دنیابھرسےہفتہ بھر کی مقبول ترین

آزادی صحافت کا عالمی دن، جبر اور غلط معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار

آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر دنیا پر بھی صحافیوں پر بڑھتے ہوئے جبر اور آزادی صحافت پر لگائی جانے والی قدغن کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کے منظم اناز میں پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دنیا بھر کے صحافیوں کی حالت زار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال بھی کچھ خاص بہتری نہ آ سکی اور کچھ ملکوں میں صحافیوں پر ریاستی جبر میں اضافہ ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحافیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے دنیا کے 180ممالک میں سے 70 فیصد میں صحافیوں کے لیے ماحول کو ’ابتر‘ قرار دیا ہے جبکہ صرف 8 ممالک میں اس ماحول کو ’اچھا‘ قرار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر شائع ہونے والی اپنی 21ویں سالانہ رپورٹ میں ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے ناروے کو صحافیوں کے لیے سب سے ’بہترین‘ اور شمالی کوریا میں سب سے ’برا‘ قرار دیا۔

اس سال این جی او نے مختلف اقسام کی غلط معلومات کے ازدحام پر خصوصی توجہ دی ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تیزی سے ارتقا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے سبب ان غلط معلومات میں اصل گم ہو جاتی ہے۔

رپورٹر ود آؤٹ بارڈرز کے سیکریٹری جنرل کرسٹوف ڈیلوئر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی صنعت غلط معلومات کی پیداوار، تقسیم اور پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے، غلط معلومات کے بہاؤ میں قابل اعتماد معلومات دب گئی ہیں، صحیح اور غلط، اصل اور مصنوعی معلومات میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کو سب سے بہترین مثال قرار دیا اور اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے رقم کی ادائیگی کے نئے نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسک من مانی کرتے ہوئے ادائیگی کا نظام متعارف کراکر معلومات کو ایک نئی انتہا پر پہنچا رہے ہیں۔

’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کئی ممالک میں سیاسی مداخلت کی روایتی شکل جڑیں پکڑتی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں چین، روس اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دو تہائی ممالک میں ایسے سیاسی عناصر ہیں جو اکثر منظم انداز میں بڑے پیمانے پر غلط معلومات یا پراپیگنڈا مہمات میں ملوث ہوتے ہیں۔

این جی او کی نئی رپورٹ میں بدترین ممالک کی فہرست میں شمالی کوریا کے علاوہ ویتنام اور چین شامل ہیں اور اسی طرح اس فہرست میں بھارت کی تنزلی ہوئی ہے جس میں مودی کی زیرپرستی صورتحال بد سے بدتر ہو گئی ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان کا 159واں نمبر ہے جبکہ امریکا بھی تین درجہ تنزلی کے بعد 45ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

جن ممالک کی رینکنگ میں سب سے زیادہ تنزلی ہوئی ان میں پیرو سرفہرست ہے جو 33 درجے کمی کے بعد 110ویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ سینیگال 31 اور ہیٹی 29درجہ تنزلی کا شکار ہوا۔

اسی طرح صحافی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے سب سے زیادہ بہتری برازیل کی رینکنگ میں آئی جو 18 درجے بہتری کے بعد 92ویں نمبر آ گیا ہے۔

صحافت کے اعتبار سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ سب سے بدتر خطے رہے جبکہ یورپ بدستور سب سے محفوظ رہا لیکن صحافیوں پر حملوں کے سبب جرمنی کی درجہ بندی میں پانچ درجہ کمی ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہماری تمام تر آزادی کا انحصار صحافتی آزادی پر ہے لیکن دنیا کے ہر کونے میں آزادی صحافت پر حملے ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کے عالمی دن کے ساتھ ساتھ ہر روز عالمی برادری سچ کے ساتھ کھڑے ہونے والے صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔

تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے اس حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ صحافت کا عالمی دن ارشد شریف کے نام، پاکستان میں یہ دن ایسے وقت منایا جا رہا ہے جب ریاستی جبر عروج پر ہے اور صحافت پابند سلاسل ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں فواد چوہدری نے کہا کہ ایک طرف نوجوان صحافی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور دوسری طرف صحافیوں کی خرید و فروخت کی منڈی لگی ہوئی ہے، پاکستان کی صحافت اپنے بدترین دور سے گزر رہی ہے لیکن ہمارا عزم ہے کہ ملک میں صحافت کو آزاد کروائیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین آزادی صحافت اور شہریوں کی درست معلومات تک رسائی کے حق کا ضامن ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں 2018 سے 2022 تک صحافت ایک کٹھن دور سے گزری۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا چار سالہ دور صحافیوں کے لیے خطرناک دور تھا، پی ٹی آئی کے چار سالہ دور میں ایسی پراسرار سنسر شپ جاری تھی جس نے صحافیوں کو خوفزدہ کیا، اس وقت کے وزیر اعظم کو عالمی ادارے نے ’پریس فریڈم پریڈیٹر‘ کا شرمناک خطاب دیا، عمران خان نے نہ صرف صحافیوں کی آواز بند کی بلکہ ان کے قلم توڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت پریس کی آزادی پر کامل یقین رکھتی ہے اور پاکستان کا آئین آزادی صحافت اور شہریوں کی درست معلومات تک رسائی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر مزید کہا کہ عمران خان نے صحافت پر قدغنیں لگائیں لیکن آج ملک میں صحافت مکمل طور پر آزاد ہے اور حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی رہے گی۔