پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

اسلام آباد: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی کے پیشِ نظر مارچ کے مہینے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ہونے کا امکان ہے۔

 رپورٹ کے مطابق اس سلسے میں متعدد تجاویز موجود ہیں مثلاْ دبئی کے خام تیل کی قیمت 31 جنوری کو 62 ڈالر فی بیرل تھی جو گزشتہ روز کم ہو کر 50 ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی، اسی طرح خام تیل کی بین الاقوامی بینچ مارک قیمت 60 ڈالر فی بیرل سے18.33 فیصد کم ہونے کے بعد 51 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

اس سلسلے میں ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ موجودہ قیمتوں کی بنیاد پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور پیٹرول کی قیمتیں تقریباً 15 روپے کم ہونے کا حساب لگایا ہے۔

اس کے برعکس وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اپنی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ اوگرا کے اندازے سے صرف نصف قیمت کی کمی صارفین تک پہنچے اور باقی رقم کو ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر کے غیر متوقع فائدے کے طور پر اپنے پاس رکھا جائے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا گراف—اے ایف پی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا گراف

عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی کم درآمدی قیمت سے ہونے والے ریونیو نقصانات اور رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں ریونیو کے مجموعی شارٹ فال کو پورا کرنا چاہتی ہے۔

ساتھ ہی یہ بات سامنے آئی کہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر کے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کم کرکے 7 روپے 23 پیسے اور پیٹرول کی قیمت 5 روپے 79 پیسے کرنے پر کام کیا جارہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ (پی ایم ڈی یو) نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 27 روپے فی لیٹر کم کرکے 127 روپے سے 100 روپے کرنے کی سفارش کی ہے۔

یونٹ نے مارچ کے مہینے کے لیے پیڑول کی قیمت میں بھی 15 روپے کمی کر کے 100 روپے فی لیٹر تک کرنے کی تجویز دی۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کمی کر کے مہنگائی کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ ملک میں زراعت اور ٹرانسپورٹیشن کا بنیادی ذریعہ ہے۔

اسی طرح دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی کی وجہ بننے کے باعث ڈیزل کی قیمتیں پیٹرول سے کم ہیں۔

تاہم عہدیدار کا کہنا تھا کہ قیمتوں کے ڈھانچے میں تیزی سے ردو بدل اور رولز میں ترامیم وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد کی متقاضی ہیں اور اس لیے ڈلیور کرنے می کچھ وقت لگے گا۔

عہدیدار کے مطابق مختلف آرا کے باعث وزیراعظم کے دفتر سے اوگرا اور وزارت توانائی کو حکم دیا گیا ہے کہ مجوزہ قیمتوں کو سختی سے راز میں رکھا جائے اور اس حتمی فیصلے کے لیے آج (ہفتے کو) مشاورت کے لیے ایک اور اجلاس بلایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت اضافی ریونیو حاصل کرنے کے لیے پہلے ہی تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصد کے اسٹینڈر ریٹ تک پہنچا چکی ہے۔

قبل ازیں گزشتہ برس جنوری تک حکومت لائٹ ڈیزل آئل پر 0.5 فیصد، مٹی کے تیل پر 2 فیصد، پیٹرول پر 8 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 13 فیصد جی ایس ٹی وصول کررہی تھی۔

اس کے علاوہ گزشتہ چند ماہ کے دوران حکومت نے نئے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی بھی 8 روپے سے بڑھا کر 18 روپے کردی ہے۔