کالج سے نکالی جانے والی لڑکی طب کی جینئس اور دنیا کی کم عمر ترین خاتون ارب پتی بن گئی!

elzabith دنیا کے کامیاب ترین اور تخلیقی لوگوں میں سے متعددنے اپنی کالج کی تعلیم مکمل نہیں کی۔ بل گیٹس اور مارک زکر برگ ہارورڈ یونیورسٹی کو تعلیم مکمل کئے بغیر چھوڑ گئے تھے۔
گیٹس نے مائیکروسافٹ اور زکر برگ نے فیس بک تخلیق کرنے کی خاطر ایسا کیا۔اسی طرح، اگرچہ سٹیو جوبز آج ہم میں نہیں ہیں، تاہم انہیں بھی ریِڈ کالج سے نکال دیا گیا تھا۔ یہاں سے ناپختہ عمر میں نکلتے ہی انہوں نے ایپل کی دنیا کی بنیاد رکھنے کیلئے تگ و دو شروع کر دی۔ تو پھر کیا ہم یہ سمجھیں کہ کالج سے نکال دیا جانا عظمت کا راستہ ہے؟
روایتی سوچ بتاتی ہے کہ ہمیں کالج کی تعلیم کی تکمیل کی ضرورت اس لئے ہوتی ہے تاکہ ہم دنیا میں کسی مقام پر پہنچ سکیں۔تاہم ان افراد نے کالج کے راستے کی بجائے اپنے خوابوں کے راستے پر چل کر اپنی منزل پائی۔
19سالہ الزبتھ ہولمز2003ء میں سٹین فورڈ یونیورسٹی میں دوسرے کی طالبہ تھیں جب انہوں نے کالج چھوڑنے اور اپنی ذاتی کمپنی دی رانوز بنانے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے یہ بات شدت سے محسوس کی کہ ان کی فیس کی رقم ، اس سے کہیں زیادہ عظیم ترکام وں میں خرچ کی جا سکتی ہے اور ان کے نزدیک سب سے اہم مقصد صحت کی نگہداشت کے شعبے میں انقلاب برپا کرنا ہے۔
ہولمز ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا چاہتی تھیں جو خون کے ٹیسٹوں کو آسان تر بنا دے۔ انہیں سوئیوں سے نفرت ہے اور وہ خون کے ٹیسٹوں کو مزید آسان، مزید سستا اور سب کی پہنچ میں لانا چاہتی تھیں۔وہ ایک عشرے تک، خاموشی سے ایک ٹیکنالوجی پر کام کرتی رہیں جس کی مدد سے بلڈ ٹیسٹ انگلی پر ایک بے دردچھید کے سواء کچھ بھی نہیں رہے گا۔
ہولمز نے ان بلڈ ٹیسٹوں کیلئے ہارڈوئیر اور سافٹ ویئر تخلیق کر لئے ہیں۔ یہ ٹیسٹ کسی کی انگلی میں چھید کرکے اور خون کو ایک چھوٹی سی وائل، جسے نینو ٹینر کہا جاتا ہے، میں ذخیرہ کرکے کئے جاتے ہیں۔
ہولمز کی کمپنی دی رانوز اب 9بلین ڈالر کے اثاثے رکھتی ہے۔ ہولمز اس کمپنی کے نصف حصے کی مالک ہیں۔ یوں وہ فوربز کی جانب سے جاری کی جانے والی 400امیرترین امریکیوں کی فہرست میں تیسری کم عمرترین ارب پتی اور پہلی کم عمر ترین خاتون ارب پتی قرار پائی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *