سامنے آئی ہیں، ان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ حزبِ اختلاف حکومتی اتحاد کے چند ممبران کو اپنے ساتھ ملا لیتی تھی۔ وہ اپنی ہی جماعت کے خلاف ووٹ کر دیتے تھے۔

تاہم سپریم کورٹ کے حالیہ ایک فیصلے کے بعد ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔ عدالتِ عظمٰی کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی ممبر اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ کرے گا تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہو گا بلکہ اس کی رکنیت بھی ختم ہو جائے گی۔

کیا اعتماد کے ووٹ میں جوڑ توڑ ممکن ہے؟

ایک خیال یہ بھی ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں عدم اعتماد کی تحریک کے ساتھ گورنر کے ذریعے اعتماد کے ووٹ کی تحریک اس لیے بھی لائی کہ اس میں ان کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کرنا ممکن ہو گا۔

یعنی وہ حکومتی اتحاد کے چند ممبران کی خفیہ حمایت حاصل کر لیں اور وہ ممبران ووٹنگ کے دوران غیر حاضر ہو جائیں تو اس طرح وہ وزیراعلٰی کو اعتماد کے ووٹ میں شکست دلوا سکتے ہیں۔

آئینی ماہر حامد خان سمجھتے ہیں کہ ’حزب اختلاف کی طرف سے اس چال کا بظاہر یہی مقصد نظر آ رہا ہے۔‘

تاہم قانونی اور آئینی ماہر حافظ احسن کھوکھر سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس حوالے سے آرٹیکل 62 اے کی فیصلے کی تشریح اعتماد کے ووٹ کے عمل پر بھی لاگو ہو گی۔

’اگر کوئی ممبر اپنی پارٹی کے واضح فیصلے کے باوجود ووٹ ہی نہیں دیتا تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ پارٹی فیصلے کے خلاف گیا اور اس کے خلاف بھی وہی کارروائی ہو گی جو عدم اعتماد کی تحریک میں پارٹی کے مخالف ووٹ دینے والے کے خلاف ہو گی‘ یعنی اس کی رکنیت ختم ہو سکتی ہے۔

پرویز الہی

تو کیا گورنر کے حکم پر بدھ کو اعتماد کا ووٹ ہو گا؟

پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے گورنر کی ہدایت پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ منگل کی رات جاری کی گئی سپیکر کی رولنگ میں انھوں نے کہا کہ ’کیونکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے سے چل رہا ہے، اس دوران نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔‘

سپیکر پنجاب اسمبلی کے مطابق ’اسمبلی کے قواعد اور آئین کی رو سے گورنر نہ حکم قانونی نہیں۔ اس پر عملدرآمد ممکن نہیں، اس لیے اسے مسترد کیا جاتا ہے۔‘

آئینی اور قانونی ماہر حامد خان سمجھتے ہیں کہ ایک جاری اجلاس کے دوران نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔ ’پہلے اس اجلاس کو ختم ہونا ہو گا اس کے بعد گورنر کی ہدایت پر نیا اجلاس بلا کر اس میں اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔‘

ان کی رائے یہ بھی ہے کہ ’ایک ہی طرح کی دو تحریکیں ایک ہی ساتھ پیش کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔‘

تاہم وکیل اور آئینی ماہر حافظ احسن کھوکھر سمجھتے ہیں کہ ’آئین کی شق 130 کی ذیلی شق سات میں وقت کا تعین نہیں کیا گیا تاہم گورنر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایک معقول وقت کا تعین کر کے اس کے اندر وزیراعلٰی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔‘

حافظ احسن کھوکھر سمجھتے ہیں کہ اگر گورنر کے پاس اس کو معقول جواز ہو اور وہ اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے تو وزیراعلٰی کے لیے یہ ووٹ لینا ضروری ہو گا۔

چند آئینی ماہرین کے مطابق اس معاملے پر ابہام موجود ہے اور اس حوالے سے سپیکر کی رولنگ اہمیت کی حامل تصور کی جائے گی۔

پنجاب اسبملی

’وزیراعلٰی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہو سکتا ہے‘

سپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے گورنر کی ہدایت کو مسترد کرنے کے بعد اگر وزیراعلٰی گورنر کی طرف سے مقرر کرد وقت پر اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’وزیرِاعلٰی پرویز الٰہی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہو سکتا ہے۔‘

تاہم قانونی ماہرین کے خیال میں یہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے۔

قانونی ماہر حامد خان کے مطابق ’جب یہ معاملہ عدالت میں جائے گا تو عدالت کے سامنے پہلا سوال اجلاس بلانے کے حوالے سے ہو گا۔ اس کے بعد وہ دو تحریکوں کے معاملے کو بھی شامل کر سکتی ہے۔‘

ان کے خیال میں معاملہ عدالت میں جانے سے حزبِ اختلاف کو یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کو معاملہ مزید آگے چلا جائے گا۔

نمبرز پورے ہیں تو وزیراعلٰی اعتماد کو ووٹ کیوں نہیں لے رہے؟

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ حکومتی جماعت کی طرف سے اعتماد کا نہ کروانے کی بظاہر وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ’اس میں انھیں اپنا نمبر پورا کرنا ہو گا اور اگر وہ اس سے بھاگ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے انھیں خوف ہے کہ ان کے نمبر پورے نہیں۔‘

تاہم قانونی ماہر حامد خان کے مطابق حکومتی اتحاد کی طرف سے اعتماد کو ووٹ کے لیے اجلاس طلب کرنا نہ صرف قانونی مسئلہ ہے بلکہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح حزبِ اختلاف بلا وجہ اسمبلی کی تحلیل کو طول دینا چاہتی ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے منگل کی رات لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت سپیکر کی رولنگ پر عملدرآمد کرے گی۔

’اپوزیشن صرف الیکشن سے بھاگنا چاہتی ہے لیکن وہ کچھ بھی کر لیں اسمبلی تحلیل کو نہیں روک سکتے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سپیکر کا استحقاق ہے کہ وہ وزیراعلٰی کے خلاف کون سی تحریک پر ووٹنگ پہلے کرواتے ہیں۔

’جمعے کے روز جب اجلاس ہو گا اس میں تحریکِ عدم اعتماد نمٹا دی جائے گی۔ اس کے بعد وزیرِاعلٰی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو بھجوا دیں گے۔‘

یاد رہے کہ اگر وزیرِاعلٰی گورنر کو سمری بجھوا دیتے ہیں تو ان کے لیے اس پر عملدرآمد لازم ہے۔ اگر وہ نہ بھی کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی تحلیل تصور کی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اس صورت میں وزیر اعلیٰ کا دفتر سیل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم چند ماہرین کے خیال میں حزبِ اختلاف جمعے کے روز عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے بجائے پہلے گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے کو نمٹانے پر اسرار کرے گی۔