ایٹمی توانائی: کیا مستقبل چھوٹے چھوٹے جوہری پلانٹس کا ہے؟

امریکہ کی ریاست اوریگون کے شہر کورویلس میں نُوسکیل پاور نامی کمپنی کے انجینئر کھڑکیوں سے عاری کنٹرول روم میں بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے دیوار پر کئی کپمیوٹرسکرینز لگی ہوئی ہیں۔ ان انجینیئرز کو امید ہے کہ وہ جو تحقیق کر رہے ہیں وہ جوہری توانائی کے مستقبل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

سامنے سکرینوں پر ٹمٹماتے نشانات اصل میں اس جوہری توانائی کی نشاندھی کر رہے ہیں جو اس عمارت میں لگے ہوئے 12 چھوٹے چھوٹے نیوکلیئر ریئکٹرز پیدا کر رہے ہیں۔ کل ملا کر یہ بارہ ری ایکٹر اتنی بجلی پیدا کر سکیں گے جتنی امریکہ بھر میں کئی مقامات پر قائم جوہری توانائی کے پلانٹ پیدا کر رہے ہیں۔

ان میں سے ہر پلانٹ اتنی بجلی پیدا کر رہا ہے جو تقریباً پانچ لاکھ 54 ہزار گھروں کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہاں کمپنی کے کنٹرل روم میں لگی ہوئی سکرینوں پر دکھائی دینا والا کھجور کا ایک درخت بتاتا ہے کہ بارہ ریئکٹرز میں سے کون سا اس وقت ’آئی لینڈ موڈ‘ پر چل رہا ہے، یوں آپ ایمرجنسی کی صورت میں کسی بھی ریئکٹر کو بند کر سکتے ہیں۔

یہ کنٹرول روم حقیقت میں چیزوں کو کنٹرول نہیں کر رہا بلکہ یہ اس جوہری پلانٹ کی نقل ہے اور سکرینوں پر نظر آنے والے ریئکٹرز کا اصل میں کوئی وجود نہیں ہے۔ لیکن نُوسکیل نامی یہ کمپنی چھوٹے جوہری ریئٹرز یا ’سمال موڈیولر ریئکٹرز‘ (ایس ایم آر) کہلانے والی ٹیکنالوجی بنانے پر اب تک نو سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔

کمپنی کا خیال ہے کہ مستقبل میں جوہری توانائی کے پلانٹ اسی قسم کے ہوا کریں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسی رفتار سے کام کرتی رہی تو اگلے دو برسوں میں وہ 720 میگاواٹ کا ایک جوہری پلانٹ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی جسے بجلی سپلائی کرنے والی ایک کمپنی کے حوالے کر دیا جائے گا۔

امریکہ کا محکمۂ توانائی پہلے ہی نُوسکیل میں جاری تحقیق کے لیے 317 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ نُوسکیل وہ اکیلی کمپنی نہیں ہے جو چھوٹے جوہری پلانٹ بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔

جوہری توانائی
،تصویر کا کیپشنجوہری توانائی کے وکیل کہتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں کاربن کے اخراج کو مکمل ختم کرنے کا ہدف جوہری توانائی پر انحصار کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا

مثلاً روس کی حکومت نے 70 میگاواٹ توانائی پیدا کرنے والا ایک جوہری ریئکٹر بنایا ہے جو سمندر میں تیر رہا ہے۔ چین نے سنہ 2016 میں ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت وہ ایس یم آر ڈیزائن والا ایک پلانٹ بنا رہا تھا جو کہ سمندر میں ایک بحری جہاز کی طرح تیر رہا ہو گا۔ اسی طرح کینیڈا کے تین صوبوں نے بھی ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت چھوٹے چھوٹے جوہری پلانٹ بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کاریں بنانے والی کمپنی رولز رائس بھی برطانیہ میں 440 میگا واٹ کا ایک جوہری پلانٹ ایس ایم آر کی ہی طرز پر بنا رہی ہے۔

اس خیال کے حامی کہتے ہیں کہ موجودہ وقت ایس ایم آر کے لیے بہت موزوں ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر عالمی برادری یہ امید کرتی ہے کہ ہم اس صدی کے وسط تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں جوہری ٹیکنالوجی میں جدت لانا ہو گی۔ دوسرا یہ کہ روائتی جوہری پلانٹ میں بڑے مسائل کا سامنا کبھی بھی ہو سکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ بہت سے موجودہ پلانٹ پرانے ہو رہے ہیں اور اس قسم کے نئے پلانٹ لگانے میں تاخیر ہو جاتی ہے اور ایسے منصوبوں پر توقع سے کہیں زیادہ اخراجات کرنا پڑ جاتے ہیں۔ مثلاً ایک بڑے جوہری پلانٹ پردس ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوتے ہیں اور چھوٹے جوہری پلانٹ کے حامی یہ بھی کہتے ہیں کہ جوں جوں دوبارہ استعمال ہونے والی توانائی کی دستیابی میں اضافہ ہو رہا ہے، ہم ہوا اور سورج سے حاصل کی جانے والی توانائی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکتے ہیں اور اس کام کے لیے ایس ایم آر بہتر رہیں گے۔

ایس ایم آر قسم کے چھوٹے جوہری پلانٹ کو چلانا آسان بھی ہے اور آپ اسے زیادہ عرصے تر تک چلتا چھوڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب جوہری توانائی کے ناقدین کہتے ہیں کہ چھوٹے جوہری پلانٹس میں بھی ہمیں بیشتر اسی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو روائتی اور بڑے بڑے پلانٹس میں کرنا پڑتا ہے، جیسے حفاظتی اقدامات کا مسئلہ اور یہ کہ جوہری پلانٹ سے نکلنے والے اس ناکارہ مواد کو کیا ہو گا جس سے تابکاری کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے اور ابھی تک اس کا کوئی حتمی حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔

ان ناقدین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ چھوٹے جوہری پلانٹ سے حاصل کی جانے والی توانائی یا بجلی اتنی ہی مہنگی ہوتی ہے جتنا بڑے بڑے پلانٹس سے بنائی جانی والی بجلی اور اس کے لیے بھی بہت زیادہ حکومتی امداد درکار ہوتی ہے۔ ان کے بقول انشورنس کے اخراجات کی تو بات ہی نہ کریں۔

مثلاً نُوسکیل اپنے مستقبل کے ممکنہ خریداروں کو یہ خیالی پیشکش کر رہی ہے کہ وہ ان کا پہلا منصوبہ کامیاب بنانے کے لیے ساڑھے چھ سینٹ فی کلوواٹ لیا کرے گی۔ اگر آپ اس کا موازنہ لاس اینجلیس کے بجلی و پانی کے محکمے کی قیمتوں سے کریں تو یہ محکمہ دوبارہ استعمال میں لائے جانے والے وسائل (یعنی ہوا اور سورج) سے پیدا کی جانے والی بجلی دو سینٹ فی کلو واٹ کی قیمت پر فراہم کرنے کو تیار ہے۔

اس وقت امریکہ میں دو تہائی سے زیادہ جوہری پلانٹ ایسے ہوں جنہیں منافع نہیں ہو رہا یا وہ بند ہونے کے قریب ہیں۔

جہاں تک عالمی اعداد وشمار کا تعلق ہے تو 2015 میں صرف 10 اعشاریہ آٹھ فی صد بجلی جوہری پلانٹس سے پیدا کی جا رہی تھی جبکہ 1996 میں اس کا تناسب 17 اعشاریہ چھ تھا جو کہ ایک ریکارڈ تھا۔

پھر 2011 میں جاپان میں فوکوشیما کے پلانٹ سے پھیلنے والی تباہی کے بعد جرمنی نے اپنی جوہری صنعت مکمل بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جبکہ بلجیم، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی جیسے ممالک نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے موجودہ جوہری پلانٹس کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے بڑے پلانٹ نہیں لگائیں گے اور نہ ہی نئے جوہری پلانٹ تعمیر کریں گے۔

لیکن وہ کمپنیاں اور سائنسدان جو نئے ایس ایم آر بنا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایسے چھوٹے جوہری پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں جن میں وہ مسائل نہیں ہوں گے جو روایتی بڑے پلانٹ میں پیش آتے ہیں۔

