’احمد شہزاد 90 رنز کے فرق سے سنچری نہ بنا سکے‘

پاکستان سپر لیگ فائیو کے 18ویں میچ میں ایک بار کی فاتح پشاور زلمی نے دفاعی چیمپئین کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو باآسانی 30 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی امیدوں کو روشن رکھا ہے۔

بارش کے باعث 15، 15 اوورز تک محدود ہونے والے میچ میں گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کر زلمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو زلمی نے نسیم شاہ کی عمدہ بولنگ کے باوجود جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور شعیب ملک اور حیدر علی کی 54 رنز کی شراکت نے ان کو بڑا سکور بنانے کا موقع دے دیا۔

دیگر بلے بازوں نے بھی اننگز میں رنز بنانے کی اوسط کم نہ ہونے دی اور محمد حسنین کی چار وکٹوں کے باوجود 15 اوورز کے اختتام پر گلیڈی ایٹرز کو جیت کے لیے 171 رنز کا ہدف ملا۔

اننگز بریک میں تو سوشل میڈیا پر صرف حیدر علی کے ہی گن گائے جا رہے تھے لیکن گیلڈی ایٹرز کی جانب سے ہدف کے تعاقب کے دوران احمد شہزاد کی سست بیٹنگ، بین کٹنگ کے آؤٹ ہونے پر امپائر کا متنازع فیصلہ اور کامران اکمل کا ایک آسان کیچ ڈراپ کرنا سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔

کوئٹہ کی ٹیم مقررہ 15 اوورز میں 140 رنز ہی بنا سکی تاہم اکثر سوشل میڈیا صارفین نے اس شکست کا ذمہ دار احمد شہزاد اور بین کٹنگ کے حوالے سے متنازع نو بال فیصلے کو قرار دے رہے ہیں۔

بین کٹنگ اور نو بال تنازع

ہدف کے تعاقب میں جب کوئٹہ کی ٹیم شدید مشکلات کا شکار تھی اور اسے جیت کے لیے 27 گیندوں پر 72 رنز درکار تھے ایسے میں جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے بین کٹنگ ہی ان کی آخری امید تھے۔

تاہم جب وہ وہاب ریاض کی گیند پر 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو امپائر نے نو بال دیکھنے کے لیے تھرڈ امپائر سے مدد مانگی۔

امپائر کے لیے یہ فیصلہ دینا یقیناً انتہائی مشکل تھا کیونکہ ایک زاویے سے یہ نو بال لگتی تھی اور دوسرے زاویے سے ایسا لگتا تھا کہ وہاب ریاض کا پاؤں کریز سے تھوڑا پیچھے ہے۔ ایک طویل دورانیے کے بعد تھرڈ امپائر نے فیصلہ کیا کہ یہ نو بال نہیں ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

بین

ایک صارف نے لکھا کہ جب پاؤں لائن پر ہو تو پھر یہ امپائر کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ آؤٹ دے یا نہیں دونوں فیصلے درست ہوتے ہیں۔

بین

تاہم ٹی وی پر دکھائے جانے والے ری پلیز میں جب ایک تیسرا زاویہ دکھایا جاتا ہے تو اس میں بین کٹنگ نان سٹرائکر اینڈ پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دراصل براڈ کاسٹر سے ایک تکنیکی غلطی ہوئی تھی اور وہ اس سے پچھلی گیند کا ری پلے دکھا بیٹھے جس پر سوشل میڈیا پر تنقید ہوئی۔

تاہم حتمی فیصلہ دینے سے قبل امپائر پہلے دو زاویوں کا جائزہ لیتے دکھائی دیے۔

بین

’احمد شہزاد 90 رنز کے فرق سے سنچری نہ بنا سکے‘

احمد شہزاد جو پی ایس ایل میں اس سے قبل بھی کوئٹہ کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ بھی کرتے رہے ہیں، آج کل بری فارم کا شکار ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ پچھلے چند میچوں میں احسان علی کو ان کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

تاہم وہ بھی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے جس کے بعد آج کے میچ میں احمد شہزاد کی ٹیم میں واپسی ہوئی۔

احمد شہزاد کی سست بیٹنگ کو گلیڈی ایٹرز کی یقینی ہار کی وجہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ انھوں نے 17 گیندوں پر 10 رنز بنائے اور جیسن رائے پر اس وجہ سے دباؤ بڑھ گیا اور وہ 45 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

ٹویٹ

اس پر سوشل میڈیا پر احمد شہزاد کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک صارف نے لکھا کہ سر احمد شہزاد 90 رنز کے فرق سے سنچری نہ بنا سکے۔

