کراچی میں کمسن بچی کا مبینہ ریپ کے بعد قتل: ’میری بیٹی کا چہرہ تشدد سے سیاہ ہو چکا تھا‘

’جب لاش ملی تو میرے بھائیوں نے کہا کہ چہرہ نہ دیکھو، میں نے اُن کی بات مان لی لیکن جب پوسٹ مارٹم ہو گیا تو میں نے چہرے سے چادر ہٹائی۔۔۔ میری بیٹی کا چہرہ بُری طرح بگڑ چکا تھا اس پر بہت تشدد کیا گیا تھا، اس قدر کے چہرہ سیاہ ہو گیا تھا۔‘

یہ کہنا ہے کراچی کے اس رہائشی کا، جن کی سات سالہ بیٹی کی تشدد زدہ لاش دو روز قبل کچرے سے ملی تھی۔

بچی کے والد کا کہنا ہے کہ اُن کی بیٹی بچپن سے ہی اپنی پھوپھی سے بہت محبت کرتی تھی اور اسی لیے بعض اوقات وہ ان کے گھر ہی سو جاتی تھی۔

بچی کے والد نے مزید بتایا کہ ’16 نومبر کو میری بیٹی، میری بہن کے گھر چلی گئی۔ دوپہر کو میری بہن کے بچے پڑھنے کے لیے مدرسے جاتے ہیں، تو اس نے سمجھا کہ شاید میری بیٹی بھی ان کے ساتھ مدرسے چلی گئی ہے۔ جب مغرب کے وقت بچے مدرسے سے واپس آئے تو انھوں نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ تو اُن کے ساتھ گئی ہی نہیں۔‘

’میری بہن نے مجھے میری بیٹی کی گمشدگی کا بتایا، میں پُرامید تھا کہ وہ جلد ہی مل جائے گی کیونکہ اسے میرا نام، علاقے کا نام اچھی طرح سے رٹا ہوا تھا۔ میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ ہو سکتا کہ کوئی شرارت میں کسی پڑوسی نے روک لیا ہو لیکن رات ہو گئی وہ نہیں لوٹی۔ ہم ڈھونڈتے رہے، انتظار کرتے رہے لیکن اس کا کچھ پتا نہیں چلا۔‘

کراچی

’پتنگ لاش پر جا کر گری تو پتا چلا‘

سات سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش ایک زیرتعمیر عمارت کے پلاٹ سے برآمد ہوئی تھی۔

بچی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ دوسرے روز وہ پولیس تھانے گئے اور اس کی گمشدگی کی اطلاع دی لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

’اگلے روز ایک بچہ پتنگ اڑا رہا تھا، جب اُس کی پتنگ چار دیواری کی طرح بنے ہوئے ایک خالی گھر میں گر گئی۔ وہ جب وہاں گیا تو دیکھا کہ اس کی پتنگ لاش پر پڑی ہوئی ہے۔ اس نے شور مچایا کہ جس لڑکی کو ڈھونڈ رہے ہیں، وہ تو یہاں موجود ہے، جس کے بعد پولیس آئی اور اس کو ہسپتال لے گئی۔‘

بچی کے والد ریڑھی لگاتے ہیں اور ان کا آبائی تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر سے ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ بسلسلہ روزگار 1992 میں کراچی آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کسی سے دشمنی تو دور کی بات انھوں نے تو کبھی کسی سے غیر ضروری بات تک نہیں کی۔

کراچی

’علاقے کے 17 افراد کے ڈی این اے‘

ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے 17 مشکوک افراد کو حراست میں لے کر ان کے ڈی این اے کروائے گئے ہیں، جن کی میچنگ کی جا رہی ہے۔

عرفان بہادر کے مطابق اس کے بعد کچھ قریبی رشتے داروں کے بھی ڈی این اے لیے جائیں گے۔

ایس ایس پی عرفان بہادر نے بتایا کہ ’مجھے یقین ہے کہ جلد ملزم گرفتار ہو جائیں گے کیونکہ میرا تجربہ یہ ہی کہتا ہے کہ ایسے واقعات میں مقامی لوگ ملوث ہوتے ہیں کیونکہ مقتول انھیں جانتے ہیں اس لیے وہ ان کو مار دیتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بچی کے والد کی گمشدگی کی درخواست کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی تھی، جس کے بعد ایس ایچ او لانڈھی سمیت تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

’تشدد اور ریپ کے شواہد ملے ہیں‘

پوسٹ مارٹم میں بچی پر تشدد اور مبینہ ریپ کے شواہد ملے ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں، چہرے اور سر پر تو بہت زیادہ چوٹیں تھیں اور ریپ کے بھی شواہد ملے ہیں۔

سمعیہ سید کے مطابق ’بچی کو بہت مارا پیٹا گیا، لگتا ہے کہ بچی نے کافی مزاحمت کی، تبھی اتنا تشدد ہوا۔‘

’اس کے ہاتھ اور ٹانگوں پر نشانات تھے جو ظاہر کرتے ہیں کہ اُس نے خود کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ ناک اور منھ بند کرنے کے علاوہ گلا دبانے کے بھی شواہد ہیں اور بظاہر اسی وجہ سے بچی کی موت واقع ہوئی۔‘