ان سائنسدانوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ایس ایم آرکے زیادہ گرم ہو جانے کے امکانات کم ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان پلانٹس میں جو جوہری ایندھن یا مواد استعمال ہوگا اس کی مقدار بہت کم ہوگی۔ اس کے علاوہ ایس ایم آر میں استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی میں یہ امکان بھی کم ہوتا ہے کہ اس کا ٹھنڈا کرنے والا نظام یا کُولینٹ پمپ کام کرنا چھوڑ دے۔

جوہری توانائی
،تصویر کا کیپشنناقدین کا کہنا ہے کہ چھوٹے جوہری پلانٹ سے حاصل کی جانے والی توانائی یا بجلی بڑے بڑے پلانٹس سے بنائی جانی والی بجلی جتنی ہی مہنگی ہوتی ہے

مثلاً نُوسکیل کا کہنا ہے کہ روایتی جوہری پلانٹ کے مقابلے میں ان کے بنائے ہوئے ایس ایم آر میں ایسے پرزے کم ہوتے ہیں جوحرکت کرتے ہیں، جس سے اس بات کا خطرہ کم ہو جاتا ہے کہ کوئی پرزہ رک جائے گا اور اس سے حادثہ ہو جائے گا

اس کے علاوہ چھوٹے پلانٹس کو ایک بڑی فیکٹری میں بنانا اور وہاں سے دوسری جگہ لیجانا بھی آسان ہوگا، جس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ یہ پلانٹ ایسے دور دراز علاقوں میں بھی لگا سکتے ہیں جہاں بڑا جوہری پلانٹ لگانا درست نہیں ہوتا۔

روائتی جوہری ریئکٹر ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ ایس ایم آرعموماً 50 سے 300 میگا واٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔ ایس ایم آر کی وکالت کرنے والوں کے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان پلانٹس پر خرچ بہت کم آتا ہے، انھیں بہت کم وقت میں لگایا جا سکتا ہے اور ترقی پزیر ممالک میں ایسے پلانٹس کی مانگ زیادہ ہو رہی ہے۔

نُوسکیل کے شریک بانی اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر ھوزے ریس کہتے ہیں: ’ہم جتنا ممکن ہے اتنی محفوظ اور سادہ ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں۔‘

چھوٹے جوہری پلانٹ بنانے کا خیال نیا نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلا ایس ایم آر بنانے کی منظوری سنہ 1955 میں ہی دے دی گئی تھی۔

یہ پلانٹ ریاست منیسوٹا کے دریائے ایلک پر قائم کیا گیا تھا اور اس پر تخمینے سے 90 لاکھ 80 ہزار ڈالر زیادہ لاگت آئی تھی۔ یہ پلانٹ صرف ساڑھے تین سال تک چلا تھا جس کے بعد اس کے کُولنگ سسٹم میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ اس کے بعد صرف اتنا ہوا ہے کہ نجی شعبے میں لگائے جانے والے پلانٹس کا سائز بڑھا دیا گیا ہے۔

سنہ 2000 میں محکمۂ توانائی نے، دیگر اداروں کے علاوہ، اوریگون سٹیٹ یونیورسٹی کو بھی ایک تحقیق کے لیے مالی امداد دی تھی جس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کم وزنی پانی سے چلنے والا ریئکٹر کام کر سکتا ہے یا نہیں۔

سنہ 2007 نے یونیورسٹی نے ایس ایم آر کو نمونہ بنانے کے جملہ حقوق نُوسکیل کو دے دیے اور کمپنی کو اپنا تحقیقی مرکز استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی۔ 2011 میں ایک بین الاقوامی تنظیم نے نُوسکیل میں سرمایہ کاری کی۔ اور پھر 2018 میں امریکہ کے نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن نے نُوسکیل کے ایس ایم آر کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی۔

اب تک نُوسکیل کو اپنے 529 جملہ حقوق (پیٹینٹ) مل چکے ہیں یا ملنے والے ہیں اور اب کمپنی کے ہاں چار سو ملازمین کام کر رہے ہیں۔

مختلف کمپنیاں جو ایس ایم آر بنانے کی کوشش کر ہی ہیں ان میں بڑے بڑے جوہری پلانٹ کا حجم کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ نئے چھوٹے پلانٹ کم ایندھن سے چل سکیں۔ نُوسکیل کے ریئکٹر کی بلندی صرف 76 فٹ ہو گی۔ اگرچہ کمپنی ہر مقام پر صرف بارہ بارہ ریئکٹر ہی لگائے گی، لیکن ان ریئکٹرز کا حجم اتنا کم ہے کہ ایک روایتی جوہری ریئکٹر جتنی جگہ پر ایسے 125 سے زیادہ چھوٹے ریئکٹر سما سکتے ہیں۔

نُوسکیل کے نظام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ہر چیز جُڑی ہوئی ہے، یعنی ایندھن، بھاپ اور جنریٹر ایک ہی سلنڈر میں ہوتے ہیں۔ مسٹر ھوزے ریس کہتے ہیں ’اس کا فائدہ یہ ہے کہ حادثے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں ایسی نالیوں یا پائپوں کی تعداد کم ہوتی ہے جو ٹوٹ سکتے ہیں۔‘

اگر روایتی جوہری پلانٹ کو ٹھنڈا کرنے والا پانی ختم ہو جاتا ہے تو اس میں فِشن یا جوہری توڑ پھوڑ کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک پلانٹ پھٹ نہ جائے۔

سنہ 1986 میں یوکرین میں چرنوبل کے جوہری پلانٹ پر یہی ہوا تھا۔ حتیٰ کہ اگر آپ جب ریئکٹر کو آف بھی کردیں تو اس کے اندر جاری توڑ پھوڑ سے پیدا ہونے والا تابکارمواد پگھل کر ارد گرد پھیل سکتا ہے۔ فوکوشیما کے جوہری حادثے میں یہی ہوا تھا جب سونامی کی وجہ سے جنریٹر میں لگا ہوا پمپ بند ہو گیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ نُوسکیل کے انجینئرز نے ریئکٹر ویسل کے منہ پر بھی ایک والوو لگایا ہے جو اس وقت کھل جاتا ہے جب بجلی آنا بند ہو جاتی ہے اور یوں اس کے اندر جمع بھاپ سلینڈر میں چلی جاتی ہے جہاں یہ مائع بن جاتی ہے اور یوں ریئکٹر کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ ریس کہتے ہیں کہ 'جب پمپوں پر آپ کا انحصار ختم ہو جاتا ہے تو بری ترین صورت حال میں بھی ریئکٹر خود بخود بند ہو جائے گا اور بہت دیرتک ٹھنڈا رہے گا۔ تجارتی بنیادوں پر بنائے جانے والے ریئکٹرز میں ایسا پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہے۔'

مغربی امریکہ کی چھ ریاستوں میں بجلی مہیا کرنے والی کپمنی 'یوٹا میونسپل پاور سسٹم' نے سنہ 2015 میں نُوسکیل کے ساتھ اتفاق کیا تھا کہ وہ نُوسکیل کو اس کا پہلا جوہری ریئکٹر تعمیر کرنے میں مدد کرے گی۔ اس کے لیے کمپنی نے محکمۂ توانائی کے تعاون سے ریاست ایڈاہاؤ میں ایک بڑی آبشار کے قریب ایک مقام کا انتخاب بھی کیا تھا۔

اس حوالے سے نُوسکیل کے اعلیٰ عہدیدار روس سنگرڈ کا کہنا تھا ’یہ تمام عمل بہت طویل، تھکا دینے والا اور نہایت مہنگا ہوتا ہے۔ اس ڈیزائن کو منظور کرانے کے لیے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر درکار ہیں۔‘

اس کے باوجود مسٹر ریس کہتے ہیں کہ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ یہ ریئکٹر2027 تک کام شروع کر دے۔

رولز روئس
،تصویر کا کیپشنبرطانوی ملٹی نیشنل انجینئرنگ کمپنی رولز روئس پرانے پاور پلانٹس کی جگہ پر چھوٹے جوہری ری ایکٹر تیار کرنے کا کام کرتی ہے

ادھر برطانیہ میں ڈاربی کے مقام پر رولز رائس بھی ایک ایس ایم آر پر کام کر رہی ہے جس سے 440 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا ڈیزائن ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس ریئکٹر کو چالو ہونے میں دس برس کا طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔ اب تک برطانوی حکومت رولز رائس کو اس کام کے لیے 24 ملین ڈالر دے چکی ہے جبکہ کمپنی نے مزید 260 ملین ڈالر کی درخواست کی ہے۔

مالی اور قانونی رکاوٹوں کے باوجود، نُوسکیل اور رولز رائس دونوں کو امید ہے کہ چھوٹے جوہری پلانٹس کی مارکیٹ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔

افریقہ اورجنوبی امریکہ کے ممالک کے علاوہ، ان کمپنیوں کو امید ہے کہ ایس ایم آر امیر ممالک کے لیے بھی اچھے ثابت ہوں گے کیونکہ یہ ممالک ایسے ریئکٹراپنے ہاں نئے مقامات پر لگا سکتے ہیں۔ مثلاً کینیڈا نے حال ہی میں ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ ان دور دراز علاقوں میں چھوٹے جوہری پلانٹ لگانے کی خواہش رکھتا ہے جہاں اس وقت ڈیزل سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔

ایس ایم آر کا ایک اور استعمال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے بجلی پیدا کرنے کی بجائے ایسے جدید ترین ریئکٹر بنائے جائیں جن سے ہائیڈروجن پیدا کر کے اسے بطور ایندھن استعمال کیا جائے یا ان ریئکٹرز سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنایا جائے۔

نُوسکیل کا کہنا ہے کہ پانی سے نمک نکالنے کا عمل ایک اچھا کاروبار ہو سکتا ہے کیونکہ اس وقت ہمیں اس کام پر بہت زیادہ بجلی خرچ پڑتی ہے جو کہ خاصی مہنگی ہے۔

لیکن ایس ایم آر کے مخالفین اس بات پر قائم ہیں کہ جوہری ریئکٹرز کا سائز کم کر لینے سے اس کی قیمت اور خطرات کم نہیں ہوں گے۔

ناقدین کے مطابق اگر آپ بڑے پیمانے پر ایسے جوہری پلانٹ بنا کر بچت بھی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک ہی سائز کے ایس ایم آر بنانے پر اتفاق کرنا پڑے گا کیونکہ اس وقت درجنوں مختلف حجم کے ریئکٹر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں ایس ایم آر بڑے پیمانے پر بنانے پڑیں گے، لیکن بہت سے سرمایہ کاروں اس ٹیکنالوجی میں پیسہ لگانے پر رضامند نہیں ہیں۔ جوہری توانائی پر تحقیق کرنے والے ایک مرکز کے سربراہ اینڈریو سٹورر کہتے ہیں ’جہاں تک سپلائی چین کا تعلق ہے، ہم ابھی تک لوگوں کو یہی مشورہ دے رہیں کہ وہ ابھی اس شعبے میں سرمایہ نہ لگائیں۔‘

جوہری ریی ایکٹرز
،تصویر کا کیپشنایس ایم آر کے مخالفین اس بات پر قائم ہیں کہ جوہری ریی ایکٹرز کا سائز کم کر لینے سے اس کی قیمت اور خطرات کم نہیں ہوں گے

اس حوالے سے حال میں منظرعام پر آنے والی خبروں سے اس بے یقینی کو تقویت ملی ہے۔ ویسٹنگ ہاؤس نامی کمپنی نے ایک ایس ایم آر پردس برس تک کام کرنے کے بعد یہ کام چھوڑ دیا ہے۔

اسی طرح 111 ملین ڈالر کی حکومتی امداد کے باوجود جوہری ٹیکنالوجی بنانے والی کپمنی ٹرانس اٹامک پاور نے بھی سنہ 2018 میں یہ کام ٹھپ کر دیا تھا۔ اگرچہ روس نے سرکاری امداد سے بنایا جانے والا ایس ایم آر سمندر میں اتار دیا ہے لیکن اس کی تعمیر پر بھی اندازے سے چار گنا زیادہ لاگت آئی اور اس سے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمت امریکہ میں بجلی کی حالیہ قیمت سے چار گنا زیادہ ہو گی۔