ٹویٹ

کرکٹ پر تجزیے اور تبصرے کرنے والی ویب سائٹ کرک واز کے مطابق احمد شہزاد نے اس سیزن میں کوئٹہ کے لیے 54 گیندوں پر 52 رنز بنائے جو کوئٹہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

ٹویٹ

کامران اکمل نے ایک آسان کیچ چھوڑ دیا

کامران اکمل اس ٹورنامنٹ میں جہاں اپنی عمدہ بیٹنگ کے باعث خبروں کا حصہ رہے ہیں وہیں ان کی بری کیپنگ بھی موضوعِ بحث رہی ہے۔ پچھلے میچ میں بھی انھوں نے ایک آسان کیچ چھوڑا تھا اور اس میچ میں بھی کامران اکمل نے سہیل خان کا آسان کیچ ڈراپ کردیا۔

کامران اکمل

اس کیچ کے ڈراپ ہونے سے زیادہ فرق اس لیے نہیں پڑا کیونکہ کوئٹہ کی میچ میں واپسی ناممکن تھی لیکن ایسے آسان کیچ عام طور پر وکٹ کیپرز کے لیے مسئلے کا باعث نہیں ہوتے۔

سوشل پر صارفین بھی جیسے کسی موقعے کی تلاش میں تھے۔

کامران اکمل

ایک صارف نے ڈرامہ میرے پاس تم ہو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کامران اکمل اور کیچ ڈراپ کرنا میرے پاس تم ہو سے محبت کی بہتر داستان ہے۔

کامی

ایک صارف نے لکھا کہ جب ان کی ٹیم ایک اچھی پوزیشن میں بھی ہو تب بھی کامران اکمل بلنڈر کرنے سے باز نہیں آتے۔

کامی

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تعاقب کی کہانی

زلمی کے کپتان وہاب ریاض کی جانب سے پھینکے گئے پہلا اوور میں دو چوکوں کی مدد سے گلیڈی ایٹرز نے 14 رنز حاصل کیے۔

راحت علی نے اننگز کا دوسرا اوور کرایا لیکن اس میں بھی جیسن رائے نے دو چوکے لگائے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو تیز آغاز دیا۔

اننگز کے پانچویں اوور میں حسن علی نے ایک چوکا کھایا مگر دو گیند بعد بدلہ لینے میں کامیاب ہوگئے جب انھوں نے واٹسن کو 19 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

کرکٹ
جیسن رائے نے 45 رنز بنائے

جیسن رائے نے دوسری جانب اپنے تیز بیٹنگ جاری رکھی اور پانچ چوکے اور دو چھکے لگائے مگر ان کی بدقسمتی ریی کہ احمد شہزاد کی سست بیٹنگ کا دباؤ ان پر پڑ گیا اور یاسر شاہ کے آٹھویں اوور کی آخری گیند پر وہ 45 رنز بنا کر بولڈ ہو گئے۔

کپتان وہاب ریاض کے 11ویں اوور نے میچ زلمی کے حق میں کر دیا جب انھوں نے پہلے احمد شہزاد اور اگلی ہی گیند پر خطرناک بین کٹنگ کو آؤٹ کر دیا۔

یہی سلسلہ جاری رہا اور نتیجتاً کوئٹہ 99 پر تین آؤٹ سے 119 پر سات کھلاڑی گنوا بیٹھے۔

کرکٹ
شعیب ملک نے لگاتار دوسری ففٹی بنائی

زلمی کی برق رفتار بیٹنگ

پشاور زلمی کی اننگز میں شعیب ملک اور حیدر علی نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے نصف سنچری کی شراکت قائم کی اور اس نے زلمی کو بڑا سکور حاصل کرنے کا پلیٹ فارم دیا۔

اننگز کے مرکزی کردار شعیب ملک نے ٹورنامنٹ میں لگاتار دوسری نصف سنچری بنائی اور ان کے علاوہ حیدر علی، کامران اکمل اور لوئیس گریگوری نے برق رفتار بیٹنگ کر کے زلمی کو بڑے سکور تک پہنچایا۔

گلیڈی ایٹرز کی جانب سے محمد حسنین ایک بار پھر سب سے کامیاب بولر رہے اور تین اوورز میں 34 رنز کے عوض چار وکٹیں لیں۔ گلیڈی ایٹرز کو دھچکہ نسیم شاہ کی انجری سے لگا جنھوں نے دو اوورز میں صرف چھ رنز دیے مگر انھیں میدان سے باہر جانا پڑا۔

ان کے باقی تمام بولرز نے 11 رنز فی اوور کی اوسط سے زیادہ سکور دیا اور بین کٹنگ اور سہیل خان نے بالترتیب 30 اور 38 رنز دیے۔

کرکٹ
جمعرات کو ہونے والے میچ کے بعد ٹورنامنٹ کا پوائنٹس ٹیبل

حیدر علی کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی شعیب ملک نے جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور 11ویں اوور میں مجموعی طور پر 17 رنز حاصل کیے۔

ٹائمل ملز نے 12واں اوور کرایا جس میں شعیب ملک نے دو چوکے سمیت 14 رنز حاصل کیے اور اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی۔

اس ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بولر محمد حسنین نے اننگز کا 13واں اوور پھینکا جس میں لوونگسٹون نے ایک چوکا ضرور لگایا لیکن اگلی گیند پر وہ آؤٹ بھی ہو گئے۔ اس کے بعد شعیب ملک نے بھی ایک اور چوکا لگایا مگر آخری گیند پر حسنین نے یارکر کرا کر انھیں 54 کے سکور پر بولڈ کر کے اپنی چوتھی وکٹ حاصل کر لی۔

بین کٹنگ نے 14واں اوور کرایا جس میں وہ ڈاوسن کی وکٹ لینے میں کامیاب تو ہوئے مگر گریگوری اور حسن علی کے چھکوں کی وجہ سے اوور میں 19 رنز دے بیٹھے۔ انھوں نے ایک نو بال بھی کرائی تھی جس کا انھیں خمیازہ بھگتنا پڑا۔

کرکٹ
کامران اکمل 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے

نسیم شاہ پہلے ہی اوور میں بدقسمت رہے جب ان کی چوتھی گیند پر امام الحق کا سلپ میں شین واٹسن نے آسان کیچ گرا دیا۔

سہیل خان دوسرا اوور کرانے آئے جس میں ان کو دو چوکے لگے لیکن وہ امام الحق کی وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے جو سات رنز پر کیچ ہو گئے۔

نسیم شاہ اور حیدر علی کے درمیان تیسرے اوور میں اچھا مقابلہ دیکھنے میں آیا جب حیدر نے پہلی گیند پر چوکا لگایا لیکن اگلی گیندوں پر نسیم حاوی رہے۔

محمد حسنین پانچواں اوور کرانے آئے تو کامران اکمل نے کرارا چھکا لگا کر ان کا استقبال کیا۔ دوسری گیند پر بھی انھوں نے ایک اور چھکا لگایا لیکن لگاتار تیسری بار کی کوشش کرنے میں وہ جیسن رائے کے ہاتھوں 23 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

آٹھویں اوور میں محمد نواز کی زلمی کی بلے بازوں نے کافی پٹائی کی جس میں شعیب ملک کا 99 میٹر لمبا چھکا، اور اس کے بعد حیدر علی نے دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے ایک چھکا اور دو چوکے لگا کر اوور میں مجوعی طور پر 22 رنز حاصل کیے۔

کرکٹ
پشاور زلمی کے مطابق ڈیرن سیمی ٹیم کی کپتانی نہیں کریں گے البتہ انھیں اگلے دو سال کے لیے کوچ بنانے کا اعلان کیا ہے

ڈیرن سیمی کا کپتانی چھوڑنے کا اعلان

دوسری جانب میچ سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے میچ کے آغاز سے قبل اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خراب فارم اور فٹنس کے باعث اب ٹیم کی قیادت نہیں کریں گے اور ان کی جگہ وہاب ریاض بقیہ ٹورنامنٹ میں پشاور کی کپتانی کریں گے۔

پشاور زلمی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی پیغام جاری کیا گیا کہ ڈیرن سیمی اب اگلے دو سال ٹیم کے کوچ رہیں گے جبکہ موجودہ بولنگ کوچ محمد اکرم اب ڈائریکٹر کرکٹ کا عہدہ بھی سنبھالیں گے۔

ٹورنامنٹ میں ان دونوں ٹیموں کا ایک بار پہلے سامنا ہو چکا ہے جب کراچی میں کھیلے گئے میچ میں پشاور زلمی نے کامران اکمل کی سنچری کی مدد سے گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔

ٹورنامنٹ اب اپنے دوسرے ہاف میں داخل ہو گیا ہے اور ہر میچ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ زلمی کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف میچ شروع ہو بلکہ وہ اس میں کامیابی بھی حاصل کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *