سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 76 ہوگئی

کراچی: سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 76 ہوگئی جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد 94 ہوگئی۔

سندھ حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ تفتان سے سکھر آنے والے اب تک 50 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 25 کیسز کراچی اور ایک کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 76 ہوگئی ہے اور 2 مریضوں کو صحت یابی کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے جب کہ  74 افراد کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔

شہری غیر ضروری گھروں سے باہر نہ نکلیں: سندھ حکومت

جیونیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عوام سے احتیاط کی پرزور درخواست ہے، شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، آپ کی حکومت کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کررہی ہے، ہمیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نےکہا کہ کورونا وائرس کا ابھی تک کوئی علاج سامنے نہیں آیا، یہ ایک صوبے یا ایک شہر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سب کو مل کر کام کرنا چاہیے، ہم بار بار تفتان بارڈر پر اقدامات کا کہہ رہے تھے۔

پاکستان میں تعداد 94 ہوگئی

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اور تعداد 94 تک جا پہنچی ہے۔

سندھ سے 76، بلوچستان میں 10، اسلام آباد میں 4، گلگت بلتستان میں 3 اور لاہور میں کورونا کا ایک مریض ہے۔ 

ملک بھر میں 5 اپریل تک تعلیمی ادارے بند

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد کو 14 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے اور مدارس بھی 5 اپریل تک بند رہیں گے۔

پنجاب میں مزارات بند

پنجاب میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد حفاظتی انتظامات کے پیش نظر صوبے بھر میں مزارات کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

پنجاب میں گزشتہ روز کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا جہاں 4 روز قبل دبئی سے لاہور آنے والے ایک مسافر نے شبہ ہونے پر ٹیسٹ کرایا اور نجی لیبارٹری نے مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق کی۔

پنجاب کی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر صوبے بھر میں مزارات کو بند کرانے کا فیصلہ کرلیا اور اس سلسلے میں چیف سیکریٹری کو فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدات دی گئی ہے۔

چین سے دنیا میں پھیلنے والا ’کورونا وائرس‘ اصل میں ہے کیا؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

ماہرین صحت کی ہدایات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے۔