کورونا کے سبب پاکستان اور آئرلینڈ کی ٹی20 سیریز ملتوی

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) اور کرکٹ آئرلینڈ نے جولائی میں شیڈول 2 ٹی20 میچوں پر مشتمل سیریز کو کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

دونوں بورڈز نے یہ مشترکہ فیصلہ آئرش حکومت کی جانب سے 10 اگست سے قبل بند دروازوں کے پیچھے میچوں کا انعقاد ممکن نہ ہونے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔

10اگست کے بعد آئرلینڈ سے سیریز کا انعقاد ممکن نہیں کیونکہ ان دنوں پاکستان کرکٹ ٹیم 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیے انگلینڈ میں موجود ہوگی۔‎

پاکستان اور آئرلینڈ کو 12 اور 14 جولائی کو ڈبلن میں 2 ٹی20 میچز کی سیریز کھیلنی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر دورہ آئرلینڈ کے التواء پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسے وینیو پر کرکٹ کھیلنے کے منتظر تھے جہاں 2018 میں پاکستان نے آئرلینڈ کے خلاف حریف ٹیم کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

وسیم خان نے کہا کہ ہم ایک ایسے ملک میں بھی کرکٹ کھیلنے کے منتظر تھے جہاں مداحوں نے ہمیشہ پاکستان کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان مشکل حالات میں کرکٹ آئرلینڈ کے فیصلے کا مکمل احترام کرتے ہوئے اس کی توثیق کرتے ہیں، ہمارے لیے کھلاڑیوں، آفیشلز اور مداحوں کی صحت اور حفاظت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں تمام ممالک کے لیے اپنی ہوم سیریز کا انعقاد کرنا مشکل ہے اور اس دوران ہم سب کو بطور کرکٹ فیملی مل کر کام کرنا ہوگا۔

وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی ان مشکل حالات میں کرکٹ آئرلینڈ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہم حالات معمول پر آتے ہی ایک بار پھر دورہ آئرلینڈ کے منتظر ہوں گے۔

دوسری جانب کرکٹ آئرلینڈ کے چیف ایگزیکٹو ویرن ڈاٹرم نے کہاکہ یکم مئی کو آئرش حکومت کے مرحلہ وار لاک ڈاؤن اٹھانے کے فیصلے کے بعد ان تاریخوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی میزبانی کرنا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سیریز کے انعقاد کے لیے مختلف آپشنر پر غور کیا تاہم حکومتی قواعد وضوابط، بائیو سیکورٹی، قرنطینہ سمیت کئی دیگر معاملات کے سبب ہمارے لیے ان میچوں کا انعقاد کرنا ممکن نہیں ہے۔

چیف ایگزیکٹو کرکٹ آئرلینڈ نے کہا کہ ٹی20 کرکٹ کی ایک بہترین ٹیم کی میزبانی نہ کر پانے پر ہمیں بہت افسوس ہے البتہ پاکستان اور آئرلینڈ کرکٹ بورڈ کے درمیان مضبوط تعلقات قائم ہیں اور ہمیں ایسے وقت کا انتظار رہے گا جب ہم ایک بار پھر کرکٹ کے میدان میں ایک دوسرے کے مدمقابل آسکیں۔