باجوہ صاحب کی گمنامی کی نذر ہونے کی خواہش  

وقت رخصت سابق آرمی چیف نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بھلادیا جائے۔وہ گمنامی کی نذر ہوجائیں۔ان کی نیت پر سوال اٹھائے بغیر لیکن میں یہ کہنے کو مجبور محسوس کررہا ہوں کہ فی الوقت ان کی خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آرہی۔ بدھ کی صبح اُٹھ کر اخبار میں چھپا کالم سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تو ٹویٹر پر چلائے کئی ٹرینڈ نگاہ سے گزرے۔ ان میں سے بیشتر تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے متعارف کروائے محسوس ہوئے۔جنرل باجوہ ان کی بدولت شدید تنقید کی زد میں گھرے نظر آئے۔

اقتدار کھودینے کے بعد عمران خان صاحب نے انتہائی جارحانہ انداز میں اپنے حامیوں کو قائل کردیا ہے کہ انہیں وزارت عظمیٰ سے نکالنے کی ’’سازش‘‘ واشنگٹن میں تیار ہوئی تھی۔ ہماری ریاست کے دائمی اداروں میں موجود ’’میر جعفروں‘‘ نے مبینہ سازش کوکامیاب کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ہفتے کی شام اپنے لانگ مارچ کا اختتام کرتے ہوئے مذکورہ الزام کو انہوں نے طوالت سے دہرایا۔ امریکی وزارت خارجہ کے افسر ڈونلڈ لو کی واشنگٹن میں تعینات سفیر سے ملاقات کا ذکر بھی کیا اور بعدازاں قومی سلامتی کمیٹی کے دو اجلاسوں کا ذکر بھی جن کے اختتام پر امریکی سفارت خانے کو احتجاجی مراسلہ بھیجنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

خارجہ امور کا کئی برسوں سے شاہد ہوتے ہوئے میں امریکی سازش والی کہانی پر اعتبار نہیں کرتا۔ عمران خان صاحب مگر اپنی ایجاد کردہ داستان کو حیران کن حد تک لوگوں سے تسلیم کرواچکے ہیں۔’’رجیم چینج‘‘اور ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ انگریزی کی دقیق تراکیب ہونے کے باوجود ہماری روزمرہّ زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ان کا مسلسل استعمال باجوہ صاحب کو ’’گمنامی‘‘ سے محروم رکھے گا۔

عمران خان صاحب جن دنوں بنی گالہ میں مقیم تھے تو چند صحافیوں کو جنہیں وہ بااصول اور ایماندار تصور کرتے ہیں گپ شپ کے لئے اپنے ہاں مدعو کیا کرتے تھے۔ ان سے ملاقات سے قبل آپ کو اپنا موبائل فون ہی نہیں،ہاتھ پر لگائی گھڑی اور جیب میں رکھا قلم بھی ان کے سٹاف کے سپرد کرنا ہوتاتھا۔اس کے باوجود صحافیوں سے ہوئی ملاقاتوں کے دوران چند لوگ ہاتھ میں سیلفی بنانے والی چھڑی جیسا کوئی آلہ لے کر نمودار ہوجاتے۔ اس کے ذریعے اس امرکو یقینی بنایا جاتا کہ کمرے میں ہوئی گفتگو ریکارڈ نہ ہو۔جدید ترین آلات کے استعمال سے اپنی گفتگو کو ’’سیکیور‘‘کرلینے کے بعد عمران خان صاحب جنرل باجوہ کا ذکر کرتے ہوئے چند ایسے واقعات بھی بیان کرتے جن کا مقصد یہ ثابت کرنا ہوتا تھا کہ جنرل صاحب بااثر غیر ملکی شخصیات کے روبرو خود کو وزیر اعظم پاکستان سے زیادہ طاقت ور اور حتمی فیصلہ ساز ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اس تناظر میں بل گیٹس سے ہوئی چند ملاقا توں کا بھی ایک بار تفصیلی ذکر ہوا تھا۔

