یہ کیا سرخی ہے؟

news paperیہ اتوار 28 ؍ ستمبر کے اخبارات ہیں۔آج لاہور میں عمران خان کا جلسہ ہے۔ مگر گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نریندر مودی نے اپنا اہم ترین خطاب کیا ہے۔اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی ایک خطاب فرما چکے ہیں اور اپنے اُس خطاب میں انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر کھل کر گفتگو کی ہے۔ ظاہر ہے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی یا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا کسی بھی طرح کا ذکر بھارتی حکمرانوں کو پسند نہیںآتا۔ وہ اِسے اب سفارتی سطح پر ایک دوطرفہ معاملہ بنا کر رکھنا چاہتے ہیں جس میں پاکستان کی ایک نہ سنی جائے۔ بھارت سے خوشگوار تعلقات کی خواہش کے باوجود پاکستان کے لئے بھارتی اقدامات ہمیشہ ناقابلِ فہم رہتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ سیکریٹری سطح کے مذاکرات صرف پاکستانی سفیر کے حریت رہنماؤں سے ملاقات کے بہانے منقطع کر دئے تھے۔اب جنرل اسمبلی سے پاکستان کے بعد بھارتی وزیر اعظم کا خطاب نہایت اہم واقعہ تھا۔
پاکستانی سیاست کے اپنے بھی کچھ مناظر ہیں ۔جس کے رنگ نہایت گہرے ہیں ۔ مثلاً سندھ کی تقسیم کا مسئلہ ایک بڑی خبر بن چکاہے اور اس پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے مسلسل خطاب جاری ہیں۔ وہ اپنے خطابات میں متوازی طور پر ایم کیوایم کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے رویئے کی بھی شکایت کررہے ہیں۔واقعہ ایک اور بھی ہے۔ وزیر اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب پر قتل کے ایک اور مقدمے کا حکم سیشن عدالت کی طرف سے پی ٹی آئی کی درخواست پر دیا گیا۔خبروں کے اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ آج کس نے کون سی خبر کو اہمیت دی ہے۔یہ صرف لاہور کے اخبارات کی شہ سرخی کا جائزہ ہے۔ اور اس کے لئے اخبارات کے لاہور ایڈشنز کو ہی سامنے رکھتے ہیں۔
پاکستان کے سب سے کثیر الاشاعت اور خبروں کے حوالے سے لیڈر کا کردار ادا کرنے والا اخبار جنگ بھارتی وزیر اعظم کے خطاب کو اپنی شہ سرخی بناتا ہے۔ سرخی کچھ یوں ہے:
* پاکستان مذاکرات کے لئے دہشت گردی سے پاک ماحول بنائے،متنازع امور
اقوامِ متحدہ میں لانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔۔(مودی)
لاہور میں ایک نظریاتی شناخت کے حامل اخبار نوائے وقت نے مودی کے بیان کے ساتھ پاکستان کے ردِعمل کو بھی اس بڑی خبر کا حصہ بنا دیا ہے۔جو کچھ یوں ہے:
*تنازعات اقوامِ متحدہ میں اٹھانے سے حل نہیں ہوں گے(مودی) کشمیر پر بھارتی
ناراضی کی پروا نہیں۔(پاکستان)
بڑے اخبارات کی دوڑ میں شامل ایکسپریس نے اپنے لاہور ایڈیشن میں جس خبر کو زیادہ اہمیت دی ہے وہ یہ ہے:
*وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پر قتل کا ایک اور مقدمہ، نااہلی کیس میں فل بینچ تشکیل سماعت
کل ہو گی۔
لاہور کے سنجیدہ قارئین میں اہمیت کا حامل اخبار پاکستان نے بھی مودی کے خطاب کو شہ سرخی بنایا ہے:
* اقوامِ متحدہ مناسب جگہ نہیں، پاکستان کشمیر کی بات ہم سے کرے(مودی)
جنگ، نوائے وقت، ایکسپریس اور پاکستان کے بالکل برعکس لاہور سے شائع ہونے والے ایک اور اہم ترین اخبارروز نامہ دنیا کی شہ سرخی سب سے مختلف ہے، ملاحظہ کیجئے:
*آج فیصلہ ہوجائے گالاہور کس کا ہے، حکومت پر ہر شہر سے حملے کریں گے (عمران خان)
روزنامہ دنیا کی اس شہ سرخی کے بعد تمام بڑے اخبارات کی خبر پڑھنے، سمجھنے اورجانچنے کی صلاحیت یاتو محدود لگتی ہے یا پھر خود روزنامہ دنیا کی اس شہ سرخی کو سمجھنے کی ’’صلاحیت ‘‘پیدا کرنے لئے کسی ہنر کی ضرورت ہے۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *