پاکستان

پشاور ہائی کورٹ: فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے خلاف تفصیلی فیصلے کے اہم نکات

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جمعے کو جاری کیا جس میں 196 افراد کی اپیلیں منظور کی گئی تھیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں کی طرف سے مختلف الزامات کے تحت سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 196 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں جبکہ مزید ایک سو سے زیادہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کی اپیلوں پر مختصر فیصلہ گذشتہ ماہ سنایا گیا تھا۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ تمام افراد کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کا دستخط شدہ 426 صفحات پر مشتمل اس تفصیلی فیصلے میں 196 افراد کی گرفتاریوں سے لے کر حراستی مراکز میں ان کی حراست اور فوجی عدالتوں میں ان کے مقدمات کی سماعت کا ذکر ہے۔

عدالت میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے تقریباً 300 سے زیادہ افراد کی اپیلیں زیرِ سماعت تھیں لیکن پشاور ہائی کورٹ نے ان اپیلوں پر فیصلہ سنایا تھا جن کے مکمل ریکارڈ عدالت کو فراہم کر دیے گئے تھے۔

اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں اس نوعیت کی مزید 100 سے زیادہ اپیلیں موجود ہیں جن کی سماعت کے لیے 22 جولائی کی تاریخ مقرر ہے اور سرکار سے کہا گیا ہے کہ ان افراد کی ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیے جائیں۔

پشاور ہائی کورٹ، فوجی عدالتیں
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں ملزمان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ آئین کے صریح خلاف رہا ہے

عدالت نے کیا نکات اٹھائے ہیں؟

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے انھیں اپنا وکیل رکھنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا اور یہ آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔

اس فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ درخواست گزاروں یا جنھیں سزا سنائی گئی انھیں اس وقت تک دنیا سے الگ تھلگ رکھا گیا، یہاں تک کہ انھیں خاندان کے افراد، والدین اور وکیلوں تک بھی اس وقت تک رسائی فراہم نہیں کی گئی جب تک کہ حراست کے دوران ان کا فیصلہ نہیں سنا دیا گیا۔

اس فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان آرمی کے رول 82، 83 اور 87 جنھیں رول 23 اور 24 کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے، میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں زیر سماعت ہو، اسے دفاع کے لیے وکیل کرنے کی اجازت ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے دوران ملزمان کے وکیل کے بغیر ٹرائل کو شفاف نہیں سمجھا جا سکتا۔

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا ہے کہ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ زیر حراست ملزمان یا وہ افراد جنھیں سزا سنائی گئی، ان کے جرائم کے بارے میں ان کے خاندان کے افراد کو مطلع نہیں کیا گیا، جنھیں ملزم یا جس کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے، اپنے بارے میں بتا سکتا اور اپنی مرضی کے وکیل کی خدمات حاصل کر سکتا۔

پشاور ہائی کورٹ، فوجی عدالتیں
رواں سال مارچ میں پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں درخواست گزاروں کے لواحقین موجود ہیں

عدالت نے کہا ہے کہ ملزم یا جسے سزا سنائی گئی ہے اسے یہ حق دیا جاتا کہ وہ اپنے والدین یا رشتہ داروں کو اپنے جرائم یا اپنے بارے میں بتا سکتا تاکہ وہ اپنے لیے بہتر وکیل کر سکتے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں ملزمان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ آئین کے صریحاً خلاف ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کو شواہد کے حصول کے لیے وہی اصول اپنانے چاہیے تھے جو ملک میں فوجداری مقدمات کی سماعت کے لیے عدالتوں میں اختیار کیے جاتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ملک میں رائج قانون کے اصولوں پر عمل درآمد نہ کرنے سے اس کا اثر پورے مقدمے پر پڑ سکتا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کا سارا انحصار ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے اعترافی بیان پر مشتمل ہے جو ان ملزمان سے حراست کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے لیا گیا ہے جو (جوڈیشل مجسٹریٹ) اس کا مجاز نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں اس کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس فیصلے میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ بیان کرنا اہم ہے کہ جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے خلاف براہ راست نہ تو کوئی شکایت کہیں سامنے لائی گئی ہے، نہ کوئی ایف آئی آر درج ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تفتیش سامنے لائی گئی ہے جس سے ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کو تقویت مل سکتی، اس لیے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام کارروائی آرمی ایکٹ/رول کے خلاف کی گئی ہے اور دیگر بنیادی حقوق اور انصاف کے تقاضوں پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جن نکات کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے باعث عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ شواہد کے بغیر سزا دینا قانون کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے اور ان افراد کو سزا دینے کے لیے مہینوں اور برسوں حراست میں رکھنے کو سراہا نہیں جا سکتا۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کے تناظر میں ان اپیلوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان اپیلوں کو منظور کیا جاتا ہے اور فوجی عدالتوں کی سزائیں کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ، فوجی عدالتیں
رواں سال مارچ میں پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں درخواست گزاروں کے لواحقین موجود ہیں

سپریم کورٹ کا حکم امتناعی

اس سے پہلے 2018 میں پشاور ہائی کورٹ نے اس طرح کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا تھا اور درخواست گزاروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سرکار کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی تھی جس پر حکم امتناعی دیا گیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے اکتوبر 2018 میں اسی طرح کی 74 درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے تمام افراد کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کو فوجی عدالت سے سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں اور درخواست گزاروں کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

اکتوبر 2019 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے خیبر پختونخوا میں رائج مخصوص قوانین ایکشن ان ایڈ اینڈ سول پاور آرڈیننس 2019 اور حراستی مراکز کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اس کے خلاف 13 نومبر 2019 تک حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔

اس کے بعد نومبر 2019 کی ایک سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد کے خلاف مقدمات کے فیصلے اگر فوجی افسر کی گواہی پر ہی ہونے ہیں تو پھر بہتر ہے کہ عام عدالتوں میں ہزاروں افراد کے خلاف دائر مقدمات کو حراستی مراکز میں منتقل کر دیا جائے۔

انھوں نے یہ بات صوبہ خیبر پختونخوا میں فاٹا اور پاٹا سے متعلق جاری کیے گئے آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کی سماعت کے دوران کہی تھی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہیں وہ اس بات پر تو یقین نہیں رکھتے کہ ‘محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔’

مارچ 2020 میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی استدعا کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ ہائی کورٹ کے معاملات میں کیسے مداخلت کر سکتی ہے۔