ادھوری تاریخ کا کارخانہ اور ناکارہ مصنوعات

چوہدری نثار علی خان ہماری سیاسی تاریخ کا طرفہ کردار ہیں۔ ایچی سن کالج سے تعلیم پانے والے 68 سالہ چوہدری نثار 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار قومی اسمبلی پہنچے۔ مئی 2018 تک مسلسل آٹھ بار قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔ کم از کم پانچ مرتبہ وفاقی وزیر رہے۔ جولائی 2018 کے انتخاب میں قومی نشست پر شکست کھائی لیکن صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے کے باوجود 26 مئی 2021 تک پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے سے گریزاں رہے۔ چوہدری نثار کی سیاست قومی معاملات پر کسی متعین نقطہ نظر کی محتاج نہیں۔ جمہوری نصب العین سے وابستگی یا آمرانہ رجحانات کی مزاحمت چوہدری نثار کی وجہ شہرت نہیں۔ اپنے حلقے سے باہر عوامی مقبولیت کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ طبعاً غیردستوری مداخلت کے نادیدہ سرچشموں سے تعلق کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ذاتی طور پر کم آمیز، خود پسند اور جاہ پرست سمجھے جاتے ہیں، بند کمرے میں جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر ہیں۔ بیک وقت شہباز شریف اور عمران خان سے دوستی کا دعویٰ چوہدری نثار کی سیاسی شعبدہ بازی پر دال ہے۔ اکتوبر 1998 میں پرویز مشرف کی بطور آرمی چیف تقرری میں چوہدری نثار کو خاصا دخل تھا۔ 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف ملٹری آپریشن ہو یا نومبر 2013 میں حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں موت، چوہدری صاحب کی رقیق القلبی موقع شناس ہے۔ 2017 کے موسم گرما میں نواز حکومت پر کڑا وقت آیا تو چوہدری نثار نے ہر شام پریس کانفرنس کے نام پر رونمائی شعار کر لی۔ گھنٹوں ٹیلی ویژن اسکرین پر درشن دیتے تھے۔ اس مشق کا مدعا کچھ ایسا پوشیدہ نہیں تھا لیکن جولائی 2018 کے بعد چوہدری نثار ٹھیک اسی طرح گوشہ نشین ہو گئے جیسے اکتوبر 1999 میں نظر بند ہوئے تھے۔ حالیہ ہفتوں میں چوہدری نثار علی نے پھر سے پھریری لی ہے۔ اخبارات میں ایک آدھ سیاسی بیان کے بعد ایک معروف اینکر پرسن کے پروگرام میںنمودار ہوئے۔ اہل پاکستان ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین، عمران خان، شیخ رشید، مصطفی کمال حتیٰ کہ جماعت اسلامی کراچی کے حافظ نعیم الرحمن کی میڈیا پر مربوط پذیرائی کے اشارے خوب سمجھتے ہیں۔’ ’نم کہیں اور کا ہو، آنکھ کہیں جا کے بہے... عقل والوں کو اشارہ یہ کہیں اور کا ہے‘‘۔

