دور کی کوڑی!

کیا بات ہے مولانا آپ آج کچھ پریشان نظر آ رہے ہیں۔

پریشانی کی بات تو ہے آپ نہیں جانتے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟

یہ تو آپ صحیح کہتے ہیں۔لاقانونیت ہے آئین کی بے حرمتی ہو رہی ہے ۔ بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کے الزام میںپکڑا جا رہا ہے،کشمیر پر لچک دکھاتے ہوئے انڈیا نےاسے اپنے ملک کا حصہ قرار دے دیا ہے ۔ایٹمی پروگرام پر سوالیہ نشان نظر آ رہا ہے، امریکہ کے احکامات مانتے مانتے اس کی ذیلی ریاست بنتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے غریب عوام کا کچومر نکال دیا ہے ،کیبل پر واہیات موضوعات پر ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں۔بازار میں مکمل عریاں رقص پر مبنی سی ڈیز کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں اور ہماری حکومت صورتحال سے چشم پوشی کر رہی ہے۔ آپ کی پریشانی واقعی قابل فہم ہے۔

یہ آپ بات کو کدھر لے گئے میں تو لڑکیوں کے کرکٹ کھیلنے اور ریس میں حصہ لینے پر پریشان ہوں۔یہ ایک سازش ہے یہ لڑکیوں کو دوڑنے کی پریکٹس کرائی جا رہی ہے تاکہ انہیں گھر سے بھاگنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔

آپ تو واقعی دوراندیش ہیں میرا تو دھیان ہی اس طرف نہیں گیا تھا آپ جیسے دوراندیش لوگ تو شروع میں لڑکیوں کی تعلیم کے بھی خلاف تھے، آپ کہتے تھے اگر وہ لکھنا پڑھنا سیکھ جائیں گی تو ظاہر ہے انہیں خط لکھنا بھی آ جائے گا اور اگر خط لکھنا آ گیا تو وہ لو لیٹر (LOVE Letter}بھی لکھیں گی مگر دیکھ لیں اب تو دیندار طبقے کے لوگ بھی اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں بلکہ انہیں اس مقصد کے لئے مخلوط اداروں میں بھیج رہے ہیں ان میں سے جو لوگ افورڈ کر سکتے ہیں وہ اپنی بچیوں کو معیاری تعلیم کے لئے امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں بھی داخلہ دلاتے ہیں۔

میں اس سلسلے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟

مولانا ایک بات بتائیں!

فرمائیں!

عورت اگر حجاب میںضروری کاموں کےلئے گھر سے نکلے تو اس میں حرج تو کوئی نہیں۔

حرج تو ہے مگر مجبوری ہے۔

آپ کو یاد ہے ایک وقت تھا کہ گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔اگر انہیں کبھی کہیں جانا پڑتا تو پالکی کا بندوبست کیا جاتا ،پالکی کے چاروں طرف چادر تان دی جاتی ،گھر کی ڈیوڑھی سے گلی میں کھڑی پالکی تک بھی پردے کا اہتمام کیا جاتا اور خاتون شٹل کاک برقعے میں چادر کی اس سرنگ سے گزر کر پالکی میں داخل ہوتی مگر اب دیندار سے دیندار طبقے میں بھی یہ اہتمام نہیں کیا جاتا۔

تھوڑا بہت تو زمانے کے ساتھ چلنا ہی پڑتاہے۔

پہلے شٹل کاک برقع اترا پھر فیشن ایبل کالا برقع آیا اس کے بعد برقعے کا صرف نقاب والا حصہ رہ گیا۔

برقعے کا نچلا دھڑ ختم کر دیا گیا اس کے بعد چادر آئی، چادر کے بعد دوپٹہ آیا ، دوپٹہ سر سے اتر کر گلے میں آیا اور اب !

میں جانتا ہوں یہ تبدیلیاں زمانے کے ساتھ آئی ہیں اور ہم لوگ یہ سب تقریباً ہضم کر چکے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ اسلام میں تصویر حرام تھی۔

اب بھی حرام ہے۔

مگر کسی ایک عالم دین کا نام بتائیں جو تصویر نہ اترواتا ہو، یا ٹی وی پر آنے کا خواہشمند نہ ہو!

خصوصی حالات میں اس کی اجازت ہے۔

مگر شروع میں خصوصی حالات کی چھوٹ کیوں نہیں دی گئی۔

اب حالات کی مجبوری ہے۔

شروع میں لائوڈ اسپیکر بھی حرام تھا۔

ہاں مجھے علم ہے۔

اب تو نماز بھی لائوڈ اسپیکر پر پڑھائی جاتی ہے !

تبلیغ دین کے لئے حالات سے سمجھوتہ تو کرنا ہی پڑتا ہے مگر آپ یہ سب کچھ مجھے کیوں بتا رہے ہیں!

صرف اس لئے کہ آپ شروع میں ہر چیز کی مخالفت کرتے ہیں بعد میں اسے قبول کر لیتے ہیں۔آج آپ کو عورتوں کے کھیل کود پر اعتراض ہے۔ کل جب نیم عریاں لباس میں ریس کا رواج ہو گا تو آپ آج کی حالت پر سمجھوتے کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر عورت مکمل لباس میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔کل کو خدانخواستہ صورتحال اور بگڑی تو آپ نیم عریانی پر راضی ہو جائیں گے۔قبلہ گاہی، یا تو کسی ایک جگہ کھڑے رہیں اور خود بھی اپنے عمل سے نظریئے کی تائید کا ثبوت پیش کریں یا پھر ان معاملات کو اسلام اور کفر کا مسئلہ نہ بنائیں جو فروعی نوعیت کے ہیں۔اسلام کی جو تعبیر آپ کے ذہن میں ہے ضروری نہیں کہ اسلام کی اس تعبیر پر سبھی متفق ہوں۔ویسے بھی جو اسٹینڈ آپ آج لیتے ہیں کل آپ نے اس پر سمجھوتہ کر لینا ہوتا ہے تو پھر کیوں اسلام اور علماء کو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔

اس پر مولانا دور اندیش خاموش ہو گئے ممکن ہے انہیں میری بات سمجھ آ گئی ہو یا ممکن ہے وہ ایک دفعہ پھر دور کی سوچ رہے ہوں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *