کورونا وائرس: بلوچستان کا وہ علاقہ جہاں قرنطینہ مراکز تو ہیں لیکن کوئی مریض نہیں

عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران میں اپنے آبائی شہر ژوب گیا، جہاں عید کے فوراً بعد مجھے بخار ہونے لگا۔ چار دن مسلسل بخار کے بعد پانچویں دن گلے کا درد شروع ہوا، اور وہ بھی ایسا جو میری زندگی میں مجھے یاد نہیں۔

اس سے پہلے میرے والدین اور گھر کے لگ بھگ سارے افراد ہی بخار، کھانسی اور زکام سے متاثر ہوئے تھے۔ مجھے پہلے ہی دن سے شک تھا کہ یہ کورونا ہے لیکن ژوب شہر میں ایک دو ڈاکٹرز کے ساتھ بات کی تو کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ یہ کورونا ہے۔

سب نے ’موسمی فلو‘ کا نام دے کر مجھے آرام اور معمول کی دوائیاں تجویز کیں۔

میں نے کوشش کی کہ اس دوران گھر کے افراد کے علاوہ کسی سے نہ ملوں اور گھر سے باہر ہی نہ نکلوں لیکن گھر پر جوائنٹ فیملی کے ہوتے ہوئے خود ساختہ تنہائی میں اس لیے بھی نہیں گیا کیونکہ مجھ سے پہلے میرے ایک بھائی، والدین اور کچھ بچے پہلے ہی اس بیماری میں مبتلا تھے یا پھر صحت یاب ہو چکے تھے۔

گھر سے لے کر شہر کے ڈاکٹرز اور رشتہ داروں سے لے کر دوستوں تک کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ یہ کورونا ہے۔ میری بات کے جواب میں فوراً کہتے ’مجھے بھی کئی دن سے ایسی ہی علامات ہیں۔‘

شہر کا ہر دوسرا شخص جس سے میری بات ہوئی یا تو وہ اس مرض میں مبتلا تھا یا پھر حال ہی میں صحت یاب ہوچکا تھا لیکن جب بات کورونا کے ایس او پیز یا احتیاطی تدابیر کی آتی تو میں ںے پورے شہر میں ایک بھی شخص کو ماسک پہنے نہیں دیکھا۔

شہر کے کئی ڈاکٹرز کے بارے میں معلومات تھیں جو نجی کلینکس میں مریضوں کا علاج کرتے وقت بھی ماسک نہیں پہن رہے تھے۔ عید کے دنوں میں پہلے کی طرح مبارک بادیں، ایک دوسرے کے ساتھ ملنا اور کھانوں میں شرکت کرتے رہے۔

ایک ڈاکٹر دوست کے مطابق پورے شہر میں رمضان کے مہینے سے یہ زکام، بخار اور کھانسی کی بیماری ہے، جو معمول کی دوائیوں سے ٹھیک ہو جاتی ہے اور بقول ان ڈاکٹر کے، اگر یہ کورونا ہوتا تو عام دوائی اسے کیسے ٹھیک کرتی؟

بیمار ہونے سے ایک دن پہلے کسی کام کے سلسلے میں باہر گیا اور ایک دوست سے ملا۔ دوست سے تو خیر ہاتھ نہیں ملایا لیکن کچھ دیر کے بعد ایک بزرگ وہاں آئے۔ وہ میرے دوست سے گلے ملے اور جوں ہی میری طرف آئے تو میں اُن کے لیے احتراماً کھڑا ہوا لیکن ہاتھ ملانے سے معذرت کی۔

اُن بزرگ نے مجھے ایسی نفرت سے دیکھا جیسے میں نے ان سے کوئی انتہائی بری بات کہہ دی ہو۔

ایک دو جگہ تو یہ باتیں بھی سننے کو ملیں کہ یہ اسلام آباد والے جان بوجھ کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ تو بڑے لوگ ہیں اور اُنھیں ہم سے زیادہ اپنی صحت کی فکر ہے یا بقول اُن کے ’ڈرتے ہیں۔‘

ضلعے بھر میں کورونا کی وبا کے بعد کچھ قرنطینہ مراکز قائم کردیے گئے تھے لیکن ان مراکز میں آج تک ایک بھی شخص داخل نہیں ہوا۔

ژوب

شہر کے ایک مشہور ڈاکٹر سے فون پر دریافت کیا کہ کورونا جیسی علامات کے ساتھ روزانہ کتنے مریض آتے ہیں؟

تو جواب ملا ’ہر تیسرا شخص بخار، زکام اور کھانسی کی علامات کے ساتھ علاج کے لیے آتا ہے لیکن ہم نے نہ ٹیسٹ کیے ہیں اور نہ ہی اُنھیں خود ساختہ تنہائی میں جانے کا کہا ہے۔‘

تاہم سرکاری سطح پر حکام اس سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کورونا علامات کے ساتھ تمام مریضوں کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔

ژوب اور آس پاس شہروں میں ایک عام تاثر یہ تھا کہ کووڈ 19 بیماری میں سانس کی بندش یا سانس لینے میں دشواری بڑی علامت ہے اور اکثر یہ کہہ کر اپنے آپ اور دوسروں کو مطمئن کرتے تھے کہ چونکہ سانس لینے میں دشواری نہیں تو یہ کورونا بھی نہیں۔

کورونا کی وبا کے بعد وہاں صرف ایک تبدیلی تھی کہ ہر روز کم از کم دو جنازوں کا اعلان سنتا۔ (ژوب اور بلوچستان کے اکثر دوسرے شہروں میں جنازے کا اعلان مساجد کے ساتھ ساتھ گاڑی میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے)۔

جو لوگ مررہے تھے اُن میں سے اکثر میں کورونا جیسی علامات تھیں لیکن ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے نہ اُنھیں پتہ چلا کہ کورونا ہے یا نہیں اور نہ ہی اُن کے گھر والوں کو یہ پتا چلا کہ ان کی موت کورونا سے ہوئی ہے۔

دس دن کے دوران ژوب اور دوسرے شہروں میں کم از کم پانچ جاننے والے انھی شکایات کے ساتھ انتقال کر گئے لیکن اُن کی نماز جنازہ سے لے کر فاتحہ خوانی تک سب کچھ پہلے جیسے رہا اور کسی نے بھی کورونا وبا کے ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا۔ سب نے بس اس پر اتفاق کیا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔

میں نے ارادہ کر رکھا تھا کہ صحت یابی کے بعد اینٹی باڈیز ٹیسٹ ضرور کرواؤں گا اور جب میں نے ٹیسٹ کروایا تو بتایا گیا کہ میرے خون میں کورونا کی اینٹی باڈیز ہیں جس کا مطلب ہے کہ میں کورونا سے صحت یاب ہو چکا ہوں۔

یہ صرف ژوب شہر کی بات نہیں بلکہ کوئٹہ شہر کے علاوہ بلوچستان کے تمام دور افتادہ علاقوں کی تصویر کچھ ایسی ہی ہے اور لوگ اس بات کے ساتھ مر رہے ہیں کہ ’یہاں کورونا نہیں۔‘

ڈیکسامیتھازون کا استعمال

کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد کے ایک ڈاکٹر گذشتہ 10 سال سے وہاں ایک کلینک کر رہے ہیں۔ جس دن یہ خبر آئی کہ کووڈ 19 کے شدید بیمار لوگوں کی جان ڈیکسامیتھازون دوا سے بچ سکتی ہے تو اُسی دن ایک ڈاکٹر سے فون پر بات ہو رہی تھی۔

اس ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ گذشتہ 10 سال سے ڈیکسامیتھازون انجیکشن کا استعمال بکثرت کرتے ہیں جو اُن کے مطابق ہر بیماری میں حوصلہ افزا نتائج دیتا ہے۔

’شدید نزلہ، زکام اور کھانسی میں ایک یا آدھا سی سی ڈیکسامیتھازون انجکشن لگاتے ہیں یا پھر دوسرے انجیکشنز کے ساتھ مکس کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ ماہرین صحت کے مطابق ڈیکسامیتھازون ایک سٹیرائیڈ ہے جس کے منفی اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *