اب وہ بادشاہ کون تھا؟

جمعرات کی شب ایک نیوز چینل سے وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو کا بیشتر حصہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت کے حوالے سے تھا۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور العزیزیہ کے دو ریفرنسز میں سزا یافتہ نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے کہ اکتوبر 2019ء کے دوسرے ہفتے انہیں چودھری شوگر ملز کی انکوائری/ انویسٹی گیشن کے لیے نیب لاہور کے لاک اپ میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں وہ مکمل نگرانی میں تھے۔ گھر سے آنے والا کھانا بھی مکمل جانچ پر کھ کے بعد ان تک پہنچایا جاتا۔ ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو بھی کوئی ہفتہ بھر بعد ملاقات کی اجازت ملی۔ 21اکتوبر کی شب انہیں طبیعت کی سخت خرابی کے باعث سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ظاہر ہے‘ یہاں بھی وہ متعلقہ اداروں کی نگرانی میں تھے۔19نومبر کولندن روانگی تک‘حالات و واقعات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ یہ انہی کالموں (اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا) میں متعدد بار دہرائی جاچکی ہے۔
گزشتہ سال فروری/مارچ اور اس کے بعد اکتوبر /نومبر میں خود سرکار کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈز کے مطابق انہیں متعدد سنگین عوارض لاحق تھے۔ دل کا معاملہ قدیم تھا‘ وہ دومرتبہ سرجری کے عمل سے گزر چکے تھے‘ چھ ‘ سات سٹنٹ اس کے علاوہ تھے‘ شوگر‘ بلڈ پریشر اور گردوں کے مسائل بھی تھے۔ لندن میں مختلف میڈیکل چیک اپس کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس کے لیے ہسپتالوں میں آتے جاتے‘ تصاویر اور ویڈیوز بھی میڈیا پر آتی رہیں۔ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں ان کا کمرہ بھی ضروری طبی سہولتوں سے آراستہ کردیا گیا تھا۔ چہل قدمی اور ہواخوری بھی علاج کا حصہ ہوتا ہے( جسے ہمارے فواد چودھری ‘شہباز گل اور فیاض الحسن چوہان لندن کی سڑکوں پر دندنانے ‘ گنگنانے ‘ گھومنے ‘ جھومنے اور اٹکھیلیاں کرنے سے تعبیر کرتے ہیں)اُدھر چہل قدمی کرتے یا کسی کیفے پر فیملی کے ساتھ چائے/کافی پیتے کوئی تصویر یا ویڈیو ''لیک‘‘ ہوجاتی تو ادھر سرکاری ترجمانوں کی پیالیوں میں طوفان آجاتا(اور ایک آدھ دن بعد بیٹھ جاتا)لیکن وہ جو غالب نے کہاتھا ؎
بار ہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
گیارہ اگست کو نیب لاہورمیں پیشی کے لیے مریم کی ہنگامہ خیز آمد ہی کیا کم تھی کہ لندن میں بارش کے بعد چھوٹے صاحبزادے حسن کے ساتھ میاں صاحب کی چہل قدمی کی تصویر اور اس کے ساتھ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو سے فون پر رابطوں نے اقتدار کے ایوانوں میں تشویش اور اضطراب کا طوفان اٹھادیا۔11اگست کو میاں صا حب مریم کے ساتھ بھی رابطے میں تھے ۔انہوں نے زخمی کارکنوں کی خبر گیری اور گرفتار شدگان کی رہائی کے لیے بلا تاخیر عدالتی چارہ جوئی کی تلقین بھی کی ۔نوازشریف کی واپسی اب حکومت کی اولین ترجیح بن گئی تھی۔ کابینہ کے اجلاس میں ایجنڈے کا اولین اور اہم ترین نکتہ یہی تھا ‘ جس کے بعد نوازشریف کی واپسی کیلئے تمام ذرائع استعمال کرنے کا اعلان ہوا۔ فواد چودھری اور شہباز گل کے بقول میڈیکل رپورٹس میں جعل سازی کی تحقیقات کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور کراچی کے ڈاکٹر طاہر شمسی ‘ رپورٹس کی صداقت کے مؤقف پر قائم تھے اور کسی بھی قسم کی تحقیقات کا سامنا کرنے کو تیار ۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے بقول‘ وہ سیمپل اب بھی موجود اور محفوظ ہیں۔
ایسے میں خود وزیر اعظم ایک نیوز چینل سے انٹرویو میں منظر عام پر آئے۔ میڈیکل رپورٹس کی تحقیقات کے سوال پر ڈاکٹر یاسمین راشد پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہو ئے وزیر اعظم نے انہیں پی ٹی آئی کی ''ڈائی ہارڈ اور ویژنری ورکر‘‘ قراردیا اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ مکمل رابطے میں تھے اور وہ انہیں نوازشریف کی صحت کے حوالے سے ڈاکٹروں کی آرا سے مسلسل آگاہ کرتی رہیں۔ وزیر اعظم نے شوکت خانم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (اور اب معاونِ خصوصی برائے صحت) ڈاکٹر فیصل سلطان کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ اُن کی بھی رائے تھی کہ پلیٹ لیٹس کا معاملہ زیادہ خطرناک نہیں‘ البتہ کچھ اور امراض سنگین مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان میڈیکل رپورٹس ہی کی بنیاد پر انہوں نے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو ''غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس پر افسوس ہے۔
ہمارے خیال میں تو وزیر اعظم کو اس فیصلے کو غلط قرار دینے کے بجائے یہ کہنا چاہیے تھا کہ ان کا سیاسی حریف صحت کے سنگین مسائل سے دوچار تھا‘ سواسے بیرونِ ملک علاج کی اجازت کا فیصلہ درست تھا‘ جس پر انہیں کوئی افسوس نہیں اور اب وہ بیرونِ ملک علاج کی بجائے‘ سیاست کررہے ہیں تو انہیں واپس لانے کا جواز موجود ہے۔لیکن قانونی ماہرین کے خیال میں معاملہ ایسا آسان نہیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ دونوں ملکوں میں ملزموں/مجرموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ ہی موجود نہیں اور انگلستان ان ملکوں کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ کرتا بھی نہیں‘ انسانی حقوق ‘ شہری آزادیوں اور نظامِ انصاف کے حوالے سے جن کا ریکارڈ(اس کے خیال میں) اطمینان بخش نہ ہو۔ اس کے لیے اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دیکر انٹر پول کے ذریعے واپس لانے کی کوشش کی مثال بھی دی جاتی ہے‘ لیکن انٹرپول نے ان دستاویزات کو ناکافی (اور غیر اطمینان بخش) قرار دے کر مستر د کردیا تھا۔ حسین اور حسن نواز ‘سلمان شہباز اور علی عمران کو پاکستان لانے کے لیے ‘شہزاد اکبر کی کو ششیں بھی نا کام رہی تھیں۔ لندن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعدمیڈیا سے گفتگو میں برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے بھی صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ برطانیہ ‘ پاکستان کے ساتھ ملزموں/مجرموں کی حوالگی کے کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا ‘ جسے سیاسی طور پر استعمال کیا جاسکے۔
انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ''ایک بادشاہ‘‘ نے بھی ان سے نوازشریف کو بیرون ملک بھجوانے کی بات کی تھی‘ وزیر اعظم کے بقول‘ بادشاہ نے یہ بات بڑے نرم لہجے میں کی‘ جس میں ''ورنہ‘‘ والا اندازنہیں تھا۔ وزیر اعظم نے سفارتی آداب کے تحت بادشاہ کا نام لینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان (شریف برادران) کے بیرون ملک تعلقات تو ہیں۔ یاد آیا‘ پرویز مشرف نے نوازشریف کی جلا وطنی (10 دسمبر 2000ء)کے بعد مدیران جرائد اور سینئر اخبار نویسوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ اس کے لیے ایک توسعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز زور دے رہے تھے اور ادھر بیگم صاحبہ(کلثوم نواز) ہر روزکوئی نہ کوئی ہنگامہ کئے رکھتی تھیں‘ جس سے اندرونِ ملک سیاسی عدم استحکام کا تاثر گہرا ہوتا؛چنانچہ انہوں نے انہیں بیرونِ ملک بھجوانا ہی مناسب سمجھا۔ قاضی حسین احمد کی روایت کے مطابق‘ شاہ عبداللہ نے ان سے کہاتھا‘ ہمارے دوست کی گردن تلوار کے نیچے تھی‘ ہم اسے نکال کر لے آئے۔ اُن دنوں اس قسم کی باتیں بھی سننے میں آئیں کی 12اکتوبر کے بعدپرویز مشرف کے لیے سعودی ولی عہد کے رویے میں خاصی سرد مہری تھی ۔ریاض میں پاکستانی سفیر کو پرویز مشرف کی ملاقات کیلئے ولی عہد کے دفتر سے وقت لینے میں ہفتوں لگ گئے تھے۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد نواز شریف سعودی عرب گئے تو شاہی محل کے عظیم الشان عشائیے میں ‘ جس میں شاہ فہد سمیت پورا شاہی خاندان موجود تھا ‘ ولی عہد نے نواز شریف کا ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا ‘ آج سے آپ میرے ''فل برادر ‘‘ہیں(عبد اللہ اپنی والدہ کے اکلوتے بیٹے تھے)۔اس بار وہ بادشاہ کون تھا؟جس نے وزیر اعظم عمران خان سے اپنے دوست کیلئے ریلیف کی بات کی تھی؟ بعض باخبر اس کیلئے قطرکی طرف اشارہ کرتے ہیں۔