انیس نومبر 1995

انجم نیازAnjum Niaz

انیس نومبر 1995 پاکستان میں دھشت گردی کی تاریخ کے حوالے سے ایک اہم ترین دن ہے۔ اس دوران پاکستان کی پوری ایک نسل بغیر یہ جانے جوان ہوگئی ہے کہ ہماری خوبصورت زمین میں خون کے پیاسے غیر ملکی ایجنٹوں نے اسلام کی آڑ میں دھشت گردی کے بیج کیسے بوئے دیے۔آج ہم خود کش حملہ آوروں، جو اپنے من پسند اہداف پر حملہ کرکے شہریوں کو ہلاک کرتے ہیں، کے بارے میں لب کشائی نہیں کرتے۔ ہر حملے کے بعد ٹی وی چینلو ں پر زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور حملے کی جگہ کی منظر کشی ، جو ہر حملہ میں ایک جیسی ہی لگتی ہے، دکھائی، بلکہ دہرائی، جاتی ہے۔ اگلے دن اخبارات صفحات پاکستانی رہنماؤں کے تعزیت بھرے دکھی پیغامات لیے ہوتے ہیں ۔ قائدین دھشت گردوں کے سامنے نہ جھکنے کا عہد کرتے سنائی دیتے ہیں۔ تاہم شام تک سب کچھ فراموشی کی گرد میں گم جاتا ہے اور ایک دن بیت جاتا ہے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خود کش حملوں کے پیچھے کون ہے۔ جہادی تنظیموں کا شکریہ کہ وہ حملہ کرنے کے بعد پریس ریلز جاری کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لیتیں۔ وہ بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ ان گھناونے اور انسانیت سوز واقعات ان کی کارروائی ہے۔ وہ بے دھڑک ان کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ ان کا تعلق کس سیارے سے ہے؟ یہ سوالات غیر ضروری ہیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ غیر ملکی نہیں بلکہ یہ ہمارے ملک کے ہی شہری ہیں ۔ تاہم یہ لوگ پاکستان کے موجودہ نظام کو ’’غیر اسلامی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی مرضی سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اور حکمران ان کے سامنے بے بس ہیں۔ ان کے خلاف جو واحد ایکشن وہ لے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر حملے کے بعد وہ اپنے گرد مزید حفاظتی دیواریں کھڑی کرلیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی جان عام پاکستانیوں سے کہیں زیادہ اہم ہے اور انہیں کوئی گزند نہیں پہنچنا چاہیے۔
ٹھیک انیس سال پہلے، نومبر میں ہم نے پہلی مرتبہ سنا کہ خود کش حملہ کسے کہتے ہیں اور اس سے کیا تباہی آسکتی ہے۔ یہ موسمِ سرما کی ایک خوبصورت شام تھی جب میرے اسلام آباد والے گھر کی کھڑکیاں اوردروازے لرز اُٹھے اور میں ڈر گئی کہ کہیں چھت تو نہیں گرگئی۔ دس منٹ بعد، فون کی گھنٹی بجی۔ اُس وقت تک ابھی ہمارے ہاں سیل فون نہیں آیا تھا۔ فارن آفس میں موجود ایک دوست نے مجھے بتایا کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے...’’ یہ ہمارے دفتر کے سامنے مصر کا سفارت خانہ ہے جہاں پر حملہ ہوا ہے۔‘‘ فون کرنے والے، اسلم رضوی ، نے بتایا کہ وہ یہ تمام منظر اپنے کمرے سے دیکھ رہا ہے...’’وہاں گرد اور دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور فی الحال بتانا مشکل ہے کہ کیا ہوا ہے۔‘‘
ڈان کے نمائندے کی حیثیت سے میں اپنی نوٹ بک اور کیمرہ لے کر بھاگی اور جائے وقوعہ پر پہنچی۔ اُس وقت تک وہاں پہنچنا آسان تھا کیونکہ پولیس ابھی اپنی پوزیشن سنبھالنے کی کوشش میں تھی اور کافی بوکھلائی ہوئی تھی۔ جب میں وہاں پہنچی تو دیکھا کہ جہاں کبھی مصری سفارت خانہ تھا، اب وہاں ایک بڑاسا گڑھا ہے۔ دھوئیں میں سے انسانی جسم کے جلنے کی بو آرہی تھی۔ اُس وقت تک ،وہاں صرف ایک انٹیلی جنس افسر، عبدالقادر حئی، ہی پہنچ پائے تھے۔ وہ بھی کسی محافظ کے بغیر وہاں موجود تھے۔ ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے،خون کے تالات دکھائی دے رہے تھے۔ ہم دونوں بہت سنجیدہ اور خاموش تھے۔ حئی صاحب ایک دھیمے لہجے میں بات کرنے والے ایک جنٹل مین تھے۔ اپنے جچے تلے لہجے میں اُنھوں نے کہا،’’یہ غالباً حملہ آوور کا سرہے۔‘ ‘یہ بہت ہی دلخراش منظر تھا۔ اُس رات ، اور آنے والی بہت سی راتوں میں ان مناظر نے مجھے چین سے سونے نہ دیا۔ اس حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور59زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور نے سفارت خانے کی عمارت سے گاڑی ٹکرائی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ ایک سیاہ رنگ کی گاڑی تھی۔ اُس نے پہلے ایک دستی بم اور کچھ اور کریکر پھینکے اور گیٹ کو توڑدیا۔ سفارت خانے کے اندر داخل ہوکر اُس نے گاڑی کو دھماکے سے اُڑا لیا۔اس دھماکے میں اُس کی اور دیگر افراد کی ہلاک ہوئی۔ مرنے میں چھے مصری، ایک افغان اور سات پاکستانی شامل تھے۔ یہ افراد یا تو یہاں کام کرتے تھے یا ویزے کے حصول کے لیے آئے تھے۔ مصر کے ویزہ کونسلر ، ہاشم ابو وفا بھی مرنے والوں میں شامل تھے۔ مصری سفارت کار نعمان گلال معجزانہ طور پر بچ گئے۔ میں پہلی صحافی تھی جس نے اُن سے اور اُن کے سٹاف سے بات کی۔ اُن میں سے ایک نے مجھے بتایا،’’ جب میں نے بم دھماکا سنا، میں نے سفیر صاحب کو دھکادے کر سیڑھیوں سے نیچے گرادیا۔ ‘‘اس دھکے نے اُن کی جان بچالی۔
سفارت کا ر کے پاکستانی پی اے مسٹر محبوب نے مجھے بتایا کہ لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالی جارہی ہیں۔اُنھوں نے کہ وہ اور سفارت کار چند لمحوں کے فرق سے ہی بچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ زندہ تھے ، ورنہ اس وقت تک ان کی لاشیں بھی مرحومین میں شامل ہوتیں۔ دھماکے کی آواز سنتے ہی وہ باہر بھاگے اور حیران کھڑے سفارت کار کو سیڑھیوں میں دھکیل دیا۔ اس کے بعد ہونے والا دوسرا دھماکہ بہت زور دار تھا۔ ‘‘مسزز نعمان گلال آب پارہ میں شاپنگ کررہی تھیں۔ اُنھوں نے بھی مجھ سے بات کی اور بتایا،’’ میں نے دھماکے کی آواز سنی اور میں حیران تھی کہ کیا ہوا ہے؟جب میں سفارت خانے کی طرف واپس آئی تو میں نے پولیس کی گاڑیاں اور ایمبولینسز دیکھیں۔ پھر کسی نے مجھے بتایا کہ یہاں بم پھٹا ہے۔ میں اپنے شوہر کے لیے پریشان تھی۔‘‘پھر وہ مجھے اپنے تباہ شدہ کمرے میں لے گئی،’’شیشے کی کرچیاں اور تباہ شدہ چیزوں کی طرف اشارے کرتے ہوئے کہا،’’دیکھو یہ ہے میرا کمرہ۔ ہر چیز تباہ ہوچکی ہے۔‘‘ان پر ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی۔ اُنھوں نے حال ہی میں اس رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کی تھی۔ اُنہیں اس سجے ہوئے گھر پر بہت فخر تھا۔
سفارت کار مسٹر گلال نے پریس سے بات کرنے سے انکار کردیا۔ وہ بہت تحمل سے رسیکو کی کارروائی کی نگرانی کررہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ ہرگز خوفزدہ نہیں۔ وہ تباہ شدہ چیزوں کو دیکھ کر کہہ رہے تھے کہ کوئی بات نہیں، ایسا ہوتاہے۔ وہ چاہتے تھے کہ فوج علاقے کو محاصرہ کرلے تاکہ لوگوں، جن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا، کو اندر آنے سے روکا جاسکے۔ بہرحال اُنھوں نے اس حملے کا ارتکاب کرنے والوں کا نام لینے سے گریز کیا۔ میرے ذرائع کے مطابق مصری سفارت کار نے وزارتِ داخلہ کوتین دن پہلے خط لکھ کر حملے کی دھمکی کے بارے میں آگاہ کیا اور اضافی حفاظت طلب کی تھی۔ اُنہیں موت کی دھمکیاں ملی تھیں۔ اُس وقت کے آئی جی پولیس اسد علوی مرحوم اور اعلی انٹیلی جنس حکام نے بند کمرے میں کانفرنس کی اور کچھ اقدامات تجویز کیے۔ وزیرِ داخلہ نصیر اﷲ بابر مرحوم نے مصری سفارت کار سے ذاتی طور پر تعزیت کی۔ تاہم اطلاع کے باوجود ، وہ حملہ روکنے میں ناکام ہوچکے تھے۔ کوئی باز پرس نہیں ہوئی تھی... یہ سلسلہ جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *