فیچرز

77 ہزار روپے میں ترکی کا پرتعیش سفر جس میں ’چھپے ہوئے ثقافتی ہیرے‘ دیکھے جا سکتے ہیں

Share

یہ تقریباً 1051 کلومیٹر طویل سفر ہے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے شروع ہو کر خوبصورت پہاڑی نظاروں سے بھرپور راستوں پر ملک کے سب سے اہم تاریخی مقامات سے گزرتا ہوا دیاربکر تک جاتا ہے۔

دنیا بھر میں ٹرین کا سفر پھر سے مشہور ہو رہا ہے۔ ایک جانب میکسیکو میں مایا ٹرین ہے تو دوسری جانب یورپ میں برسلز اور پراگ کے درمیان چلنے والی ٹرین۔ بہت سی ٹرین کمپنیاں اب پرآسائش سہولیات فراہم کر رہی ہیں جیسا کہ اوریئنٹ ایکسپریس کی نئی ’لا دولچے ویٹا‘ ٹرین جو انتہائی پرتعیش انداز میں اٹلی کی سیر کرواتی ہے۔

عالمی سفری منصوبہ بندی سے متعلقہ ویب سائٹ ’روم ٹو ریو‘ کے سی ای او یش مننگی کے مطابق اس کی وجہ ٹرین کے سفر کی مانگ میں اضافہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 2019 کے مقابلے میں ٹرین کا سفر کرنے والوں کی تعداد میں 170 گنا اضافہ ہوا۔

اس رجحان کی سب سے تازہ مثال ترکی کی نئی میسوپوٹامیا ٹرین ہے جس کا آغاز اپریل 2024 میں ہوا۔ اس سے قبل ’ایسٹرن ایکسپریس‘ نامی ایک ٹرین 2019 میں شروع ہوئی تھی جس کی مقبولیت کے بعد متعارف کروائی جانے والی ’میسوپوٹامیا ایکسپریس‘ سیاحوں کو ترکی کے وسطی اناطولیہ خطے کا ایک یادگار سفر کرواتی ہے جو تاریخ اور ثقافت سے مالامال ہے۔

’ٹرپ ایڈوائزر‘ نامی ویب سائٹ کے مطابق ایک جانب کے سفر کے لیے 257 یورو کا ٹکٹ ملتا ہے جو پاکستانی کرنسی کے حساب سے تقریباً 77 ہزار روپے بنتے ہیں اور اگر واپسی کا ٹکٹ بھی لینا ہو تو اسی ویب سائٹ کے مطابق 230 یورو مزید دینا ہوں گے۔

مقامی حکام کے مطابق میسوپوٹامیا ایکسپریس کا آغاز ایک ایسی مہم کا حصہ ہے جس کے تحت سیاحوں کو استنبول اور انتالیہ جیسے مشہور مقامات کے علاوہ ملک دیکھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ استنبول اور انتالیہ دنیا میں سب سے زیادہ سیاحوں کی منزل بن جانے والے شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔

ترکی ٹورزم پروموشن اینڈ ڈویلپمنٹ ایجنسی کی نمائندگی کرنے والی ویئل ایسوسی ایٹس کے صدر جیوفری ویئل کہتے ہیں کہ ’ایک کوشش یہ بھی ہے کہ ملک کے وسیع ریلوے نظام کو سرمایہ کاری کی مدد سے تیز رفتار ٹرینوں سے بہتر بنایا جائے۔‘

اس ٹرین میں 180 مسافر سوار ہو سکتے ہیں اور دوران سفر مسافروں کو روایتی کھانا فراہم کیا جاتا ہے جس کے لیے کھانے کا الگ سے ٹرین کا کمپارٹمنٹ ہے۔ یہ پورا سفر 24 گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے جس کے دوران ہر منزل پر تین سے چار گھنٹے کے لیے رک کر سیاحوں کو مشہور مقامات اور ثقافت دیکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

ویئل کہتے ہیں کہ ’یہ ٹرین سیاحوں کو ایک جامع تجربہ دیتی ہے جس میں خطے کی ثقافتی، تاریخی اہمیت اور خوبصورتی واضح ہو جاتی ہے۔ یہ عام ٹرین کا سفر نہیں بلکہ وقت کا سفر ہے، جو ترکی کے چھپے ہوئے ثقافتی ہیرے دکھاتی ہے، چونکا دینے کی حد تک خوبصورت علاقوں سے گزرتی ہے۔‘

انقرہ کے بعد ٹرین کی پہلی منزل کیسری کا شہر ہے جسے کاپاڈوشیا خطے کا دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنے بازاروں اور قدیم عمارات کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں ایک ایسا آتش فشاں بھی موجود ہے جو اب فعال نہیں۔

اس کے بعد ٹرین مالاٹیا کا رخ کرتی ہے جو اناطولیہ کے سب سے بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ سات ہزار سال سے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت اور ثقافتی تبادلوں کا مرکز رہا ہے۔

اگر موسم گرما میں اس ٹرین پر سفر کیا جائے تو یہاں کا سالانہ خوبانی فیسٹیول بھی دیکھا جا سکتا ہے جو 20 سے 22 جولائی تک منعقد ہوتا ہے۔

ترکی

مالٹایا کے بعد قدیم ہرپوت شہر کے سائے میں بنے ’الیزگ‘ پر ٹرین رکتی ہے جو ترکی کی تاریخی وسعت کا جائزہ لینے کے لیے بہترین مقام ہے۔

یہاں کا ہرپوت قلعہ یونیوسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ ہے جبکہ 1866 میں بننے والی عزت پاشا مسجد بھی اسی شہر میں ہے۔

آخری منزل دیاربکر کا شہر ہے جو 297 قبل از مسیح میں رومیوں نے بنایا تھا۔ یہاں کا قلعہ بھی یونیسکو کی جانب سے ثقافتی مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ میسوپوٹامیا ایکسپریس ترکی کی واحد نئی ٹرین نہیں۔ سیاحوں کے لیے ایک اور ٹرین ’وانگولو ایکسپریس‘ بھی شروع کی گئی ہے جو انقرہ سے چلتی ہے۔ ان دونوں ٹرینوں کا ٹکٹ ٹرکش سٹیٹ ریلویز سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