چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے سے ایئر فورس اور نیوی محروم کیوں؟

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نئے آرمی چیف کے ساتھ جب لیفٹینینٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو نیا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ اس عہدے کو حاصل والے مسلسل 10ویں بری فوج کے افسر بنے۔

واضح رہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رسمی طور پر افواج پاکستان کا اعلی ترین عہدہ تصور ہوتا ہے جس پر آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے کسی بھی فور سٹار افسر کو مقرر کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس عہدے پر تقرری کے لیے تینوں افواج (آرمی، ایئر فورس، نیوی) سے افسران کا باری باری انتخاب کیا جانا چاہیے مگر گذشتہ 45 برسوں میں ایئر فورس کے صرف ایک جبکہ نیوی کے صرف دو افسران جبکہ آرمی کے تیرہ افسران اس عہدے پر تعینات ہو چکے ہیں۔

آخری مرتبہ 1994میں ایئر فورس سے ایئر چیف مارشل فاروق فیروز خان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے اب تک آنے والے چیئرمین نیوی یا ایئر فورس سے نہیں بلکہ آرمی سے تعلق رکھتے ہیں۔

حصہ بقدر جثہ یا آئین کی عملداری

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ایئر چیف مارشل فاروق فیروز خان کی تقرری کو 25 سال گزر چکے ہیں۔

اس کے بعد سے اب تک اس عہدے پر ایئر فورس یا نیوی سے تقرری نہیں کی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فوجی حکمرانوں جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے ادوار میں اس عہدے پر آرمی سے تقرریاں اس لیے کیں کہ آرمی کے تھری سٹار افسران کی ترقی کا سلسلہ نہ رکے اور ان کی حکمرانی کا تسلسل قائم رہے۔

پاکستان
،تصویر کا کیپشنایئر چیف مارشل فاروق فیروز خان

اس کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجہ سے بھی اس عہدے پر آرمی سے تقرریاں کی گئیں تاکہ آرمی کے افسران کی ترقی میں رکاوٹ نہ آئے۔ اس سارے عمل میں ایئر فورس اور نیوی کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور انھیں ان کے جائز حق سے محروم رکھا گیا۔

اس عہدے پر آرمی سے تقرریوں کے حق میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ تھری سٹار عہدے کے برابر آرمی میں افسران کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

ایک رائے یہ ہے کہ آرمی میں لیفٹیننٹ جنرلرز کی تعداد 25 سے زائد جبکہ ایئر فورس میں 10 سے کم ایئر مارشل اور نیوی میں لگ بھگ پانچ وائس ایڈمرل ہوتے ہیں اس لیے عددی برتری کی وجہ سے آرمی کے دو افسران کو فور سٹار عہدے پر ترقی ملنی چاہیے۔

اسی تناظر میں ماضی میں وائس چیف آف آرمی سٹاف یا ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے بھی تخلیق کیے گئے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا کردار اور روٹیشن پالیسی

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے قیام کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

اٹیمی اثاثوں سے متعلق معاملات کی نگرانی اسی اتھارٹی کے ذمہ ہے اور چونکہ ایٹمی اثاثوں سے متعلق سٹریٹیجک پلانز ڈویژن کی سربراہی آرمی کے ایک لیفٹیننٹ جنرل عہدے کے افسر کے ذمہ ہے اس لیے یہ تصور کر لیا گیا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس کا عہدہ بھی آرمی سے ہونا چاہیے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کے لیے کسی افسر کا ڈی جی ایس پی ڈی کے عہدے پر تعینات رہنا ایک اضافی اہلیت تو ہو سکتی ہے لیکن اسے مطلوبہ اہلیت ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔

آرمی، ایئر فورس اور نیوی تینوں میں الگ الگ سٹریٹیجک فورس کمانڈز موجود ہیں جو ایٹمی اثاثوں اور دیگر جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں اور اس طرح تمام سروسز چیف جوہری معاملات سے باخبر ہوتے ہیں۔

پاکستان

جوائنٹ سٹاف کمیٹی کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

جوائنٹ سٹاف کمیٹی کی ذمہ داریوں میں تینوں افواج میں رابطہ، مسائل کی نشاہدہی اور حل، منصوبہ بندی، رسد اور تربیت کے موضوعات پر کام، غیر ملکی افواج سے رابطے اور دفاعی تعاون شامل ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ وزارت دفاع اور تینوں افواج کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ آئین و قانون کی رو سے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت اور نگرانی بھی اس کمیٹی کا کردار ہے تاہم عملی طور پر آرمی چیف کی مشاورت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اعلی ترین عہدے کے باوجود کمیٹی سربراہ کا تینوں افواج کی کمانڈ پر کوئی اختیار یا آپریشنل اتھارٹی نہیں ہے اور تینوں سروسز چیف اپنے معاملات میں مکمل خود مختار ہیں۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کیوں تشکیل دی گئی؟

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تاریخی طور پر بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) کے قیام کے بعد وجود میں آئی۔

جسٹس حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں زور دیا گیا کہ تینوں افواج کو مل کر ملکی دفاع کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اس کے لیے جوائنٹ کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کا الگ سیکریٹریٹ ہو جس میں تینوں افواج کے لوگ مل کر مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی کر سکیں۔

بنگلہ دیش

اسی حوالے سے مشہور مصنف سٹیفن پی کوہن اپنی کتاب ’دی پاکستان آرمی‘ میں جوائنٹ سٹاف کمیٹی کی تشکیل پر لکھتے ہیں کہ ’1965 اور 1971 میں پاکستان کی تینوں افواج نے مختلف جنگیں لڑیں۔ کسی مجموعی عسکری حکمت عملی کا وجود نظر نہیں آیا لیکن اب پاکستان کے دفاعی فیصلہ سازی کے نئے طریقہ کار سے کم از کم یہ امر یقینی ہو گا کہ فیصلہ سازی کا ایک ڈھانچہ موجود ہے۔ جو اسلحہ کے حصول اور دفاعی پیداوار کی ترقی کے لئے بہتر وسائل مختص کرنے کے قابل بناتا ہے۔‘

ماضی میں آرمی، ایئر فورس، نیوی میں سے کون کب چیئرمین رہا؟

وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل شریف کو پہلا چیئرمین کمیٹی مقرر کیا۔ اس کے بعد نیوی سے ایڈمرل محمد شریف نے عہدہ سنبھالا۔ جنرل ضیا الحق نے مارشل لا کے بعد اپنے دور اقتدار میں جنرل اقبال، جنرل رحیم الدین اور جنرل اختر عبد الرحمن کو یکے بعد دیگرے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا۔

سابق وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل خالد محمود عارف نے اپنی کتاب خاکی شیڈوز (خاکی سائے) میں جنرل ضیا الحق دور میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی ورکنگ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سابق ایئر چیف مارشل جمال خان کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جنرل ضیا الحق آرمی کے علاوہ دونوں چھوٹی فورسز ایئر فورس اور نیوی کو وسائل فراہم کرنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔

جنرل عارف کے مطابق امریکی امداد کے پہلے مرحلے میں جنرل ضیا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تائید سے ایئر فورس کو سب سے زیادہ حصہ دلوایا تاکہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں۔

پاکستان

جنرل ضیا الحق کی وفات کے بعد روٹیشن کی روایت واپس آئی اور نیوی سے ایڈمرل افتخار سروہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنے۔

ان کے بعد ایئر چیف مارشل فاروق فیروز کا تقرر کیا گیا۔ جمہوری حکمران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 1997 میں جنرل جہانگیر کرامت کو آرمی چیف کے ساتھ ساتھ چیئرمین کمیٹی بھی مقرر کیا۔

جنرل کرامت کے جانے کے تقریبا پانچ ماہ بعد ایک بار پھر اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو دونوں عہدوں پر فائز کیا گیا جس پر چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل فصیح بخاری نے احتجاجا استعفیٰ دے دیا۔

فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں اس عہدے پر آرمی سے ہی تقرریاں اس لیے کیں تاکہ آرمی کے تھری سٹار افسران کی ترقی کا سلسلہ نہ رکے۔ اس دوران جنرل عزیز، جنرل احسان اور جنرل طارق مجید چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہے۔

پاکستان

عمران خان ، نواز شریف اور آصف زرداری: ایک صفحے پر

2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع دی اور جنرل خالد شمیم وائیں کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا گیا۔

جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد یہ عہدہ نیوی اور فضائیہ کے پاس آ گیا تھا لیکن جنرل مشرف کے مارشل لا کے خاتمے کے بعد ایسا نہ ہو سکا کیونکہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے باعث آرمی سے ایک جنرل کو فور سٹار عہدے پر ایڈجسٹ کرنا تھا۔

2013 میں وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بار پھر آرمی سے ہی جنرل راشد محمود کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا۔

میاں نواز شریف چاہتے تو 1997 دور حکومت کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے فضائیہ یا نیوی سے تقرری کر سکتے تھے۔

اس کے بعد تبدیلی کے علم بردار عمران خان اپنے دور حکومت کے دوران 2019 میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر نیوی یا ائیر فورس سے تقرری کر کے تاریخ کو درست کر سکتے تھے لیکن تاریخ کی درستگی تو دور کی بات، وہ نئے آرمی چیف کا تقرر بھی نہیں کر سکے اور جنرل باجوہ کو ہی مدت ملازمت میں توسیع دے دی۔

اس کے ساتھ ساتھ نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر بھی آرمی سے ہی کیا گیا۔

اس طرح حالیہ ماضی میں عمران خان، نواز شریف اور آصف زرداری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کے معاملے میں ایک ہی صف میں دکھائی دیے۔

تینوں جمہوری حکمرانوں نے ایئر فورس اور نیوی کے اس جائز حق کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ جمہوری حکومتیں سول ملٹری تعلقات میں دوریاں کم کرنے اور توازن برقرار رکھنے کے لیے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی آرمی کے سپرد کر دیتی ہیں تاکہ آرمی سے دو افسران کی فور سٹار عہدے پر ترقی سےانھیں مزید مطمئن کیا جائے۔

لیکن تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایسے اقدامات کا خاص فائدہ نہیں ہوتا۔