جوہری توانائی پر ہر بحت کی تان اسی بات پر ٹوٹتی ہے کہ تابکار فضلے اور حفاظتی اقدامات کا کیا ہو گا۔ ابھی تک کسی ملک کے پاس ایسا انتظام موجود نہیں ہے جس کے تحت تابکار مواد کو ہمیشہ کے لیے کہیں دفن کیا جا سکے جبکہ ایس ایم آر میں لگائے جانے والے واٹر ریئکٹر سے بھی نہایت تابکار مواد بہرحال پیدا ہو گا۔

امریکہ سنہ 1982 سے کسی ایسے مقام کی تلاش میں ہے جہاں جوہری فضلے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا جا سکے، اور اس عرصے میں امریکہ میں پیدا ہونے والے جوہری فضلے کا 70 فیصد مختلف مقامات پر بنائے گئے کُولنگ پُولز میں پڑا ہوا ہے۔ یہ مراکز پرانے ہوتے جا رہے ہیں اور یہاں بھی گنجائش سے زیادہ مقدار میں مواد رکھا ہوا ہے۔

چونکہ نُوسکیل کو امید ہے کہ جو ایس ایم آر وہ بنا رہی ہے وہ برطانیہ اور امریکہ کے ان بجلی گھروں کی جگہ لگائے جائیں گے جہاں فی الحال کوئلے سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، اس لیے نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن مطلوبہ حفاظتی اقدامات میں نرمی کا سوچ رہا ہے۔

نُوسکیل کا کہنا ہے کہ چونکہ اس کے جوہری ریئکٹر میں جوہری مواد کی مقداربہت کم ہو گی اس لیے بڑے روائتی پلانٹ کے مقابلے میں ایس ایم آر بہت کم خطرناک ہو گا اور اس کے لیے حفاظتی عملے کی ضرورت بھی کم ہو گی۔

اس حوالے سے کمپنی کو جوہری ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حتیٰ کہ سائنسدانوں کی تنظیم 'یونین آف کنسرنڈ سائنٹِسٹس' جو عموما جوہری تو انائی کی حمایت کرتی رہی ہے، اس نے بھی کہا کہ ’اگر این آر سی کسی بھی سائز کے لیے اپنی شرائط اور معیار میں نرمی کرتا ہے تو یہ غیرذمہ داری ہو گی۔‘

ایک بات جس پر لگتا ہے کہ سب کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں کاربن سے پاک توانائی کا کوئی طریقہ جلد از جلد اپنانا چاہیے۔

جوہری توانائی کے حامی کہتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں کاربن کے اخراج کو مکمل ختم کرنے کا ہدف جوہری توانائی پر انحصار کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن توانائی کے پالیسی ساز حلقوں میں سب اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور وہ اس موقف کو سچ پر مبنی نہیں سمجھتے۔

پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ ہوا اور سورج سے حاصل کی جانے والی توانائی کا دائرہ اندازوں سے زیادہ تیزی سے پھیلا ہے اور جوں جوں ان ذرائع سے حاصل کی جانے والی توانائی کو سٹور کرنے کے طریقے بہتر ہو رہے ہیں، اس قسم کی توانائی سے امید بڑھتی جا رہی ہے۔

نیوکلیئر کمیشن کے سابق رکن پیٹر بریڈفورڈ کے بقول اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ کم کاربن خارج کرنے والے طریقوں میں مقابلہ بازی ہے، تاکہ دیکھا جا سکے کہ کم سے کم قیمت میں کاربن میں کمی کا مفید ترین طریقہ کون سا ہے۔ جب تک نئی تحقیق ہمیں ایسے متناسب بدل دیتی رہتی ہے جس کا وہ وعدہ کرتی ہے، تو اس وقت تک مجھے اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ حکومت توانائی کی جدید ٹیکنالوجی کے لیے مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔

یہ مضمون اس سے پہلے ییل انیوائرنمنٹ 360 کے ایک شمارے میں شائع ہو چکا ہے اور یہاں ہم ادارے کی اجازت سے اسے دوبارہ شائع کر رہے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *