منظور پشتین 14 روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل،

پاکستان میں پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کو پشاور کی عدالت نے 14 دن کے ریمانڈ پر پشاور جیل بھیج دیا ہے جبکہ گرفتاری کے خلاف ان کی جماعت کی جانب سے منگل کو ملک میں اور بیرونِ ملک احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی منظور پشتین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

منظور پشتین کو پولیس نے اتوار کی شب صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تہکال کے علاقے سے گرفتار کیا تھا۔

منظور پشتین کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے تہکال پولیس کے اہلکار غلام نبی نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ منظور پشتین مختلف مقدمات میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو مطلوب تھے جس کی بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب منظور پشتین کو ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کے حوالے کیا جائے گا جو انھیں لینے کے لیے پشاور پہنچ رہی ہے۔

تاہم پی ٹی ایم کے رکنِ صوبائی اسمبلی میر قلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ منظور پشتین کو پیر کی سہ پہر پشاور میں سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ سلیم الرحمان کی عدالت میں پیش کیا جہاں مختصر سماعت کے بعد انھیں آٹھ فروری تک ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

میر قلم کا کہنا تھا کہ عدالت نے منگل کو اس معاملے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

پی ٹی ایم کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے منظور پشتین کی گرفتاری پر بی بی سی کے خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گرفتاری کے پیچھے دو عوامل کار فرما ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گرفتاری کی ایک بڑی وجہ 12 جنوری کو بنوں میں ہونے والے جلسے میں منظور پشتین کی جانب سے ایک پختون جرگے کے قیام کا اعلان ہے۔ جس میں انھوں نے پختونوں کے اتحاد کی بات کی تھی اور اس خطے میں جاری جنگ کی روک تھام اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جرگہ بلانے کا کہا تھا۔'

محسن داوڑ نے کہا کہ 'ہماری ریاست میں موجود چند ایسے عناصر جو پشتونوں کا اتحاد نہیں چاہتے شاید انھیں یہ بات بہت ناگوار گزری تھی۔'

رکن اسمبلی کا کہنا تھا گرفتاری کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ’29 جنوری کو شمالی وزیرستان کے اتمان زئی قبائل پشاور میں ایک احتجاجی جلسہ کر رہے ہیں جس کی حمایت کا اعلان پی ٹی ایم نے بھی کر رکھا ہے۔‘

محسن داوڑ نے کہا کہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف منگل کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے جبکہ اس کے بعد کے لائحہ عمل کا اعلان احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا جائے گا۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا گیا ہے کہ 'منظور پشتین کو پرامن طریقے سے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ اور انھیں غیر مشروط طور پر فوری رہا کیا جانا چاہیے۔‘

گرفتاری کب اور کیوں عمل میں آئی؟

پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب تہکال کے علاقے شاہین کالونی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے ہمراہ مزید چار سے پانچ افراد ہیں جنھیں کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا۔

پی ٹی ایم کی پریس کانفرنس
محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کی اس وقت گرفتاری کی وجہ ان کی جانب سے پختون جرگے کے قیام کا اعلان ہے

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں پی ٹی ایم اپنے ایک نیا دفتر کے قیام پر کام کر رہے تھے جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا۔

اس سے قبل انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ منظور پشتین کو حراست میں لینے کی وجہ ان کی تحریک کی جانب سے پر امن اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے اور انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

منظور پشتین کون ہیں؟

منظور احمد پشتین بد امنی سے متاثرہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔

سنہ 2018 میں بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں منظور پشتین نے بتایا تھا کہ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں ہی حاصل کی اور پھر بنوں میں آرمی پبلک سکول اور وہیں کے کالج میں زیر تعلیم رہے۔

دھرنا
اسلام آباد میں فروری 2018 کے کامیاب دس روزہ احتجاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظور نے اپنی تحریک کی سمت نہ صرف تبدیل کی اور اسے پشتون تحفظ تحریک کا بڑا کینوس دے دیا

منظور پشتین کے بقول وہ اپنے سکول کے 52 طالب علموں میں واحد نوجوان ہیں، جنھوں نے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ انھوں نے گومل یونیورسٹی سے ویٹنری سائنس میں بھی تعلیم حاصل کی لیکن انھیں کچھ اور ہی کرنا تھا۔

منظور پشتین نے مقامی سطح پر اپنی محسود تحفظ تحریک سنہ 2014 میں شروع کی تھی اور مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں وہ اپنی سوچ واضح کرتے رہے۔

منظور پشتین کے مطابق وہ اکثر بمباری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف مظاہرے کرتے تھے، لیکن سب سے بڑا مظاہرہ اُنھوں نے ٹانک میں 15 نومبر 2016 کو کیا تھا جس میں سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔

اسلام آباد میں فروری 2018 کے کامیاب دس روزہ احتجاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظور نے اپنی تحریک کی سمت نہ صرف تبدیل کی اور اسے پشتون تحفظ تحریک کا بڑا کینوس دے دیا بلکہ اس کی تنظیم نو بھی شروع کر دی۔

بعد میں عوامی جلسوں کا سہارا لے کر انھوں نے اس تحریک کا دائرہ قبائلی علاقوں سے بڑھا کر بلوچستان اور کراچی تک پھیلا دیا۔

error: Content is protected !!