ایجوکیشن کے اربابِ اختیار سے

یادش بہ خیر مطالعہ پاکستان کی کتاب میں بچوں کو قیامِ پاکستان کی ابتدائی مشکلات کا باب بھی پڑھایا جاتا تھا جو سیاسی اور انتظامی معاملات کے علاوہ بعض وسائل کی کمی سے متعلق تھا۔ مذکورہ مشکلات کے بیان میں شاید ایک ایسی مشکل کا ذکر کبھی کیا ہی نہیں گیا جس کا سامنا پاکستان کے قیمتی اذہان کو کرنا پڑا اور گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ مشکل آج بھی ایک نئی صورت میں موجود ہے۔ اس سے مراد ہمارے ملک کے پڑھے لکھے اور تحقیقی صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کے لئے روشن اور بہتر مستقبل کے لئے خوش گوار حالات کی دستیابی ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس سلسلے میں پاکستانی جامعات میں تحقیق کے میدان میں صحت مند اذہان کی حوصلہ افزائی اور مختلف شعبہ ہائے علم سے وابستہ فطین ذہنوں کو ملکی حالات سے بیزاری کے بجائے خوش حال مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) متعارف کرایا اور اس کے عمدہ نظم و نسق کو دیکھتے ہوئے جامعات میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے اساتذہ نے اس سسٹم کا خیر مقدم کیا جو اس سے قبل بیرون ملک ملازمت کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اس نظام کا حصہ بننے والے اساتذہ کی ایک کثیر تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے بی پی ایس کے فرسودہ نظام کو چھوڑ کے خود کو اس نظام میں ضم کیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) چند برس خوش اسلوبی سے چلا اور توقع تھی کہ جامعات کے مذکورہ اساتذہ کو اُن کی محنت اور تحقیقی سرگرمیوں کی بنیاد پہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اُن کی مناسب سرپرستی کرتے ہوئے اُن کی حوصلہ افزائی کرے گا لیکن یہ امرِ حیرت ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں بہت سے علم دشمن افسران کی عجیب و غریب پالیسیوں اور تاخیری حربوں کے باعث ٹی ٹی ایس اساتذہ نہ صرف گمبھیر مشکلات کا شکار ہیں بلکہ اپنے مستقبل کے سلسلے میں بھی تشویش ناک صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن تُلا ہوا ہے کہ اِس طبقے کی اِس قدر حوصلہ شکنی کی جائے کہ یہ لوگ آنے والوں کے لئے نشانِ عبرت بنا دیے جائیں۔ ٹی ٹی ایس اساتذہ جن مسائل کا سامنا کررہے ہیں، اُنہیں دیکھا جائے تو ہمارے اربابِ اختیار کے سکہ شاہی مزاج، علم دشمن پالیسیوں اور مجرمانہ غفلت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ ٹینیور ٹریک اساتذہ کی جامعات میں تحقیقی سرگرمیاں اِس بات کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریکارڈ میں اِن کی جامعات کا معیار روز بروز بلند تر ہوا ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانی جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کا نام روشن ہوا ہے۔ تاہم افسوس ناک امر ہے کہ اِن اساتذہ کی تنخواہوں میں گزشتہ چھ برس سے کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ٹی ٹی ایس اساتذہ کی ترقی کے سلسلے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پورا نظام تو وضع کیا ہوا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں اس ادارے کے افسران انتہائی تکلیف دہ، اعصاب شکن، تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت ہزاروں اساتذہ کی ترقی کے کیسز کو ان افسران کی میزوں پر دیمک چاٹ رہی ہے ۔ یہاں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو بھی سامنے رہے کہ ٹی ٹی ایس اساتذہ کی جب تک ترقی التوا کا شکار رہتی ہے وہ اپنی تنخواہ سے بھی محروم رہتے ہیں اور دوست احباب سے قرض لے کر گزارا کرتے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر سایہ ٹینیور ٹریک اساتذہ مسلسل اور مثبت تحقیقی سرگرمیوں کے باوجود اپنی ملازمت کے سلسلے میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں مذکورہ کمیشن کے ناروا ضابطوں کے علاوہ یہ اساتذہ اپنی جامعات کے اندر بعض متعصبانہ رویوں کا بھی سامنا کرتے ہیں جس کی وجہ سے اُنہیں بعض اوقات اپنی ملازمت سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ ٹینیور ٹریک اساتذہ کے معاملات ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ یونیورسٹی کے مابین باہمی انتظامی تعاون سے طے پاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ تکلیف دہ امر ہے کہ اگر دونوں اداروں کے مابین کوئی انتظامی سمجھوتہ نہ طے پا سکے یا کوئی ایسی غلط فہمی پیدا ہو جائے جس کی بنیاد کسی ٹیکنیکل نقطہ پر ہو تو اس کا خمیازہ ٹی ٹی ایس اساتذہ ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں سیکڑوں ایسے کیسز التوا کا شکار ہیں جن کی بنیاد کمیشن اور یونیورسٹی کے مابین غلط فہمی پر ہے اور ٹی ٹی ایس اساتذہ پینڈولم کی طرح لٹک رہے ہیں۔ ٹینیور ٹریک اساتذہ کے سلسلے میں یہ امر لائقِ ذکر ہے کہ انہیں کسی نوع کی تعطیلات نہیں دی جاتیں۔ جامعات میں جن ایام میں دیگر اساتذہ کے لیے چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے، وہاں یہ وضاحت بطورِ خاص کی جاتی ہے کہ ٹی ٹی ایس اساتذہ ان چھٹیوں میں یونیورسٹی میں حاضر رہیں گے۔ جامعات میں ٹینیور ٹریک سسٹم اس لئے متعارف کرایا گیا تھا کہ تحقیق کرنے والے متحرک اساتذہ بیرون ملک تلاشِ رزق کے بجائے اپنے وطن میں رہ کر تحقیقی خدمات انجام دیں اور جامعات میں علم و تحقیق کے راستے کھلیں۔ اب جبکہ جامعات میں ایک کثیر تعداد میں اساتذہ اس نظام کے تحت کام کررہے ہیں، ان کے لئے طرح طرح کے مسائل پیدا کرکے ان پر ان کی زندگی کا دائرۂ تنگ کیا جا رہا ہے۔ وہ نہ صرف معاشی مسائل کا شکار ہیں بلکہ اپنے مستقبل کے سلسلے میں بھی خدشات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کی انتظامیہ اپنے استعماری رویوں کو ترک کرے اور ٹی ٹی ایس اساتذہ کے مسائل حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