رام رام!

ُ جب کوئی’رام رام‘کہتا ہے تو عام طور پر اس کا مطلب ان معنوں میں لیا جاتا ہے کہ کسی نے کوئی کام غلط کیا ہے۔ یعنی ہندو دھرم کے ماننے والے رام رام کہہ کر اس بات یا واقعہ پر افسوس طاہر کرنا چاہتے جس طرح اسلام میں ’استغفراللہ‘ کہنے کا عام رواج ہے۔لیکن آج کل جو رام رام سنا جا رہا اس کی نوعیت کچھ اور ہی ہے۔
اب آپ بھی حیران و پریشان ہو رہے ہوں گے کہ آخر میں سیدھی سیدھی بات کیوں نہیں کر رہا۔ بھئی بات ہی ایسی ہے کہ یہ پورا معاملہ ہے ہی پیچیدہ اور اس کو کو ہم یوں ہی کہہ دیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ بات کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن اس پورے معاملے کو اتنا پیچیدہ بنادیا گیا اور مذہبی جذبات سے جوڑ دیا گیا ہے اور جب سے رام مندر بنانے کی مہم شروع ہوئی ہے تب سے ہندومسلمان کے بیچ ایک گہرا دراڑ پڑ گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس معاملے کے چلتے اب تک ہزاروں لوگوں کی جان بھی لے لی گئیں جس کی وجہ ہندو مسلمان فساد اور نفرت ہے۔اب تو انسانیت کہاں کوئی جاننا یا سننا چاہتا، اب پہلے آپ ہندو یا مسلمان ہیں پھر پاکستانی نواز پھردیکھا جائے گا۔
برطانیہ میں یوپی،بہار، بنگال اور دیگر صوبوں کے ہزاروں لوگ برسوں سے رہائش پزیر ہیں۔ جس کی ایک وجہ ہندوستان کا بٹوارہ تھا،جب لاکھوں بہاری، یوپی اور بنگالی ہندوستان کو چھوڑکر بنگلہ دیش اور پاکستان جانے کے بعد برطانیہ آکر بس گئے۔ ان میں کچھ پروفیشنل ہیں تو بہتوں نے مختلف کارخانوں میں کام کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کیا۔ تاہم ان یوپی، بنگالیوں اور بہاریوں کے دلوں میں اب بھی اپنی اپنی جائے پیدائش کی یاد اور محبت زندہ ہیں۔ لیکن وہیں کافی لوگ مجھ سے اب بھی ایسے سوالات پوچھتے ہیں جس کا میں جواب اس فخریہ انداز میں دیتا ہوں کہ انہیں یوپی، بنگال اور بہار واپس جا کر اپنی جائے پیدائش کو دیکھنے اور جاننے کی تمنا جاگ اٹھتی ہے۔
مجھے برطانیہ میں کافی عرصہ رہنے کے بعد بھی ہندوستان کی عظمت اور شان پر ناز ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کلکتہ میں پلنے اور بڑھنے کی وجہ سے مجھے کلکتہ شہر کی آن و شان پر گفتگو کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے۔یوپی،بنگال اور بہار کے بارے میں اکثر میں فخریہ لوگوں سے تعریف کے پُل باندھتا ہوں اور خاص کر وہاں کے کثیر ثقافتی سماج کے بارے میں دلیل اور جانکاری دیتا ہوں۔ جس سے برطانیہ میں بسنے والے یوپی،بہاری اور بنگالیوں کے اندر امید کی ایک کرن جاگتی ہے۔ان لوگوں سے جب بھی ہماری ملاقات کسی محفل میں ہوتی ہے تو وہ ہم سے یوپی، بنگال اور بہار کے بارے میں مزید حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہیں اور ہماری باتوں سے لطف و اندوز ہوتے ہیں۔
تاہم حال ہی میں برطانیہ کے یوپی، بنگال اور بہار سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں ہندوستان کی مندرمسجد یا فرقہ واریت کی خبروں سے مایوسی اور بے چینی پائی جارہی ہے۔بہت سارے ہندوستانی ٹیلی ویژن کی خبروں کو دیکھ کر لوگوں میں یہ بحث چھِڑ گئی ہے کہ آخر یہ کو نسا ہندوستان بنایا جارہا ہے جہاں رام کا نام بدنام کیا جارہا ہے۔تو وہیں ایک خاص فرقے کے لوگوں کی موت پر بھی افسوس ظاہر کیا جارہا ہے۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ایسے کئی پوسٹ دکھائے جا رہے ہیں جس میں وی ایچ پی،بجرنگ دل اور آرا یس ایس کے رضا کاروں کو یہ کہتے ہوئے پایا جارہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کوکبھی اتنا بے بس اور مجبور نہیں پایا تھا جتنا ہندوستان کے ان واقعات سے پارہاہوں۔شاید اب اگر میں برطانیہ کی محفلوں میں جاؤں تو میرا سران بہاری، یوپی اور بنگالیوں کے سامنے جھکا رہے گا کیونکہ میرے ہندوستان کے نام کو بدنام کیا جارہا ہے۔
پچھلے کچھ برسوں سے ہندوستان کی پُر امن فضا میں کشیدگی کا احساس ہورہا ہے۔ خاص کر بابری مسجد کو جس طرح شہید کیا گیا اور ہندو کارسیوکوں کے جارحانہ رویّے سے ہندوستان کے زیادہ تر ریاستوں میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔ہندو دھرم کے نام نہاد ٹھیکے داروں کا دعوٰی ہے کہ وہ رام مندر وہیں بنائے گے جہاں بابری مسجد تھی۔ تاہم یہ معاملہ اب بھی کورٹ میں پڑا ہو اہے اور اس کے حل ہونے کی کوئی امید اب تک نظر نہیں آرہی ہے۔رام مندر کی تعمیر کرنے کے آڑ میں بی جے پی ہندوئں کے جذبات کو بھڑکا کر زیادہ تر ریاستوں میں اپنی حکومت بنا چکی ہے۔ 2014کے عام چناؤ میں بی جے پی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی تھی اور پورے ملک میں ’ہندو راشٹر‘ بنانے کی مہم تیز کر دی گئی۔2018 کے عام چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی نے ’ہندوراشٹر‘ بنانے کا خواب جو بی جے پی کے سیاستداں برسوں سے دیکھ رہے ہیں اب دھیرے دھیرے اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔

5اگست کو ہندوستانی نیوز ایجنسیوں کے علاوہ دنیا بھر کے ٹیلی ویژن اور اخبارات نے رام مندر کی’بھومی پوجن‘ کو اہم خبروں کے ساتھ جاری کیا۔ اس بھومی پوجن کی اہمیت کی ایک وجہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی تھی۔وہی اپنا ڈھونگی انداز، ناز، نخرہ اکڑ اور بناوٹی ڈائلاگ والی تقریر سے دنیا بھر کے لوگوں کو بیوقوف بنانا۔ بس مت پوچھئے کچھ پل کہ لیے ایسا معلوم ہوا کہ پورا سیٹ سجایا گیا ہے اور موٹابھائی یعنی مودی جی رام کی آڑ میں اپنی نفرت کی سیاسی سر گرمی کو مزید گرم کر رہے ہیں۔خیر بھومی پوجن کا آغاز ’جئے شری رام‘ سے کہہ کر مکمل ہا اور دنیا والوں کو اب یقین ہوگیا کہ رام مندر بننا طئے ہے۔
لیکن 5اگست 2019 کو ہی کشمیر کے لوگوں کو اس وقت صدمہ پہنچا تھا جب وہاں کرفیو نافذ کر کے آئین 370 ختم کر دیا گیا۔تب سے کشمیریوں کو مہینوں گھروں میں بند رکھا گیا اور انسانی حقوق کا گلا گھونٹا جا رہا ہے جو کہ ایک نہایت شرمناک اور تکلیف دہ بات ہے۔ اس سے تکلیف دہ بات یہ ہوئی کہ ہندوستانی حکومت کی اس زیادتی پر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی جو کہ جمہوریت کے حامی اور دفاع کرنے والوں کے لیے ایک شدید دھچکا ہے۔آج بھی کشمیر معمول پر نہیں آیا ہے اور اب بھی کئی لیڈران اور عام لوگ ہندوستانی فوج کی زیادتی سے سہمے ہوئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا کہ رام مندر کی بھومی پوجن کادن 5اگست تعین کرنا کہیں کشمیر جیسے معاملات کو چھپانا ہو۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں کورونا وائرس سے مرنے والا کا کوئی پرسانِ حال ہی نہیں۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ رام کا جنم تو کئی سو سال پہلے ہوا تھا اور اس سے قبل کئی ہندو راجہ گزرے ہیں جن کے کارنامے اور عمارتوں کو دیکھ کر اور انہیں تاریخ میں پڑھ کر حیرانی یہ ہو رہی کہ وہ راجہ رام کو مانتے ہوئے بھی رام مندر اس وقت بنانے میں کیوں ناکام رہے؟ ہے نا عجیب بات! بھائی ان کے پاس تو سب کچھ تھا طاقت دولت، فوج اور لوگ، تو پھر رام کی مندر کو تعمیر کرنے میں کونسی رکاوٹ تھی۔پھر رام کی مندر کیوں اتنی معمولی تھی کہ بابر نے اسے توڑ کر مسجد بنا دی؟ہے نا یہ تمام باتیں پیچیدہ۔ شاید میری طرح آپ بھی اپنا سر کھجا رہے ہوں گے۔
تو اس کا مطلب یہی نکلتا کہ کٹر پسند ہندؤں نے ہندوستان پر حکومت کرنے کے لیے خاص مسلمانوں کو نشانہ بنایا کیونکہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ اگر انہیں ہندوستان پر حکومت کرنی ہے تو عوام ان احمقوں کی بات پر انہیں منتخب نہیں کرییں گے۔ اسی لیے ان لوگوں نے اسّی کی دہائی میں رام مندر تحریک کو ہوا دی اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہندوستان کی اچھی خاصی آبادی بھوک، ناانصافی، غربت اور پریشانیوں سے بے حال، مٹھی بھر کٹر پسند ہندو حکنراں کے ہاتھوں کھلونا بنے بہلائے جا رہے ہیں۔
رام کے اس دیش کو رحیم،بدھ، جین، گرونانک، اور کئی ایسے سادھو،سنت، پیر اور پیغمبروں نے اپنایا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور حصّے میں نہیں پائی جاتی ہے۔ہندوستان کے تمام مذاہب کے لوگ برسوں سے آپس میں بھائی چارگی اور امن و سکون سے جی رہے ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں سے آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے لیڈروں نے جس طرح سے ہندوستانی لوگوں میں نفرت کی دیوار کھڑی کی ہے اسے گرانا فی الحال ناممکن دِکھ رہا ہے۔تاہم مجھے ہندوستانی عوام کی امن پسندی اور یکتا پر پورا یقین ہے کہ وہ ہندوستان کو تمام مذہب اور لوگوں کا ملک بنائیں گے اور دنیا پھر ہماری سادگی، ایکتا اور بھائی چارے کی مثال پیش کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *