’اگر عاصم باجوہ صفائی نہ دے سکے تو لوگ سوچیں گے احتساب جانبدار ہے‘

وزیرِاعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے جمعرات کی شام ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے تاہم وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

عاصم باجوہ نے یہ اقدام اپنے اوپر لگائے جانے والے اُن الزامات کے پس منظر اٹھایا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کے کاروبار کی تفصیلات بطور مشیرِ اطلاعات اپنے جاری کیے گئے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیں۔

حال ہی میں صحافی احمد نورانی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عاصم باجوہ اور ان کے خاندان کے مالی وسائل میں اضافہ عاصم باجوہ کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا۔

تاہم عاصم باجوہ نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ جمعرات کی شام انھوں نے تفصیلی پریس ریلیز میں اپنے پر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب دیا ہے۔

تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے جس میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عاصم باجوہ کی جانب سے صرف استعفیٰ دیا جانا ناکافی ہے حکام کو ان کی مزید تفتیش کرنی چاہیے۔ دوسری جانب عاصم باجوہ کے حامیوں کی بھی کمی نہیں ہے جو کہ ان کے جواب کو کافی مان رہے ہیں۔

صارف عادل انجم نے سوال اٹھایا ہے کہ جنرل عاصم کی وضاحت کے مطابق ان کے بیٹوں کی کمپنیاں منافع کیوں نہیں دکھا رہیں اور کہیں وہ شیل کمپنیاں تو نہیں ہیں۔

صارف سندھو نواز کا کہنا تھا تھا کہ کیا ایک ایسا شخص جس کی ساکھ کے بارے میں سوال اٹھے ہیں، سی پیک اتھارٹی کا سربراہ رہ سکتا ہے؟

صارف رانا رمیض رضا کے خیال میں یہ استعفیٰ ایک طاقتور شخص کے خلاف عوامی دباؤ کی ایک مثال اور کامیابی ہے۔

عالیہ زہرا کہتی ہیں کہ اگر عاصم باجوہ کرپشن کے الزامات کے حوالے سے مکمل صفائی نہ دے سکے تو اس خیال کو فوقیت ملے گی کہ ملک میں احتساب کی کوششیں جانبدار ہیں۔

مگر دوسری جانب جنرل عاصم باجوہ کے حامیوں نے بھی سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی ہے۔

ایک صارف نعمان سرور نے اس معاملے کو سی پیک کے ساتھ جوڑا اور دعویٰ کیا کہ جب بھی سی پیک میں تیزی آتی ہے تو پاکستانی میڈیا سی پیک حکام پر حملے شروع کر دیتا ہے۔

جہانزیب ورک کے لیے عاصم باجوہ کی جانب سے دی گئی وضاحت مکمل اور کافی رہی۔

عاصم سلیم باجوہ کون ہیں؟

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق جنرل عاصم سلیم باجوہ پاکستانی فوج میں ایک نہایت زیرک افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بریگیڈیئر کے طور پر ٹرپل ون بریگیڈ، منگلا کور میں چیف آف سٹاف، بطور میجر جنرل جی او سی ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر جنوبی وزیرستان میں تعینات رہے۔

وہ مئی 2012 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر تعینات ہوئے اور دسمبر 2016 تک اسی عہدے پر رہے۔

آئی ایس پی آر میں وہ پہلے تھری سٹار افسر تھے جنھوں نے اس عہدے پر تقریباً سوا سال خدمات سرانجام دیں۔

کچھ مدت کے لیے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں آئی جی آرمز تعینات کیا جس کے بعد وہ بطور کور کمانڈر سدرن کمان تعینات ہوئے۔

ان کے کریڈٹ پر آرمی پبلک سکول حملے کے بعد میڈیا منیجمنٹ کو خود فوج میں بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انھیں سی پیک اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا اور اب انھیں معاون خصوصی کا درجہ دیا گیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.