جنرل ایوب خان اور ان کے ہم نوا جرنیل

ممتاز افسانہ نگار اور تہلکہ مچا دینے والی ڈرامہ سیریز ’’اندھیرا اجالا‘‘ کے خالق یونس جاوید کی آپ بیتی ’’فقط ایک آنسو‘‘حال ہی میں شائع ہوئی ہے اور اس کا ایک باب مجھے 1960 کی دہائی میں لے گیا ہے جب آتش جوان تھا اور آمریت کے خلاف چلنے والی تحریکوں میں پیش پیش ہوتا تھا۔ یونس جاوید نے جس واقعہ کا ذکر کیاہے اس کا بیان بعد میں، اس سے پہلے 1958 کی ایک ’’واردات‘‘ کا ذکر جب ایوب خان نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا لگایا، میں اس وقت میٹرک میں پڑھتا تھا ایک دن بیٹھے بیٹھے ’’پنگا‘‘ لیا اور ڈپٹی کمشنر کے ایک آرڈر کہ گانے بجانے والے ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں لہٰذا انہیں مکمل پروٹوکول دیا جائے اور ان کے ذکر میں حدِ ادب کا خیال رکھا جائے، پر بلاوجہ شرارت سوجھی، آرڈر حالانکہ صحیح تھا مگر میں نے ہفت روزہ ’’شہاب‘‘ جو مولانا کوثر نیازی کی ادارت میں شائع ہوتا تھا، ایک طنزیہ نظم لکھ کر بغرض اشاعت بھیج دی اس کا صرف مطلع یاد ہے؎

ان سے ملئے حضرتِ استاد کلن خاں ہیں یہ

علمِ موسیقی میں مثلِ نیرِ تاباں ہیں یہ

اس شام میرے گھر پر دستک ہوئی، ابا جی باہر نکلے تو پولیس کو سامنے کھڑے دیکھا، ان میں سے ایک آگے بڑھا اور کہا ’’مولانا‘‘ عطاء الحق قاسمی کو باہر بھیجیں۔ ایک نظم کا موضوع اور اوپر سے میرے نام کی ثقالت سے انہوں نے مجھے مولانا ہی سمجھنا تھا نا۔ابا جی نے کہا یہاں ’’مولانا‘‘ عطاءالحق قاسمی تو کوئی نہیں رہتے، میرا بیٹا عطا ہے، اسے باہر بھیجتا ہوں۔ ابا جی اندر آئے، وہ غصے میں تھے ’’اب تمہاری کرتوتیں یہ دن بھی لائی ہیں کہ پولیس گھر پہنچ گئی ہے۔ میں خود پریشان ہوگیا، پولیس نے مجھے دیکھا تو ابا جی سے کہا، حضرت، ’’مولانا‘‘ عطاء الحق قاسمی کو باہربھیجیں۔ ابا جی نے کہا ’’یہی خبیث مولانا عطاء الحق قاسمی ہے‘‘۔ پولیس والے حیران ہوئے اور انہوں نے مجھے اپنی حراست میں لے لیا، ابا جی نے پوچھا اس کا جرم کیا ہے۔ پولیس نے بتایا اس نے مارشل لا کے خلاف نظم لکھی ہے۔ یہ سن کر ابا جی کے چہرے پر رونق آگئی کہ شکر ہے بیٹا باپ کے نقش قدم پر چل پڑا ہے، ابا جی فرنگی کے خلاف کئی بار جیل جا چکے تھے اور اب ان کا بیٹا بھی اسی راہ پر چل پڑا تھا۔

اس وقت رات ہو چکی تھی، پولیس مجھے کوٹ لکھپت سے آگے کہیں لے گئی،پھر انہیں اس معصوم صورت ’’انقلابی‘‘ پر ترس آیا۔ ایک سنسان جگہ پر گاڑی کو بریک لگائی اور کہا ’’یہاں اتر جائو برخوردار۔ آئندہ اس قسم کی حرکت نہ کرنا ‘‘۔سو میں آدھی رات کو پیدل گھر کی طرف چل پڑا، راستے میں دو تین جگہ کتے بھی پڑے، جب میں گھر پہنچا فجر کی اذان ہو رہی تھی، ابا جی بے چینی سے صحن میں ٹہل رہے تھے، مجھے دیکھا تو ان کی جان میں جان آئی اور مجھے سینے سے لگا کر پیار کیا۔ سب نے ان کی آنکھیں پُرنم بھی دیکھیں۔

