آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی بصیرت( 5)

"احمد علی کورار"

پچھلے کالم میں بات ہو رہی تھی کہ مسلم لیڈرشپ جو بڑی visionary لیڈرشپ تھی ایک وفد(معروف شملہ وفد) کی صورت میں جب گورنر جنرل منٹو سے ملنے گئی تو اس نے گونر جنرل کو جو مطالبات پیش کیے وہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور انہی مطالبات نےمسلمز آف انڈیا کے لیے سیاسی راہ ہموار کی۔
ان Demands میں جو بھی نکات رکھےگئے آگے چل کر ان کو کسی حد تک برٹش نے تسلیم بھی کیا۔
ریاست کے کتنے ستون ہیں؟
آج ہم میڈیا بھی شامل کرتے ہیں لیکن ایک پولیٹکل سائنس کے context میں تین ہیں۔
1.Executive 2.Legislature 3.Judiciary
شملہ وفد نے ان تین ستنوں کو اپنی demands میں رکھا۔
یاد رکھیں پہلے ایگزیکٹیو کونسل میں کوئی انڈین ممبر نہیں تھا سارے کے سارے برٹش تھے لیکن شملہ وفد نے یہ مطالبہ کیا کہ ایگزیکٹو کونسل میں انڈین مسلم ممبر ہونا چاہیے۔کتنے ہونے چاہیے یہ واضح نہیں کیا گیا کیونکہ مسلم لیڈرشپ foresee کر رہی تھی کہ اگر ہم Limited تعداد کا مطالبہ کر دیں تو آگے چل کر ایگزیکٹو کونسل کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
دوسرا اہم نکتہ انہوں نے Judiciary کا رکھا کہ مسلم ججز کا کوٹہ رکھا جائے۔
ایسا نہیں ہے کہ مسلمز ججز نہیں تھے مسلمز ججز تھے سر امام علی سید امیر علی لیکن انھیں برٹش نامزد کرتی تھی اب یہاں مسلم کوٹہ کی بات ہو رہی ہے آخر کیوں کوٹہ کا کہا جا رہا ہے۔کیونکہ اس وقت ججز اپنے Law کے مطابق فیصلہ دیتے فیصلے مسلم sentiments سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
اس وجہ سے انہوں مسلم کوٹہ کا مطالبہ کیا۔
اگلا نکتہ تھا Legislature اصل نکتہ تو یہی تھا جس سے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کسی طرح سے پورے ہونے تھے۔
اس نکتہ میں کہا گیا کہ آبادی سے زیادہ سیٹس مختص کی جائیں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے 25 24 فیصد ۔
ساتھ میں مسلمانوں کے لیے گزیٹڈ نوکریوں کا بھی مطالبہ کیا گیا مسلمانوں کی ایک علیحدہ یونیورسٹی ہو یہ بھی مطالبہ کیاگیا1890 کے دور میں بنارس میں ہندو یونیورسٹی بن گئی تھی اگر بن گئی تھی اس سے مسلمانوں کو مسئلہ نہیں تھا. مسئلہ یہ تھا آج تو یونیورسٹیز ڈگریوں کی بندر بانٹ کا نام ہے یونیورسٹی کی اصل روح Production of knowledge ہے۔ہندو یونیورسٹی سے جس طرح ہندووں کی ثقافت اور زبان کو تحفظ دیا جار ہا ہے اگر ہمارے علی گڑھ کو بھی یونیوسٹی کا درجہ دیا جائے اس سے ہمارا کلچر اور زبان کو فروغ اور تحفظ مل سکتا ہے تو اس میں مضائقہ کیا ہے۔
یہ تمام نکات اپنی جگہ لیکن ایک پوائنٹ نے برٹش کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور سر آغا خان اور لندن میں بیٹھے سید امیر علی نے برٹش کے اذہان میں یہ بات ڈالی کہ کسی بھی طرح ایسا کریں ورنہ مسلمانوں کا تو کوئی سیاسی مستقبل نہیں ۔
وہ Demandکیا تھی۔
وہ Demand تھی جدا گانہ انتخابات۔
ایسا بھی نہیں تھا یہ برٹش کے لیے کوئی نئی چیز تھی۔
اگر ہم جنوبی افریقہ کی بوئیر وار پڑھیں تو بوائیر وار کے بعد یہی جداگانہ انتخابات جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں exercise ہوتے رہے تو برٹش کے لیے یہ کوئی نئی چیز نہ تھی تو یہاں انڈیا میں ایسا کرنے میں کیا مسئلہ ہے۔ لیکن مسئلہ ہے جنوبی افریقہ میں اگر جداگانہ انتخابات لایا گیا تھا تو یہ race کی بنیاد پر لایا گیا تھا۔لیکن یہاں تو مذہب کی بنیاد پر اس چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مسلمز کے لیے علیحدہ انتخابات۔ اگر مذہب کی بنیاد پر ایسا کیا گیا تو ہندوستان میں تو Communalism شروع ہو جائے گا۔Communal politics شروع ہو جائے گی۔
لیکن برٹش کو یہ باور کرانا بڑا مشکل تھا کہ یہاں مذہب کی بنیاد پر اس چیز کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ایک مسلم کمیونٹی اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے اس چیز کو سامنے لا رہی ہے۔