چوہدری صاحب کے اس انٹرویو کے مقاصد تو رموز خسرواں کا حصہ ہیں۔ کچھ نکات البتہ دلچسپ رہے۔ ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کے بارے میں سوال کو چوہدری صاحب نے ادائے بے نیازی سے یہ کہتے ہوئے مسترد کیا کہ اس ملک میں کئی کمیشن بنے اور بے نتیجہ رہے۔ کمیشن بنانا اہم نہیں، اس پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ معلوم یہ ہوا کہ ہمارے سابق وزیر داخلہ جوڈیشل کمیشن اور ٹروتھ اینڈ ر ی کنسیلی ایشن کمیشن کا فرق ہی نہیں سمجھتے۔ جوڈیشل کمیشن تو کسی خاص واقعے کی تحقیقات کے لئےقائم ہوتا ہے۔ جیسے لیاقت علی خان یا بینظیر بھٹو کی شہادت۔ ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب کوئی قوم اپنی سیاسی تاریخ میں کسی اجتماعی نا انصافی کا طویل مدت شکار رہی ہو اور اس دوران فریقین کی جانب سے ناانصافی، استحصال اور پرتشدد جرائم سے تائب ہو کر تاریخ کے اگلے مرحلے میں داخل ہونا چاہتی ہو۔ مثلاً جنوبی افریقہ میں دہائیوں تک نسل پرست پالیسیاں اختیار کی گئیں۔ اس دوران حکومتی استبداد اور اس کی مزاحمت میں دونوں طرف سے ان گنت نا انصافیاں ہوئیں۔ نیلسن منڈیلا اقتدار میں آئے تو ان کا مقصد اپنے ملک کو اس بدنما تاریخی تجربے کی باقیات سے نجات دلانا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن قائم کیا تاکہ ماضی کی نا انصافیوں کو تسلیم کر کے قومی مفاہمت کا راستہ ہموار ہو سکے۔ ہم اگر خوش نصیب ہوتے تو مارچ 1969 میں ایسا قومی کمیشن بننا چاہئے تھا جو 1952 کے بنگلہ بھاشا اندولن، جگتو فرنٹ حکومت کی معزولی، ون یونٹ اور مشرقی پاکستان کے معاشی استحصال جیسی نا انصافیاں تسلیم کر کے قومی مفاہمت کی بنیاد رکھ سکتا۔ ایسا ہوتا تو 1971 کی قومی ہزیمت سے بچا جا سکتا تھا۔

ٹھیک دو ماہ قبل فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی فوج ستر برس سے ملک کی سیاست میں مداخلت کرتی رہی ہے۔ گویا قوم کے خلاف دستوری انحراف، جمہوری عمل میں مداخلت، نقصان دہ خارجہ پالیسیوں اور معاشی استحصال جیسے جرائم سرزد ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت آئینی اور قومی ادارے اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں۔ عوام کا معیار زندگی بری طرح مجروح ہوا ہے۔ ریاست کی عملداری جاتی رہی۔ سات دہائیوں پر محیط اس تاریخی المیے سے واقعی نجات حاصل کرنے کے لئے ایک ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن قائم ہونا چاہئے۔ جس میں ماضی کی سیاسی اور ریاستی کوتاہیوں کا کھلے عام اعتراف کر کے ایسے جمہوری عہد کا آغاز کیا جا سکے جس کا واحد مقصد قومی معیشت کی ترقی نیز وفاقی اکائیوں، مذہبی گروہوں اور لسانی طبقات میں انصاف کی بنیاد پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہو۔ تاہم اس کے لئے چوہدری نثار علی خان کو اپنی تاریخ دانی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ونسٹن چرچل نے Blood,Toil,Tears and Sweat والی تقریر دوسری عالمی جنگ کے بعد نہیں بلکہ 13 مئی 1940 کو وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے فوراً بعد کی تھی۔ ایچی سن کالج میں تاریخ سمیت سماجی علوم کی تدریس معیاری نہیں۔ عمران خان جرمنی اور جاپان میں 9000 کلومیٹر کا فاصلہ مٹا دیتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی ملتان میں بیٹھ کر وزارت خارجہ چلاتے رہے۔ مناسب ہے کہ ادھوری تاریخ کے کارخانے کی ناکارہ مصنوعات پر بھروسا کرنے کی بجائے خورشید کمال عزیز کی کتاب Murder of History پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ کے کے عزیز ’’کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی‘‘ کی عملی تصویر تھے۔ 1985 میں شائع ہونے والی اس قابل قدر تصنیف میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ہماری نصابی کتابوں میں غلط حقائق، غیر مستند روایات، من مانی تشریحات اور گمراہ کن بیانات کی مدد سے قومی شعور کو کس طرح مجروح کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *