درہ آدم خیل: غیرت کے نام پر تین خواتین قتل

Burqa-clad-Afghan-women-007صوبہ خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر تین خواتین کو ہلاک کر دیا گیا ہے جن میں سے ایک عورت پر اپنے شوہر کو چھوڑ کر دوسرے مرد سے شادی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ان تینوں بدقسمت خواتین کو پشاور اور کوہاٹ کے درمیان ضلع درہ آدم خیل کے گاؤں جواکی میں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

ایک مقامی انتظامی افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خاتون کی دو سال قبل جواکی کے دکاندار سے شادی ہوئی تھی اور اس پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی خالہ اور کزن کی مدد سے سوات میں ایک اور شخص سے شادی کر لی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی قبائلی جرگہ نے اس معاملے میں مداخلت کی اور اتوار کو ان خواتین کے قتل کا فیصلہ صادر کیا۔

آفیشل کا کہنا تھا کہ رشتے داروں نے اتوار کی رات ان تینوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد پیر کی صبح تدفین کر دی۔

انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو مزید بتایا کہ یہ غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ ہے جسے عام طور پر مقامی قبائلی جرگے کے فیصلے کے مطابق حل کیا جاتا ہے اور ان علاقوں میں پاکستانی عدالتی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

مقامی انٹیلی جنس حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہ تھی۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے مطابق 2011 میں 943 خواتین کو ان کے رشتے داروں نے غیرت کے نام قتل کر دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *