یوکرین میں فوجی کارروائی روس کومہنگی پڑے گی: اوباما

Barack Obamaامریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایک عوامی بغاوت کے نتیجے میں یوکرین کے روسی نواز صدر کی معزولی کے بعد اس ملک میں اپنی افواج داخل کرنے سے روس تاریخ کے غلط رُخ پر کھڑا ہے۔
اوباما نے پیر کے روز اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکا روس کو سیاسی اور اقتصادی طور پر الگ تھلگ کردینے کے آپشن پر غور کررہا ہے۔امریکی صدر نے کانگریس سے یوکرین کے لیے امدادی پیکیج پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کے لیے کہا ہے۔
اوباما نے کہا کہ یوکرین میں فوجی کارروائی روس کے لیے ایک مہنگا سودا بن جائے گا۔
یوکرین کی نئی مغرب نواز حکومت نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جزیرہ نما کریمیا میں یوکرین کی سرزمین پر اپنے فوجیں اتار کر اس کی خودمختاری میں مداخلت کی ہے۔
لیکن روس نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر وکٹر یانوکووچ کے خلاف بغاوت سے پیدا ہونے والی افراتفری میں یوکرین میں روسی نسل کے لوگوں کے تحفظ کے لیے اس کو مجبوراً ایسا کرنا پڑا۔
مغربی طاقتیں بھی اس مداخلت پر روس کو سزا دینے کے لیے پابندی پر غور کررہی ہیں۔
اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے اپنی روزانہ کی بریفنگ میں کہا تھا کہ اگر کریمیا میں یوکرین کی فوج کو روس کی جانب سے حملے کی دھمکی کی اطلاعات درست ثابت ہوجاتی ہیں، تو ابتر صورتحال میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجائے گا۔
امریکی صدر بارک اوباما کے انتباہ کو نظرانداز کرتے ہوئے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ہفتہ کے روز اپنی پارلیمنٹ سے یوکرین میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت حاصل کرلی تھی۔
پیوٹن کو پارلیمنٹ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد روسی افواج نے پہلے ہی کریمیا کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ کریمیا بحرِ اسود میں ایک الگ تھلگ جزیرہ نما ہے، جہاں روسی نسل کے لوگوں کی اکثریت آباد ہے، اور جہاں طویل عرصے سے ماسکو کا بحری اڈا موجود ہے۔
امریکا کے وزیرخارجہ جان کیری جنہوں نے منگل کو یکجہتی کے اظہار کے لیے یوکرین کے دارالحکومت کیف کا دورہ کیا تھا،اتوار کو عوامی سطح پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا امکان ظاہر کیا تھا، مثلاً اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہیں اور روسی افراد پر ویزہ کی پابندی لگ سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بحرِ اسود میں روس کے بیڑے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ منگل کی صبح تک یوکرین نے ہتھیار نہیں ڈالے تو اسے حملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیٔے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *