کھیل

’ایشیا کپ ملتوی کیے جانے کی رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں‘

Share

ایشیا کپ ملتوی ہونے یا پاکستان کو چھوڑ کر ایک متوازی ٹورنامنٹ دبئی میں کھیلے جانے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل(اے سی سی) کے ذرائع نے کہا کہ انہوں نے رکن ممالک کو اس طرح کی کوئی تجویز نہیں دی۔

 رپورٹ کے مطابق پاکستانی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کسی غیر جانب دار مقام پر ایشیا کپ کھیلنے پر راضی نہیں ہوتا تو ٹورنامنٹ ملک کے ہاتھوں سے نکل سکتا ہے۔

50 اوور کے فارمیٹ والے ایشیا کپ 2023 کی میزبانی کے حقوق پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ہیں لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ جو کہ ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ نہیں کرے گی۔

ایشیا کپ رواں سال ستمبر میں ہونا ہے تاہم ابھی اس کی باقاعدہ تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔

پی سی بی نے ’ہائبرڈ ماڈل‘ پر ایشیا کپ کی میزبانی کرنے کی تجویز دی تھی، جس میں پاکستان اپنے میچز ملکی سرزمین پر کھیلے گا، جب کہ بھارت غیر جانبدار مقام، ممکنہ طور پر دبئی میں کھیلے گا۔

خیال کیا جارہا ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ کو متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے، جیسا کہ 2018 اور 2022 میں کیا گیا تھا جب بھارت اور سری لنکا ٹورنامنٹ کے میزبان تھے۔

اے سی سی بورڈ کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پربتایا کہ ’پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے لیکن ایشیا کپ کو ملتوی کرنے کے بارے میں کوئی بحث یا تجویز پیش نہیں کی گئی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری بات یہ کہ اگر ایشیا کپ منسوخ ہوتا ہے تو پہلے پی سی بی کو آگاہ کیا جائے گا لیکن اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا، اے سی سی کے چیئرمین (شاہ) نے ابھی تک کچھ بھی ریکارڈ پر سامنے نہیں رکھا۔

ان کے مطابق ایونٹ کو ملتوی کرنے یا منسوخ کرنے کے لیے اے سی سی کو ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس بلانا ہوگا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین جے شاہ 7 روز میں (ورچوئل یا فزیکل) اجلاس بلا سکتے ہیں تاہم اب تک ایسی کسی میٹنگ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اے سی سی ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کی بہترین معلومات کے مطابق پی سی بی، اے سی سی اور بی سی سی آئی کے درمیان آخری باضابطہ ڈاک کا تبادلہ ایک دعوت نامہ تھا جو بھارتی ٹیم کو اعلیٰ ترین سیکیورٹی اور بہترین مہمان نوازی کی یقین دہانی کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم ظاہر ہے، موجودہ حساس سیاسی ماحول میں بھارت کے لیے پاکستان کا سفر کرنا مشکل ہے’۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آفیشل براڈکاسٹر نشریاتی معاہدوں پر کتنی رقم کا وعدہ کیا ہے، جس میں کم از کم دو یقینی پاک-بھارت میچز شامل ہیں اور اگر دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچ جاتی ہیں تو تیسرا میچ بونس ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں میڈیا کے حقوق اور اسٹار اسپورٹس کے ساتھ معاہدے کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے ایشیا کپ میں کم از کم دو پاک-بھارت مقابلوں کے لیے کروڑوں روپے ادا کیے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ جب اے سی سی ممبران کے درمیان غیر جانبدار مقام پر ٹورنامنٹ کی میزبانی کے بارے میں غیر رسمی بات چیت ہوئی تو ذرائع نے تصدیق کی کہ بی سی سی آئی کو سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) کی حمایت حاصل ہے۔

ذرائع نے کہا کہ ’دیکھیں، اگر اے سی سی کے چیئرمین کی جانب سے ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ طلب کرنے کے بعد ایشیا کپ منسوخ ہو جاتا ہے، تو اس کے اثرات صرف پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت پر ہی نہیں بلکہ پی سی بی کے ایف ٹی پی کیلنڈر کے علاوہ سری لنکا، افغانستان یا بنگلہ دیش کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر بھی پڑیں گے۔