شام: اسلحہ ساز فیکٹری پر ڈرون حملہ، سات افراد مارے گئے

شامی حکومت کے زیر اتنظام مشرقی شام میں ایران کے حمایت یافتہ دھڑوں کی ہتھیاروں کی فیکٹری پر کیے گئے ڈرون حملے میں عام شہریوں سمیت سات افراد مارے گئے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ بات برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ نے رپورٹ کی۔

یہ واضح نہیں ہوا کہ دیر الزور صوبے میں اس حملے کے پیچھے کون تھا جب کہ یہاں اس سے قبل ہونے والے حملوں میں امریکی قیادت میں موجود اتحاد اور اسرائیل ملوث رہا ہے۔

صرف ایک روز قبل ہی اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے حلب ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا جس سے کافی نقصان ہوا اور شام کے زلزلہ زدہ شہر سے آنے اور جانے والی پروازیں معطل ہوگئیں۔

سربراہ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس رامی عبدالرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے یتھیاروں کی فیکٹری اور ہتھیاروں سے بھرے ٹرک کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے میں سات افراد مارے گئے جب کہ 15 زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مرنے والے میں تین افغان، تین شامی اور ایک نامعلوم شامی شہری شامل تھے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ نشانہ بنائی گئی عمارت کو حال ہی میں اسلحہ ساز فیکٹری میں تبدیل کیا گیا تھا۔

اسرائیل نے 2011 سے شام میں سرکاری افواج اور ان کے اتحادیوں کے خلاف متعدد فضائی اور میزائل حملے کیے لیکن اس نے بہت کم ہی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے رد عمل دیا ہے۔

رامی عبدالرحمٰن نے کہا کہ بدھ کے روز ہونے والے حملے میں دیر الزور کے اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں اعلیٰ ایرانی کمانڈر اور لبنان کی حزب اللہ تحریک کے سینئر افسران کی رہائش گاہیں اور ہیضے کے مریضوں کے لیے ایک ایرانی ہسپتال موجود ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ پڑوس میں شدت پسند تنظیم داعش کے ’دہشت گردوں‘ کی بچھائی گئی بارودی سرنگ کا دھماکا ہوا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے رپورٹ کیا کہ دھماکے میں “تین شہری ہلاک اور سات زخمی ہوئے، نیوز ایجنسی نے نے دھماکے کے بعد جائے وقوع کی تصاویر بھی جاری کیں۔