1907میں لندن برانچ آف مسلم لیگ بھی بنی جس کے صدر سید امیر علی بنے اور ہندوستان میں جو مسلم لیگ تھی اس کے صدر آغا خان تھے۔
مسلم لیگ پہ یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ برٹش کی وفا دار تھی جناب جب آپ minority میں ہوں تو ruler کو وفاداری تو show کریں گے نا تاکہ آپ کے زیادہ سے زیادہ سیاسی حقوق ensure ہو سکیں۔
کوئی ایمان تو نہیں بیچ رہے۔ سیاست ہے اس میں وفاداری تو potray کریں گے نا۔مسلم لیگ لندن میں بھی قائم ہوئی
مسلم لیگ لندن برانچ کے پہلے صدر بنے سید امیر علی۔سید امیر علی بڑا نام ہے سید امیر علی privy council کو chair کرتے تھے۔یاد رکھیں ہندوستان میں کوئی سپریم کورٹ نہیں تھی صوبوں میں ہائی کورٹس کے بعد privy council بڑے معاملات کو دیکھتی تھی۔
سید امیر علی نے سیکریٹری آف اسٹیٹ اور برٹش پارلیمنٹ کو قائل کیا کیونکہ وہ بڑی اہم شخصیت تھی۔اب وہ جو کہیں گے برٹش تو مانے گی۔
1907سے 1909 تک ان کی جدو جہد جاری رہی۔اب یہ جو فیز ہے اس میں کانگریس خاموشی سے تو نہیں بیٹھی یہ سب کچھ رات کی تاریکی میں تو نہیں ہو رہاتھا۔1907 سے 1909 تک سوٙ دیشی موومنٹ میں مزید شدت آگئی کیونکہ کانگریس جانتی تھی سید امیر علی جب بولے گا تو وہ برٹش کو ضرور convince کرے گا۔لیکن اس دورانیے میں مسلم بڑے پر امن رہے۔6-1905 میں جب یہ ساری developments ہو رہی تھیں اس وقت انگلینڈ میں الیکشن بھی ہوئے اور اس الیکشن میں لبرل پارٹی جسے لیبر پارٹی بھی کہا جاتا ہے برسر اقتدار آئی اور جب بھی لبرل پارٹی حکومت میں آتی تھی وہ تمام کالونیز میں اچھا ریفارمز پیکج دیتی تھی اور اس مرتبہ بھی وہ اصلاحات متعارف کرنا چاہتی تھی اور ہندوستان میں بھی نئے گورنر جنرل لارڈ منٹو آچکے تھے اسی تناظر میں لبرل پارٹی نے 1909 میں منٹو مارلے اصلاحات متعارف کیں۔منٹو گورنر جنرل جبکہ مارلے سیکریٹری آف اسٹیٹ تھے۔ان اصلاحات کو انڈین کونسل ایکٹ 1909 بھی کہا جاتا ہے۔
ہندوستان میں اصل تبدیلی 1909 میں آئی ڈھانچہ وہی ہے گورنر جنرل کے نیچے ایگزیکٹیو کونسل پھر امپریل لیجسلیٹیو کونسل مگر بڑی معنی خیز تبدیلی آئی۔
اگر دیکھا جائے تو مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ کانگریس نےبھی ایک حساب سے برٹش کو پریشر میں رکھا تھا۔
انڈین ایکٹ 1909 کے ایکٹ کے مطابق بھی ایڈمنٹسٹریٹیو ہیڈ آف انڈیا گورنر جنرل اور اس کے نیچے ایگزیکٹیو کونسل۔
1892 میں ایگزیکٹیو ممبرز کی تعداد 5 تھی اور سارے کے سارے برٹش لیکن اس ایکٹ میں ایک کا اضافہ کیا گیا اور وہ انڈین ہو گا مسلمان ہو یا ہندو مگر انڈین ہو گا اب ایگزیکٹیو کونسل کے ممبرز کی تعداد 6 ہو گئی۔پہلے سال میں یعنی 1909 میں لارڈ سنہا جسے ایس پی سنہا بھی کہاجاتا ہے بڑے پڑھے لکھے آدمی تھے وہ ایگزیکٹیو کونسل کے ممبر بنے۔1910 میں سر امام علی ایگزیکٹیو کونسل کے ممبرز بنے تو مسلمانوں کی بھی نمائندگی آگئی۔مسلم لیگ بھی یہی چاہتی تھی اور کانگریس کا بھی یہی خیال تھا دونوں کی بات پوری ہوئی۔
لیکن برٹش نے جوڈیشری کا پوائنٹ نہیں مانا اور اس پوائنٹ کو برٹش نے کبھی بھی نہیں مانا۔ جوڈیشری اپنے ہاتھ میں رکھی اور انڈینز پارٹیز کی اس بات کو نظر انداز کرتی رہی۔
اب آتے ہی ایک اہم نکتہ کی طرف Legislature.
پہلے امپریل لیجسلیچر ایگزیکٹیو کونسل میں مل جاتا تھا لیکن اب کیا ہوا امپریل لیجسلیٹیو کو الگ کیا گیا اب یہ mix نہیں ہوں گے۔
پہلے یعنی 1892 کے ایکٹ میں کتنے لیجسلیٹیو کونسل کے کتنے ممبرز تھے 16 سے 20 اب اس ایکٹ میں کتنے ہوں گے 60 ممبرز تبدیلی تو ہے۔لیکن ان 60 میں سے مسلمز کتنے ہوں گے۔
طے یہ پایا کہ 27 elected ممبرز ہوں گے باقی 33 وہی برٹش لیکن ان 27 میں سے مسلمان کتنے ہوں گے چھ یہ تاریخ کا بہت بڑا سنگ میل ہے۔
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *