بچے کی تربیت اور شخصیت

اکثر سوشل میڈیا پر جنسی امتیاز جیسے موضوعات میں لوگوں کا ایک عام جواب یہ ہوتا ہے کہ مرد کی تربیت بھی تو ایک عورت ہی کرتی ہے ۔ مجھے یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کیونکہ اکثر ایسی باتیں پڑھے لکھے افراد کرتے ہیں۔ آئیے ذرا اس بات پر غور کرتے ہیں کہ بچے کی تربیت اور اس کی شخصیت کے بننے یا بگڑنے میں کون کون سے عوامل کارگر ہوتے ہیں۔ ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو عمومی صورت حال میں اس کے آس پاس والدین یا گھرانے کے دیگر افراد ہوتے ہیں، جیسا کہ دادا، دادی، نانا، نانی، پھوپھو، چچا، خالہ اور ماموں وغیرہ۔ ابتدائی سالوں کی نشوو نما ان تمام لوگوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ماں یقینا" بچے کی جسمانی ضروریات پورا کرنے کی زمہ دار ٹھہرتی ہے لیکن ایسا نہیں کہ بچہ ہمیشہ ماں ہی کی زیر نگرانی رہتا ہو۔ وہ ماں اگر ایک روایتی گھرانے میں رہتی ہے تو دن کے بیشتر حصہ میں بچہ دیگر افراد خانہ کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ فرض کیجئے گھرانے کے مردوں کو غصہ کرنے اور عورتوں کو چیخنے چلانے کی عادت ہے، گھر میں گفتگو کے دوران گالیاں دینا ایک عام سی بات ہے، اور گھر کے افراد نہ صرف اونچا بولتے بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ کیا اس تمام صورت حال میں آپ کسی ایک شخص پر بچے کی ابتدائی تربیت اور شخصیت سازی کا ذمہ ڈال سکتے ہیں۔
گھر سے باہر گلی محلہ سکول اور مذہبی درسگاہ میں نہ تو ماں ساتھ رہتی ہے نہ باپ۔ پانچ سال کی عمر کے بعد بچہ کم از کم ۶ سے ۸ گھنٹے گھر سے باہر گزارنے لگتا ہے۔ بچیاں ذیادہ وقت گھر کی عورتوں کے زیر اثر گزارتی ہیں اور لڑکے کے بارے میں یہ قطعا" نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی تربیت کی زمہ دار وہ ماں ہو گی جسے اس کا نام تک رکھنے کا حق نہیں دیا گیا۔ اگر ماں یہ کہے کہ اس وقت بچے کے پڑھنے کا وقت ہے تو اس پر الزام دھرا جاتا ہے کہ وہ بچے کو باپ اور اس کے رشتہ داروں سے دور کر رہی ہے۔ اگر وہ بچے کو گالی دینے سے منع کرے تو کہا جاتا ہے ہم نے اسے مرد بنانا ہے، اس نے معاشرے سے لڑنا ہے اسے مضبوط بننے دو۔ اگر بچہ گلی میں لڑائی پر روتا ہوا گھر آئے تو مرد حضرات اس کو شرم دلاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ آئندہ مار کھا کر گھر نہ آنا، دو چار کو رلا کر آنا۔ ماں کو بھی یقین آ جاتا ہے کہ اس کے بیٹے کی مردانگی اسی بات پر منحصر ہے۔ رہی بات بچی کی تو ماں دن رات اسے سمجھاتی ہے کہ باپ بھائی اور دیگر افراد خانہ کے سامنے نہ تو کبھی آواز بلند ہو نہ ان کی کسی بات سے انکار کیا جائے۔ ان کی خدمت ہی اس کا شعار ہونا چاہئے۔
بچپن سے نکل کر جوانی میں قدم رکھتے رکھتے بچے کی زندگی میں دوست ایک اہم حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ عموما" گھرانوں میں بچیوں کی تمام سہیلیوں کے نام و نسب سے ماں واقف ہوتی ہے لیکن لڑکوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ ماں ان سے کسی دوست کے بارے میں سوال کرے تو وہ یہ کہہ دیں آپ اسے نہیں جانتی۔۔۔ لڑکوں کو یہ آزادی بھی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جائیں ، کھیلیں اور چاہیں تو شام گئے تک گھر سے باہر رہیں۔ ماں اگر خفگی کا اظہار کرے تو اکثر اسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ لڑکا جوان ہو رہا ہے اسلیے ذیادہ سختی نہ کی جائے۔ باپ اس نوجوانی کی عمر میں اکثر بیٹوں کی نہ صرف وکالت کرتے بلکہ ان کے سامنے ماں کی ہتک کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ وہ بیٹا جس نے بچپن سے ماں کی ہر بات کو گھر میں رد ہوتے دیکھا ہوتا ہے وہ کس طور ماں کی پابندیاں ماننے کو تیار ہو سکتا ہے۔ موبائل فون، ٹی وی اور فلمیں ایک طرف اور کھلا جیب خرچ دوسری طرف۔ اس کے بارے میں ماں کو عموما" نہ تو علم ہوتا ہے اور نہ سوال کرنے کا حق۔
جوانی کے عالم میں بچیاں کسی کو پسند کر بیٹھیں تو یا تو یہ بتلاتے ڈرتی ہیں یا ان کے اظہار پر ان کے ساتھ ساتھ ماں کو بھی طرح طرح کے طعنے اور الزامات ملتے ہیں۔ اسی گھرانے کا لڑکا صرف اپنی محبت ہی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں تو صرف دل لگی کر رہا ہوں آپ لوگوں کو فکر کی ضرورت نہیں۔ لڑکوں کی ایسی گفتگو کو خاندان میں "شریر" کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے اور اگر ماں پریشانی کا اظہار کرے تو فرمایا جاتا ہے کہ اسے تو بچے کی خوشی کھلتی ہے۔ ماں کے سمجھانے پر نہ صرف بچہ نالاں ہوتا ہے بلکہ باپ اور دیگر افراد یہ بھی فرماتے ہیں کہ تم گھر میں بند رہتی ہو، تمہیں کیا معلوم آجکل بچے کیا کیا نہیں کرتے، تم شکر کرو کہ بچہ صرف شرارتیں کرتا ہے۔ جس دن اسی بچے کے کمرے سے سگریٹ اور پستول برامد ہو تا ہے تو سب کی سوالیہ نظریں ماں کی جانب ہوتی ہیں۔ اور فرمایا جاتا ہے کہ باپ تو سارا دن کام پر ہوتا تھا تم سے بچوں کی تربیت بھی نہ ہو پائی۔ یہ بچہ جب مکمل مرد بن چکا ہوتا ہے اس میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو سارا گھرانہ پیدا کرنا چاہتا تھا، جس پر تمام محلہ اس بچے کو شہزادہ پکارتا تھا اور جن خواص کی بنا پر باپ اسے اپنی طاقت سمجھتا تھا، تو وہ ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیتا ہے کہ خبروں اور سوشل میڈیا میں اس پر تھو تھو کرتے لوگ کہتے ہیں اس مرد کی تربیت بھی تو ایک عورت ہی نے کی ہے۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *