دبئی میں پاکستان پراپرٹی شو: پاکستان کی سرکاری املاک کی فروخت کے لیے تشہیر

دبئی میں ایک نجی ادارے کی جانب سے جمعے سے شروع کیے گئے دو روزہ 'پاکستان پراپرٹی شو' میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرکاری املاک کی فروخت کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

ان 32 املاک بشمول پلاٹس، دکانیں، فلیٹس، ریسٹ ہاؤسز اور دیگر جائیدادوں کی فروخت کا کام آئندہ سال فروری یا مارچ تک مکمل ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم پاکستان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کی ملکیتی ہزاروں ایکٹر غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی موجود ہے جس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ وزیر اعظم کے مطابق ان املاک کی فروخت سے ملکی معیشت کو وقتی طور پر سہارا دیا جائے گا۔

سرکاری اراضی کی فروخت کا فیصلہ رواں برس کے آغاز پر کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں تمام سرکاری اداروں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنی اپنی غیر استعمال شدہ یا غیر منافع بخشں جائیدادوں کی تفصیلات وفاقی حکومت کو ارسال کریں اور ان معاملات کی نگرانی کے لیے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی کی سربراہی میں پانچ رکنی 'ایسٹ مینیجمنٹ یونٹ' قائم کیا گیا تھا۔

’اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ‘

گذشتہ ادوارِ حکومت میں مختلف سرکاری اثاثوں کی نجکاری تو کی جاتی تھی تاہم تحریک انصاف کی حکومت پہلا ایسا تجربہ کرنے جا رہی ہے جس میں ’غیر استعمال شدہ‘ یا ’غیر منافع بخش‘ سرکاری اراضی کو فروخت کر دیا جائے گا۔

سیکریٹری نجکاری رضوان ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اثاثوں، جیسا کہ پاور پلانٹس، بینکس یا اداروں، کی نجکاری کی جاتی تھی۔ ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا کام ہے جو نجکاری کمیشن کو کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ نجکاری کے علاوہ یہ اضافی کام ہے جو کمیشن کو سونپا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 32 املاک کی فروخت کا کام فی الحال ’پائلٹ پراجیکٹ‘ ہے اور جیسا جیسا یہ سلسلہ آگے بڑھے گا اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ نجکاری کا کام آسان نہیں ہوتا اور مختلف اداروں کی جانب سے ان کی ملکیتی جائیدادوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے میں رکاوٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ان کے مطابق 'اگر ہم اس کام کو 70 فیصد بھی مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی۔'

سیکریٹری نجکاری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے فنانشل ایڈوائزر کی خدمات حاصل کی ہیں جو ان 32 املاک کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کا اندازہ لگانے کا کام کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تمام 32 املاک کو فروخت کیا جائے گا یا ان میں چند کا کوئی دوسرا مصرف نکالا جائے گا جس کا فیصلہ فنانشل ایڈوئزر کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے گا۔

معیشت
’حاصل ہونے والی آمدنی کو عوام کی فلاح و بہبود اور سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں جیسی بنیادی سہولتوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا‘

انھوں نے کہا کہ دبئی میں ہونے والے پراپرٹی شو میں یہ املاک فروخت نہیں کی جا رہیں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر سرمایہ کاروں کو بتایا جائے گا کہ ہمارا یہ عمل جاری ہے اور وہ اس میں حصہ لیں۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ دو ماہ تک یہ املاک فروخت کے لیے پیش کر دی جائیں گی۔

یہ 32 املاک کہاں ہیں؟

سیکریٹری نجکاری کے مطابق اس میں چند چھوٹی پراپرٹیز ہیں جبکہ کچھ بڑے سائز کے پلاٹ ہیں۔ ’16 پلاٹس وہ ہیں جو زلزلے کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے ادارے، ایرا، کی جانب سے دیے گئے ہیں۔ یہ پلاٹس ایرا کو نیب سے پلی بارگین کے تحت ملے تھے۔ اسی طرح کچھ بڑے سائز کے پلاٹ ہیں جو بڑے شہروں کی مرکزی شاہراؤں پر موجود ہیں۔ دو ریسٹ ہاؤسز ہیں جو خالی پڑے تھے۔‘

دیگر املاک فیڈرل بورڈ آف ریوینیو، وزارت کامرس اور دیگر وزارتوں کی ملکیت ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ املاک لاہور، کراچی، سوات، فیصل آباد اور اسلام آباد میں واقع ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کیا کہتے ہیں

بدھ کو اس حوالے سے وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس بھی منعقد ہوا تھا۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ اربوں کی جائیدادوں کو مثبت طریقے سے برؤے کار لاتے ہوئے ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عوام کی فلاح و بہبود اور سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں جیسی بنیادی سہولتوں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا اہم جزو ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کہ اربوں کی جائیدادوں کے باوجود وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اربوں روپے کا سالانہ خسارہ اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں ان بیش قیمت جائیدادوں کو استعمال میں نہ لاکر مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر استعمال شدہ املاک کی نشاندہی نہ کرنے والے یا ان کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے سرکاری افسران و ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کیا معیشت کا وقتی سہارا ملے گا؟

معیشت

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہر معیشت قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ گذشتہ حکومتوں نے بھی اثاثے فروخت کرنے کی کوشش کی تھی، جیسا کہ پی آئی اے کا روز ویلٹ ہوٹل، جو کامیاب نہیں ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا سرکاری اراضی کی فروخت درحقیقت حکومتی اثاثوں کی نجکاری ہی ہے۔

’سنہ 1992 میں 100 کے قریب صنعتوں اور بینکوں کی نجکاری کی گئی تھی۔ اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ حاصل ہونے والی آمدن صحت اور تعلیم پر خرچ کی جائے گی مگر آج ملک میں تعلیم اور صحت کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا کہ اثاثے فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدن سے سکول اور کالج بنیں گے بلکہ اس کی باقاعدہ وضاحت ہونی چاہیے کہ رقم کا استعمال کس طرح، کتنا اور کہاں ہو گا۔

قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ ’جب آپ اثاثے بیچتے ہیں تو وقتی طور پر کچھ پیسے آ جاتے ہیں مگر اگر معیشت کی بحالی کے لیے درست سمت میں اقدمات نہ کیے جائیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں‘۔