اور اب یونس جاوید نے میرے حوالے سے جو کہانی بیان کی ہے وہ بھی سن لیں:۔

’’مجھے یاد آ رہا ہے جب صدر ایوب کے خلاف ایجی ٹیشن ہو رہی تھی اس دن سارا شہر مال روڈ پر اُمڈ آیا تھا، پولیس والے روکنے کے لئے پرہجوم جلوس کو حصار میں لینا چاہتے تھے وہ جب اس میں ناکام ہوئے تو انہوں نے بڑا ظالمانہ لاٹھی چارج شروع کردیا۔ ہجوم زیادہ بپھر گیا، لوگوں کا غصہ اور پولیس کی ذمہ داری گتھم گتھا تھے مگر میں پولیس کے حملے سے بچتا ہوا کسی پناہ کی تلاش میں تھا کہ زور دار آواز میں عطا نے مجھے پکارا، یونس ادھر نہیں.... ادھر اس نے مجھے اشارہ کرکے سمت بتائی ، اس نے مجھے بچانے کے لئے جتن کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہم دونوں بری طرح پولیس کے نرغے میں تھے ایک ایک لاٹھی سے ہم دونوں شکار ہو سکتے تھے کہ عطا نے بھاگ کر میرا ہاتھ پکڑا، ادھر آئو، میرے پیچھے اور مجھے ساتھ لئے وائی ایم سی اے کے اندر داخل ہوگیا۔ ہم دونوں آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، عطا میری رہنمائی کر رہا تھا مگر عطا سیڑھیاں چڑھتا چلا جا رہا تھا۔ حلقہ ارباب ذوق کے جلسے میں جانے کے لئے بورڈ روم تک کی سیڑھیاں تو میں بھی اکثر چڑھتا رہا تھا مگر آج عطا نے اوپر اور اوپر کہتے ہوئے مجھے وائی ایم سی اے کی چھت پر پہنچا دیا۔ اس چھت کی منڈیر ان دنوں دس انچ سے زیادہ نہ تھی۔ کوئی بھی شخص ہمیں سڑک سے دیکھ سکتا تھا گویا چھپنے کی جگہ تھی نہ اوٹ لہٰذا اس دس انچ منڈیر پر عطا نے اپنی ٹھوڑی جمائی اور نیچے سڑک سے جی پی او چوک سے ہائی کورٹ کا منظر کھلا تھا۔ گھمسان کی اس معرکہ آرائی کو عطا اپنی آنکھوں میں مقفل کرتا رہا، کچھ دیر بعد شام اترنے لگی، ہنگامہ بھی ختم ہونے لگا، حتیٰ کہ اندھیرے کی چادر نے ہمارے لئے راستہ آسان کردیا۔ ہم دونوں پورے جوش اور جذبے سے سیڑھیاں اتر کر سڑک پر آگئے‘‘۔

اور جب جنرل ایوب خان نے جمہوریت کا بھیس بدل کر انتخابات کا اعلان کیا تو مادر ملت فاطمہ جناح ان کے مقابلے میں صدارت کی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں، اس کے بعد مادر ملت کے خلاف جس گندی بدبو دار مہم کا آغاز کیا گیا وہ ایک بدنما داغ ہے جو شاید کبھی مٹائے نہ مٹ سکے۔ ایوب خان کا وزیر مسعود صادق اس ساری مہم میں پیش پیش تھا۔ میں مادر ملت کا سپاہی تھا۔ چنانچہ جب ماڈل ٹائون میں منعقدہ ایک انتخابی جلسے میں مسعود صادق نے مادر ملت کے حوالے سے گندی زبان کا استعمال شروع کیا تو میں جو جلسے کے آخری حصے میں کھڑا اس قومی بے حمیتی کا مشاہدہ کر رہا تھا، اپنے جذبات پر کنٹرول نہ پا سکا اور میں نے باآواز بلند مسعود صادق کو مخاطب کرکے کچھ اس طرح کی بات کی کہ آپ مادر ملت کے بارے میں بدزبانی سے باز رہیں۔ اس پر مسعود صادق نے پرجوش لہجے میں کہا جو میرے جلسے میں ہنگامہ کرنے کی کوشش کرےمیں اس کی زبان، پھر سنبھل کر کہا اس کی انگلی کاٹ دیا کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی ماڈل ٹائون کا ایک مشہور کریکٹر عاشق لنگڑا بیساکھی کے سہارے چلتا ہوا میرے پاس آیا، مجھے گندی گالیاں دیں اور پھر اپنے ساتھیوں کی مدد سے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔آمروں کے ساتھ میری کبھی نہیں بن سکی، ضیاء الحق کے مارشل لا کے پہلے مہینے ہی میں میرا ایک کالم ’’کچا پنکچر‘‘ شائع ہوا جس میں علامتی طور پر اس مارشل لا کے خوفناک نتائج کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اسی طرح ایک کالم ’’وقت کا ضیاع‘‘ اور اس نوع کے دیگر متعدد کالموں میں میں اپنے دل کی بھڑاس نکالتا رہا۔ جنرل پرویز مشرف کے دورمیں تو ہفتے میں ایک آدھ کالم اس منحوس آمریت کے حوالے سے ہوتا تھا، اسی دور میں ان کالموں کا مجموعہ ’’بارہ سنگھے‘‘ شائع ہوا، بارہ کا ہندسہ بارہ اکتوبر کا اشارہ کر رہا تھا، جب ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹایا گیا تھا۔

مگر اب میں جوان نہیں رہا، پھر بھی کبھی کبھی عمرِ رفتہ کو آواز دینے کی کوشش کرتا ہوں، مگر عمرِ رفتہ کہاں واپس آتی ہے۔