فوجی کمان کی تبدیلی کے بعد عمران خان صاحب نئے آرمی چیف کے بارے میں تبصرہ آرائی سے گریز کیا۔اس حوالے سے انہوں نے روایتی ’’خیرمقدمی‘‘ کلمات بھی ادا نہیں کئے۔باجوہ صاحب کی بابت مگر زیادہ دنوں تک خاموش نہیں رہیں گے۔مجھے گماں ہے کہ چند روز بعد وہ اپنے اعتماد کے کسی صحافی کو ون آن ون انٹرویو دیتے ہوئے کچھ ’’سنسنی خیز انکشافات‘‘کرنا چاہیں گے۔جن کے جواب نہ دینا باجوہ صاحب کے لئے شاید ممکن نہیں رہے گا۔’’گمنامی‘‘قصہ مختصر فی الوقت سابق آرمی چیف کو میسر ہوتی نظر نہیں آرہی۔

باجوہ صاحب کو بذات خود اپنے ابتدائی ایام میں صحافیوں سے گپ شپ لگانے کی عادت تھی۔ عادتاََ وہ کھلے ڈلے آدمی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران ادا کردہ کلمات مگر ان کی تنقید یا تحقیر کا نشانہ بنے افراد تک بھی پہنچتے رہے۔ ان میں سے چند لوگ بھی شاید اب اپنا حساب برابر کرنے کی کوشش کریں گے۔

اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ہی دن قبل انہوں نے اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں بھی صحافیوں کے ایک گروہ سے طویل گپ شپ کی تھی۔ اس کے دوران عمران خان صاحب کے علاوہ موجودہ حکومت میں شامل ایک اہم جماعت کے رہ نما بھی ان کی تنقید کی زد میں آئے۔’’سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے‘‘ اس رہنما سے انہیں ملک کی بھلائی کی کوئی توقع نہیں تھی۔شہباز شریف صاحب کو اگر چہ وہ نسبتاََ بہتر منتظم تسلیم کرتے رہے۔

جنرل صاحب نے اپنے عروج اقتدارکے دوران جو منہ پھٹ رویہ اختیار کئے رکھا وہ کچھ لوگوں کو انہیں گمنامی کی نذر ہونے سے باز رکھے گا۔ جنرل اسلم بیگ اور جنرل پرویز مشرف بھی ایسے ہی رویے کے عادی رہے ہیں۔ان کے مقابلے میں جنرل کیانی بہت کم گو تھے۔سگریٹ سے سگریٹ سلگاتے ہوئے حیران کن خاموشی سے دوسروں کی سنتے رہتے۔اسی باعث ’’گمنام‘‘ ہونے میں انہیں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جنرل راحیل شریف کوبھی صحافیوں سے گپ شپ کی عادت نہیں تھی۔ جسے ہم ’’پراجیکٹ عمران‘‘ کہتے ہیں ان کے دور میں اپنے عروج کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مگر وہ صحافتی کہانیوں سے محفوظ رہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ جنرل باجوہ صاحب نے انگریزی زبان والا جو ’’اوٹی ٹی(OTT)‘‘ رویہ اختیار کررکھا تھا وہ آنے والے کئی دنوں تک انہیں مختلف تنازعات کا عنوان بنائے رکھے گا۔جنرل باجوہ صاحب کو ان سے ڈیل کرنے میں دشواری ہوگی۔ان کی ہڈی سیاستدانوں کی طرح ’’ڈھیٹ‘‘ نہیں۔فوجی کمان سے سبکدوش ہوجانے کے بعد وہ ان وسائل سے بھی محرو م ہوچکے ہیں جو ان کی ذات کو مؤثر دفاع فراہم کرسکتے تھے۔جو تنازعات اچھالے جا ئیں گے وہ ہماری قوم کو چسکہ فروشی کی نئی لہر سے آشنا کروائیں گے اور یوں روایتی اور سوشل میڈیا ایک بار پھر پاکستان کو درپیش سنگین مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے فروعی معاملات سے لوگوں کا جی بہلاتا رہے گا۔