گاندھی کے پوتے کی کتاب

راج موہن گاندھی 4دسمبر کو لمز میں اپنی کتاب لانچ کرنے کے لئے آئے۔ ان کی کتاب کا عنوان ہے، ’’پنجاب: اورنگزیب سے ماؤنٹ بیٹن تک کی ایک تاریخ۔ یہ کتاب اور لاہور میں اس کا لانچ کیا جانا کئی حوالوں سے اہم تھا۔2011ء میں یہ کتاب تحریر کرنے کے لئے تحقیق کی خاطر، راج موہن چند ماہ کے لئے لمز میں ٹھہرے تھے تاکہ پنجاب آرکائیوز اور اس کے کتب خانے میں موجود تاریخی مواد اور نایاب کتابوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور اور لمز ان کے دل میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔لیکن اس وقت ہمیں کچھ مضحکہ خیز سا لگتا کہ جب مہاتما گاندھی کے 15پڑ پوتوں میں سے ایک لاہور آتا ، کئی ماہ یہاں رہتا ، اور تقریباًدو گھنٹوں تک ایک زندہ مجمع کے ساتھ بات چیت بھی کرتا ہے، لیکن آج تک ایسا کوئی موقع نہیں آیاکہ اس ملک میں کہ جسے ان کے پڑدادا نے بنایا تھا، کسی جگہ جناح کے پڑپوتے آئے ہوں اور جیتے جاگتے سامعین کے ساتھ اپنے خیالات اور جذبات کا تبادلہ کیا ہو۔
لیکن یہ صرف راج موہن گاندھی(اور ہربنس مکھیاجیسے بلندقامت ہندوستانی عالم) ہی نہیں تھے، جنہوں نے اس موقع کو اہم بنادیا۔ کتاب اور اس کے مواد پر ہونے والی بات چیت ہوئی۔اس کے ادبی اور تعلیمی فوائد کے علاوہ، راج موہن گاندھی کی کتاب اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ پنجاب کی زیادہ تواریخ نہیں تحریر کی گئی ہیں۔ سید محمد لطیف کی تاریخِ پنجاب، شاید یورپی طرزِ تاریخ نویسی کے مطابق پنجاب پرلکھی گئی پہلی کتاب ہے۔ دیگر مصنفین جیسے کنہیا لال، مفتی غلام سرور قادری اور نور احمد چشتی نے جدید تاریخ نویسی کے اصولوں کی پیروی کئے بغیر پنجاب کی تاریخ کے بہت زیادہ مفیداور انفرادی واقعات پرلکھا۔ 1947ء تک پنجاب پر کیا گیا تعلیمی کام، اپنے اندر کئی خلاء رکھتا ہے اور عمومی طور پرمختلف نظریات پرمرکوز ہے۔
پاکستان کے معاملے میں، بعض مقامات پرپنجاب یا پنجابی ادب کے متعلق لکھنا، زیادہ تر ریاست کے خلاف مزاحمت کا ایک عمل تھا کیونکہ ریاست، پنجاب کی شناخت کو اسلام اور اردو کے گرد بنی ہوئی عظیم تر پاکستانی شناخت میں شامل کر دینا چاہتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں صرف شفقت تنویر مرزا جیسے چند ایک مصنفین نے ، جو اکثر قدرے انقلابی نقطہء نظر رکھتے ہیں، پنجاب کی تاریخ کے متعلق لکھنا جاری رکھا۔ ہندوستانی پنجاب کے معاملے میں، تاریخ گروہی شناخت کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔مثلاًسکھوں میں یہ رویہ پروان چڑھتا گیا ہے کہ صرف سکھ مذہب اور معاشرے کی تاریخ کا کھوج لگایا جائے۔ خشونت سنگھ اور جے ایس گریوال کی کتابیں اس روئیے کی بہترین مثالیں ہیں۔ مشرقی پنجاب کے ہندو، ہندی کو اپنی مادری زبان کے طور پرشناخت کرتے ہوئے لسانی بنیادوں پراپنی انفرادی شناخت بنانے کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔اس کا نتیجہ ہندوستانی پنجاب کی تین گروہوں میں تقسیم کی صورت میں نکلاجہاں سے پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کی نئی ریاستیں تخلیق ہو گئیں۔
اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ پنجاب کی تاریخ سے متعلق حوالہ جاتی موادمختلف کتب خانوں اور آرکائیوز میں تقسیم نہیں کیا گیا۔ ہمیں لاہور، امرتسر، پٹیالہ، چندیگڑھ، امبالہ، دہلی اور لندن میں موجود مواد کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پنجاب کی جامع تاریخ کے متعلق کام کے ساتھ انصاف کیا جا سکے۔
کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر، ہربنس مکھیا نے پنجاب میں اسلام کی جانب لوگوں کے رجوع کرنے کے نظرئیے کے متعلق ایک دلچسپ بحث کا آغاز کیا۔ مکھیا نے نشاندہی کی کہ جنوبی ایشیاء مجموعی طور پردنیا میں موجودبڑی مسلمان آبادی کا گھر ہے۔اس آبادی کا بڑا حصہ شمال مغرب اور شمال مشرق میں آباد ہے۔جیسا کہ دوسرے مؤرخین نے بھی نشاندہی کی ہے، یہ علاقے طاقت کے مرکز سے دور تھے۔ طاقت کے مراکز بادشاہوں کے شہر تھے ، یعنی کہ شمالی ہندوستان اور دہلی۔مغلیہ طاقت کی شدت اور ان کے فوراً بعد سلطنتِ دہلی کے حکمرانوں کی طاقت کا ارتکاز، سرحدی علاقوں کی نسبت شمالی ہندوستان کے مرکزی علاقے میں بہت زیادہ تھا۔ تاہم، ہندوستان کے مرکزی علاقوں کی نسبت، سرحدی علاقوں میں لوگوں کے مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہونے کی شرح زیادہ تھی۔کوئی بھی شخص یہ دلیل دے سکتا ہے کہ شمال مغرب چاہے مرکزی علاقے سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم شمال مغرب کو نظرانداز شدہ یا غیر اہم کے معنوں میں سرحدی علاقہ سمجھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ ایک اہم تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جسے تاریخی طور پر ماوراء النہر کے علاقے سے آنے والے متعدد گُھڑ سواراستعمال کرتے رہے تھے۔شمال مغرب جنگی اور معاشی نقطہ نظر سے بھی قابلِ ذکر حد تک اہم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کچھ عرصہ کے لئے شاہی دارالحکومت بھی رہا اور مغل شہزادے اکثر اس علاقے میں گورنر تعینات کر کے بھیجے جاتے رہے۔
ہربنس مکھیا نے بجا طور پر یہ دلیل دی کہ اصطلاح ’تبدیلی‘ اچانک اور دھماکہ خیز کا معنی رکھتی ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے جیسا کہ گویا کوئی شخص عقائد کے ایک نظام سے مکمل طور پر دوسرے نظام میں منتقل ہوجاتا ہے۔اگرچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس قسم کی تبدیلیاں بھی ممکن ہیں لیکن ان کا اظہار بہت نایاب ہوتا ہے اوراس علاقے میں لاکھوں افراد کے اکٹھے مذہب تبدیل کرنے کے عمل کی کوئی تاریخی شہادت نہیں دیکھی جاسکتی۔ مُکھیا نے یہ نشاندہی بھی کی کہ تبدیلیِ مذہب کروانے کے لئے ریاست کی طاقت کا استعمال نہ ہونے کے برابر کیا گیا۔’’ بعض معاملات میں، جہاں تبدیلی مذہب کے لئے طاقت کا استعمال کیا گیا،‘‘ مکھیا نے کہا، ’’ یہ صرف اسی وقت ہوتا کہ جب حکمران، سزائے موت کے مستحق، ہندوؤں کے کسی سرکردہ شخص یا سردارکے کسی شدید باغیانہ عمل کے باوجود اسے معاف کرنا چاہتے۔ اس وقت قبولِ اسلام کو سزائے موت سے بچنے کے ایک نعم البدل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔تبدیلیِ مذہب کے عمل کے تدریجی ہونے پر بعد ازاں ڈاکٹر طارق رحمٰن نے بھی بات کی۔ انہوں نے رچرڈ ایٹن کے کام کا حوالہ دیا جس میں اس نے سیال کے سردارو ں کے ناموں کے متعلق بات کی ہے ۔ یہ سیال بعد ازاں پاکپتن کے پیروکار بن گئے۔ یہ تقریباً دو سو برس پہلے کی بات ہے کہ جب سے سیال کے سرداروں کے اسلامی نام تاریخی طور پر ریکارڈ کئے جا نے لگے تھے۔
میرے اندازے کے مطابق، تبدیلی کے عمل کا یہ ارتقاء انیسویں صدی کی اسلامی اصلاحی تحریکوں میں ایک اہم خیال کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس دور کی متعدداصلاحی تحریکوں میں بدعت یا مذہب میں اختراع کے نظرئیے پر زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ اصلاح پسند پادریوں نے بارباراس سچ کی دُہائی دی ہے کہ جیسا کہ مسلمان پہلے ہندو تھے تو انہوں نے بہت سے عقائد اور اطوار ہندوؤں سے وراثت میں لئے ہیں۔مثلاً، ایک دیوبندی عالم اپنے بہنوئی کی وفات پر تقریب کا اہتمام کرتا ہے تاکہ اس کے بعد وہ اپنی بیوہ بہن کی دوبارہ شادی کروا سکے۔ یہ طریقہء کار شمالی ہندوستان میں ایک رواج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب بہشتی زیور، بدت کے ایسے نظرئے کی ایک بہترین مثال ہے۔مولانانے شادی اور مرگ کے مواقع پرغیر اسلامی اطوار و رسوم کے متعلق سینکڑون صفحات لکھے ہیں۔ان تمام اصلاحی رجحانات کا بین السطور مرکزی خیال، تبدیلی کے عمل کی عدم تکمیلیت پر زور دینا ہے۔ اصلاح پسند پادری یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان۔۔۔اپنے ساتھی ہندو علماء کے ساتھ صدیوں تک اکٹھے رہے ہیں ۔۔۔ انہیں ابھی اپنے پچھلے عقائد کے نظام سے باہر نکلنا اور ’باقاعدہ‘ مسلمان بننا ہے جو وہ صرف اسی وقت بن سکتے ہیں کہ جب وہ اپنے آپ کو مقامی ثقافتی طریقوں سے الگ کر لیں گے اور عرب کا سچا اور مستند اسلام قبول کر لیں گے۔
اب میں ایک شگفتہ بات پر اس مضمون کا اختتام کروں گا۔ یہ بات ، لمز میں ہونے والی محفل کے اختتام پر سامعین میں سے ایک شخص نے کہی۔ وہ خود میرے پاس آیا اور اپنا یہ نظریہ بیان کیا کہ بڑے اور چھوٹے گوشت کی قیمتوں میں موجود فرق، شاید تبدیلی کے عمل کے اس تسلسل کا عکاس ہے۔اس نے کہا کہ جو لوگ گوشت خرید سکتے ہیں، ان کی ایک بڑی تعداد، ترجیحاً چھوٹا گوشت کھاتی ہے کیونکہ بڑا گوشت صحت کے لئے اچھا نہیں ہوتا۔ حالانکہ، پاکستانی انتہائی غیر صحتمندانہ غذائی عادات رکھتے ہیں (گریس میں بہت زیادہ پکے ہوئے کھانے، کھانے کے غلط اوقات، خوراک میں فائبر، پھلوں اور سبز سبزیوں کی کمی وغیرہ)، اس لئے یہ بہت زیادہ غیر متوقع ہے کہ بڑے گوشت کے لئے یہ شدید ناپسندیدگی صرف ’صحت کی خاطر‘ ہو۔ اگرچہ میں ایک خاص حد تک اس سے متفق ہوں، مگر اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ بڑا گوشت کھانا شروع کرنا تبدیلی کے عمل کو مکمل کر دے گا یا یہ کہ بڑا گوشت کھانا ایک ’باقاعدہ مسلمان‘ بننے کی اولین شرط ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *